ڈگری، دسترخوان اور دیارِ غیر

پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کا توازن بھی چاہیے، ہنرمند افرادی قوت کے لیے مواقع بھی اور خاندانوں کے لیے مناسب غذا بھی

پاکستان کا تعلیم یافتہ نوجوان آج ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار، باوقار زندگی اور محفوظ مستقبل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ بڑھتا معاشی دباؤ، سکڑتا دسترخوان اور بیرونِ ملک روانگی کی خبریں ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہیں: کیا ہماری معاشی ترجیحات نوجوانوں کی امیدوں کو عملی امکانات میں بدلیں گی؟

یہ صورتِ حال محض اعدادوشمار کا معاملہ نہیں، بلکہ ان خاندانوں کی کہانی ہے جنہوں نے تعلیم کو خوشحالی کا راستہ سمجھا، مگر اب مہنگائی، کم اجرت اور غیر یقینی روزگار کا سامنا کر رہے ہیں۔ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ شہریوں کو عزت، تحفظ اور یکساں مواقع دینا ہے۔

پاکستان کے معاشی حالات کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی تین خبریں کافی ہوتی ہیں۔ پہلی خبر بتاتی ہے کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ گیا؛ دوسری اطلاع دیتی ہے کہ ہزاروں تعلیم یافتہ پاکستانی روزگار کے لیے بیرونِ ملک چلے گئے؛ تیسری خبر بھوک اور غذائی قلت کی سنگین صورتِ حال سامنے رکھتی ہے۔ بظاہر یہ الگ موضوعات ہیں، لیکن عام شہری کی زندگی میں ان کا تعلق روزگار، آمدنی اور دسترخوان سے جڑتا ہے۔ ان کے درمیان کھڑا نوجوان پوچھتا ہے۔ اگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی باوقار زندگی میسر نہیں تو اس کی محنت اور ریاست کے وعدوں کا حاصل کیا ہے؟

ستمبر 2026 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ اگست میں یہ سات کروڑ 30 لاکھ ڈالر تھا۔ یوں ماہانہ اضافہ تقریباً 388 فیصد بنتا ہے۔ عدد بڑا اور تشویش پیدا کرنے والا ہے، مگر ذمے دارانہ تجزیہ یہ بھی تقاضا کرتا ہے کہ بتایا جائے: یہ اضافہ نسبتاً کم ابتدائی خسارے کے مقابلے میں ہوا ہے۔ صرف ایک ماہ کی تبدیلی پوری معیشت کا حتمی فیصلہ نہیں، تاہم بیرونی ادائیگیوں اور وصولیوں میں بڑھتا عدم توازن معاشی پالیسی کے سامنے سنجیدہ سوال ضرور رکھتا ہے۔

عام نوجوان کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ ایک مشکل معاشی اصطلاح ہو سکتی ہے، لیکن اس کے لیے اصل سوال انتہائی سادہ ہے۔ ملازمت کب ملے گی اور تنخواہ سے گزارا کیسے ہوگا؟ بیرونی مالی دباؤ اگر کرنسی، درآمدی لاگت اور کاروباری فیصلوں پر منتقل ہو تو روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ البتہ ہر مہنگی چیز اور ہر بے روزگار فرد کو اسی خسارے کا براہِ راست نتیجہ کہنا درست نہیں۔ مسئلہ وسیع ہے۔ پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، پالیسی کا تسلسل اور ایسی معاشی سرگرمی جس کے فوائد گھرانوں تک پہنچیں۔

اسی پس منظر میں دوسری خبر زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے۔ پارلیمان میں پیش کردہ دستاویزات سے متعلق اطلاعات کے مطابق 2026 میں اب تک 15 ہزار 850 اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کے لیے گئے۔ گزشتہ برس یہ تعداد 28 ہزار 726 اور 2024 میں 45 ہزار 830 تھی۔ موجودہ سال کے اعداد نامکمل مدت کے ہیں، اس لیے ان سے ہجرت کی رفتار بڑھنے یا گھٹنے کا قطعی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا۔ تاہم یہ اعداد ملک کے اندر پیشہ ورانہ مواقع اور قابلِ اعتماد مستقبل کی دستیابی پر غور کا تقاضا ضرور کرتے ہیں۔

ان روانگیوں میں ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ اور دوسرے پیشہ ور افراد شامل ہیں۔ ہر جانے والا بے روزگار نہیں ہوتا اور ہر بیرونِ ملک ملازمت مستقل ہجرت بھی نہیں ہوتی۔ کوئی بہتر تنخواہ، کوئی تخصص، کوئی بچوں کی تعلیم اور کوئی پیشہ ورانہ ترقی کے لیے جاتا ہے۔ اس لیے ان اعداد کو نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بنا کر پیش کرنا غلط ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنے تعلیم یافتہ شہریوں کو کس معیار کی ملازمت، کس حد تک پیشہ ورانہ احترام اور کتنی معاشی پیش بینی فراہم کرتا ہے؟

بیرونِ ملک جانے والے نوجوان کو حب الوطنی کا سبق دینا آسان ہے؛ اس کے لیے قابلِ عمل مستقبل بنانا مشکل۔ جس خاندان نے تعلیم کے اخراجات اٹھائے ہوں، اس کے سامنے ڈگری کے بعد آمدنی کی ضرورت بھی کھڑی ہوتی ہے۔ نوجوان صرف اپنی خواہشات کا بوجھ نہیں اٹھاتا؛ والدین کے علاج، بہن بھائیوں کی تعلیم اور گھر کے خرچ کی ذمہ داری بھی محسوس کرتا ہے۔ ایسے میں بہتر روزگار کا انتخاب اخلاقی جرم نہیں۔ ریاست کی کامیابی یہ ہوگی کہ ملک میں رہنا بھی معاشی طور پر معقول اور باعزت انتخاب بن سکے۔

بے روزگاری کی بحث صرف ملازمت ملنے یا نہ ملنے تک محدود رکھنا بھی ناکافی ہے۔ کم اجرت، غیر یقینی معاہدہ، مہارت سے غیر متعلق کام اور ترقی کے محدود امکانات بھی نوجوان کی زندگی تنگ کرتے ہیں۔ کوئی شخص ملازم ہونے کے باوجود مستقل مالی اضطراب میں رہ سکتا ہے۔ جب رہائش، آمدورفت، خوراک اور علاج کے بعد بچت ممکن نہ رہے تو مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل ہو جاتی ہے۔ معیارِ زندگی کا مطلب محض زیادہ خریداری نہیں؛ محفوظ رہائش، مناسب غذا، آرام اور بیماری کے وقت معاشی تحفظ بھی ہے۔

یہیں تیسری خبر ہمارے سامنے آتی ہے۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 میں پاکستان کا اسکور 25.5 ہے، جو بھوک کی سنگین سطح کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2000 میں یہی اسکور 36.2 تھا؛ لہٰذا طویل مدت کی بہتری کو تسلیم کرنا چاہیے۔ مگر بہتری کا اعتراف موجودہ محرومی سے نظریں چرانے کا جواز نہیں۔ یہ اشاریہ غذائی کمی، بچوں کی نشوونما اور بچوں کی اموات سے متعلق مختلف پیمانوں کو یکجا کرتا ہے۔ اسے محض خوراک کی دستیابی یا بازار میں اجناس کی مقدار کا پیمانہ سمجھنا ادھوری تعبیر ہوگی۔

بازار میں خوراک موجود ہونا اور گھر کی استطاعت میں ہونا دو الگ حقیقتیں ہیں۔ محدود آمدنی والا خاندان پہلے ضروری بل ادا کرے تو ممکن ہے غذا کے معیار پر سمجھوتا کرنا پڑے۔ پیٹ بھرنا ہمیشہ مناسب غذائیت حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ یوں روزگار اور غذائی تحفظ کی بحث ایک دوسرے سے ملتی ہے: قابلِ اعتماد آمدنی گھرانے کو بہتر انتخاب کی گنجائش دیتی ہے، جبکہ مسلسل معاشی دباؤ اس گنجائش کو محدود کرتا ہے۔ کمزور گھرانوں کے لیے سماجی تحفظ اس لیے محض امدادی سرگرمی نہیں، زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔

ان تین خبروں کو ایک ہی وجہ کا نتیجہ قرار دینا سادہ کاری ہوگی، لیکن انہیں ایک ساتھ پڑھنے سے پالیسی کی ترجیحات واضح ہوتی ہیں۔ پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کا توازن بھی چاہیے، ہنرمند افرادی قوت کے لیے مواقع بھی اور خاندانوں کے لیے مناسب غذا بھی۔ ایسی معاشی کامیابی نامکمل ہے جس کے اعلان کے باوجود نوجوان کی آمدنی غیر یقینی اور گھر کا دسترخوان محدود رہے۔ ترقی کی جانچ میں یہ سوال شامل ہونا چاہیے کہ کتنی باوقار ملازمتیں پیدا ہوئیں، حقیقی اجرت میں کیا تبدیلی آئی اور بنیادی ضروریات تک رسائی کتنی بہتر ہوئی۔

حکومت کی پہلی ذمے داری روزگار کے وعدوں کو قابلِ جانچ اقدامات میں بدلنا ہے۔ سرکاری بھرتیوں میں شفافیت، خالی آسامیوں کے بارے میں واضح معلومات اور میرٹ کی قابلِ اعتماد نگرانی ضروری ہے۔ نجی شعبے کے لیے ایسا ماحول چاہیے جس میں کاروبار پیداوار اور توسیع کی منصوبہ بندی کر سکیں۔ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو سہولت دینا اسی وقت بامعنی ہوگا جب اس کے ساتھ کارکنوں کے حقوق اور اجرت کے تقاضے بھی ملحوظ رہیں۔ نوجوان کو صرف اپنا کاروبار شروع کرنے کا مشورہ دینا کافی نہیں؛ ہر شخص سرمایہ، منڈی اور خطرہ برداشت کرنے کی یکساں صلاحیت نہیں رکھتا۔

جامعات اور صنعت کا تعلق بھی رسمی معاہدوں سے آگے بڑھنا چاہیے۔ نصاب، عملی تربیت، معاوضے کے ساتھ انٹرن شپ اور پیشہ ورانہ رہنمائی کو مربوط کیا جائے۔ ڈیجیٹل روزگار کے لیے قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، ادائیگیوں کی سہولت اور مہارت کی تربیت ضروری ہیں، لیکن ہر نوجوان کو فری لانسر بنا دینے کا نعرہ قومی روزگار پالیسی نہیں بن سکتا۔ زراعت، صنعت، تعلیم، صحت اور خدمات کے شعبوں میں بھی مواقع درکار ہیں۔ ساتھ ہی غذائی تحفظ کے لیے بچوں اور ماؤں کی ضروریات، صاف پانی اور مستحق گھرانوں کی مؤثر مدد کو مستقل ترجیح ملنی چاہیے۔

پاکستانی نوجوان خیرات پر قائم مستقبل نہیں مانگتا؛ وہ اپنی صلاحیت آزمانے کا منصفانہ موقع مانگتا ہے۔ اسے ایسی تنخواہ چاہیے جس سے بنیادی ضروریات پوری ہوں اور ایسی ریاست جس کے فیصلوں میں اس کی زندگی نظر آئے۔ معاشی اعداد کی اہمیت اپنی جگہ، مگر ان کی آخری آزمائش شہری کے حالات ہیں۔ ڈگری ہاتھ میں ہو، روزگار غیر یقینی ہو اور دسترخوان سکڑ رہا ہو تو ترقی کا دعویٰ سوالوں سے نہیں بچ سکتا۔ پاکستان کا مستقبل اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کے نوجوان کے لیے اپنے وطن میں باوقار زندگی ایک قابلِ حصول حقیقت بنے گی۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story