کراچی میں مزید سڑکوں کی کھدائی، شرجیل میمن نے شہریوں سے پیشگی معذرت کرلی
سندھ کے سینئر صوبائی وزیرشرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ یلو لائن منصوبے کی کھدائی کی وجہ سے سڑکیں کھدنے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہوگا جس پر پیشگی معذرت کرتا ہوں۔
سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے گرین لائن بی آر ٹی کے آپریشنز کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہیں بی آر ٹی نظام کے مختلف پہلوؤں، دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں کے ساتھ انضمام، مسافروں کی تعداد اور مجموعی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر سیکریٹری محکمہ ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ، پراجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن بی آر ٹی کمال دایو اور ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی بہزاد میمن بھی ان کے ہمراہ تھے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ چھ سے آٹھ ماہ کے دوران صوبے کے تمام اضلاع میں سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے، تاکہ ہر علاقے کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آسکیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا ہے اور اس سلسلے میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ہر منصوبے کا متعلقہ پراجیکٹ مینیجر اپنے شعبے میں کام کر رہا ہے۔
گرین لائن بی آر ٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ سال کے دوران سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نمایاں کام ہوا ہے۔ اس میں الیکٹرک اسکوٹیز، پاکستان کی پہلی الیکٹرک بسیں اور پنک بسیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گرین لائن بی آر ٹی پہلے سے تعمیر شدہ تھی، لیکن اس میں خواتین کے لیے مخصوص بسوں کی سہولت موجود نہیں تھی۔ خواتین جب پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہیں تو انہیں مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جب خواتین کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور والدین بھی اپنی بچیوں کو تعلیم اور دیگر ضروریات کے لیے باہر بھیجتے ہوئے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ سندھ حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
گرین لائن بی آر ٹی پر مسافروں کی تعداد کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اعداد و شمار محض بیان دینے کے لیے پیش نہیں کیے جاتے۔ جب گرین لائن وفاقی حکومت کے پاس تھی تو اس پر روزانہ تقریباً 50 ہزار مسافر سفر کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے اس نظام کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنی حکمتِ عملی مرتب کی، محنت کی اور محکمہ ٹرانسپورٹ کی پوری ٹیم نے اس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے کام کیا۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج گرین لائن بی آر ٹی پر روزانہ تقریباً 90 ہزار مسافر سفر کر رہے ہیں۔ اگر وہ 90 ہزار مسافروں کا دعویٰ کر رہے ہیں تو اس کی بنیاد اعداد و شمار اور کارکردگی پر ہے۔ وہ محض پریس بیان دینے کے لیے غلط اعداد و شمار پیش نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا اور دیگر حلقوں کو بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ وہی انفرااسٹرکچر پہلے وفاقی حکومت کے پاس تھا، جب روزانہ تقریباً 50 ہزار مسافر سفر کرتے تھے، لیکن سندھ حکومت نے ایک سال کے اندر مسافروں کی تعداد کو تقریباً دوگنا کر دیا۔ یہ فرق حکومتی عزم، بہتر حکمتِ عملی اور مسلسل محنت کے باعث ممکن ہوا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر اور اس کے روٹ کے ساتھ ساتھ دیگر بی آر ٹی منصوبوں کو باہم جوڑنا بھی ضروری ہے جس کے لیے ریڈ لائن اور یلو لائن کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے، تاکہ تمام بی آر ٹی منصوبوں کے درمیان سفری رابطہ قائم ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبہ یہ ہے کہ اورنج لائن کو گرین لائن کے ساتھ، گرین لائن کو ریڈ لائن کے ساتھ اور یلو لائن کو بھی ریڈ لائن کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ اس انضمام سے مسافروں کو ایک نظام سے دوسرے نظام میں منتقل ہونے اور اپنی منزل تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ یلو لائن کے مختلف حصوں، پلوں اور دیگر تعمیراتی کاموں پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ ان منصوبوں کو جلد مکمل کرکے ان کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے، تاکہ کراچی کے شہریوں کو ایک مربوط، جدید اور مؤثر سفری نظام فراہم کیا جا سکے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی منصوبے اور ڈیپو کی تعمیر کے حوالے سے ابھی سڑکوں کی کھدائی ہوگی جس سے کورنگی صنعتی ایریا میں ٹریفک کا نظام متاثر ہوگا اور شہریوں کو ایک سال کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر اس تکلیف اور قربانی کے ثمرات آنے والی نسلوں کیلیے ہوں گے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلے والے تجربے کے بعد ہم بہت زیادہ محتاط ہوگئے ہیں اور ابھی سے یوٹیلیٹیز کی منتقلی کے لیے اداروں کو فنڈز فراہم کردیے ہیں مگر شکایات آئیں گی تو اس پر شہریوں سے پیشگی معذرت کرتا ہوں جبکہ ہم نے ریڈ لائن بی آر ٹی میں پہنچنے والی تکلیف پر بھی معذرت کی تھی۔