اخباری میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا

آج ایک ’’الگورتھم‘‘بھی یہ فیصلہ کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے کہ لاکھوں پوسٹس میں سے آپ کے موبائل کی اسکرین پر سب سے پہلے کیا آئے گا

ایک وقت تھا جب کسی اخبار کی کوئی خبر عوام تک پہنچنے سے پہلے ایک بہت واضح راستہ طے کرتی تھی۔ رپورٹر خبر لکھتا، نیوز ایڈیٹر اسے دیکھتا، ایڈیٹر فیصلہ کرتا اور پھر خبر اخبار کے صفحات تک پہنچتی تھی، اگر ریاست کسی خبر کو روکنا چاہتی تو حکم جاری ہوتا، پابندی لگتی اور کبھی پورا اخبار ہی بند ہوجاتا۔اس زمانے میں سنسرشپ کو سمجھنا نسبتاً آسان تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ خبر روکی گئی ہے اور معلوم ہوتا تھا کہ کس نے روکی ہے۔

مثلاً ماضی میں ایک صحافی نے سرکاری دباؤ کے خلاف اداریے کی جگہ خالی چھوڑی تھی، یوں جب صبح اخبار لوگوں نے دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ کیا معاملہ ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی اخبارات میں سنسر کیے گئے مواد کی جگہ خالی چھوڑنے کی واضح مثالیں ملتی ہیں۔ سنسر کیے گئے مواد کی جگہ خالی چھوڑنا پریس کی حالت ظاہر کرنے کا ایک طریقہ تھا۔

 بہر حال اب میڈیا ایک انقلابی دور میں داخل ہوگیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا سے دنیا ہی بدل گئی ہے۔روایتی میڈیا میں یہ گیٹ کیپنگ بنیادی طور پر رپورٹر، نیوز ڈیسک، ایڈیٹر اور ادارتی پالیسی کے ذریعے ہوتی تھی۔ آج اس عمل میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور الگورتھم بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آج ہمارے ہاتھ میں اخبار کے بجائے موبائل فون ہے۔ خبر کسی ایک اخبار سے نہیں بلکہ فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ایکس، انسٹاگرام، ویب سائٹس اور دیگر دوسرے ذرائع سے آتی ہے۔

ایک خبر چند سیکنڈ میں پوری دنیا تک پہنچ سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک نیا سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ کیا ڈیجیٹل دور میں سنسرشپ ختم ہوگئی ہے؟سنسرشپ کی ایک پرانی شکل یہ تھی کہ خبر کو شائع ہی نہ ہونے دیا جائے البتہ اب ڈیجیٹل دور میں خبر کو لوگوں تک پہنچنے سے روکنے کے صرف ایک نہیں کئی طریقے اور سبب ہیں۔ ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ خبر موجود ہو مگر لوگوں تک نہ پہنچے۔ اسے ’’سرچ‘‘میں پیچھے کردیا جائے، recommendation بند کردی جائے، اس کی visibility کم کردی جائے یا پھر اس پر مختلف پابندیاں عائد کردی جائیں۔یعنی خبر موجود ہو تی ہے، لیکن نظر نہیں آتی۔

روایتی میڈیا کے دور میں ’’گیٹ کیپنگ تھیوری‘‘ ہمیں بتاتی تھی کہ معلومات کے بہاؤ میں ہمیشہ کچھ دروازے ہوتے ہیں۔ پہلے یہ دروازہ ایڈیٹر وغیرہ کے پاس تھا۔ آج یہ دروازہ مختلف پلیٹ فارم مثلاً مختلف شکلوں میں فیس بک، یو ٹیوب، ایکس، ٹک ٹاک وغیرہ اور الگورتھم کے پاس بھی ہے۔پہلے عموماً ایک ایڈیٹر فیصلہ کرتا تھا کہ اخبار کے صفحہ اول پر کون سی خبر آئے گی۔ آج ایک ’’الگورتھم‘‘بھی یہ فیصلہ کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے کہ لاکھوں پوسٹس میں سے آپ کے موبائل کی اسکرین پر سب سے پہلے کیا آئے گا۔یہ فرق معمولی نہیں۔فرض کریں ایک خبر دس لاکھ لوگوں نے پوسٹ کی، لیکن ’’پلیٹ فارم‘‘ کا ’’الگورتھم‘‘ اسے صرف چند ہزار لوگوں تک پہنچاتا ہے۔

دوسری طرف ایک اور خبر چند ہزار لوگوں نے پوسٹ کی مگر ’’الگورتھم‘‘نے اسے لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیا۔دونوں خبریں technically موجود ہیں، مگر دونوں کی public visibility ایک جیسی نہیں۔information control کے دو راستے ہوسکتے ہیں۔ایک یہ کہ خبر کو خاموش کردیا جائے یاپھر کسی اور خبر کو اتنا پھیلادیں کہ باقی سب کی آواز دب جائے،یوں دونوں صورتوں میں لوگوں کو خبریں آزادانہ طور پر نہیں ملتی ہیں۔اسی طرح Filter Bubble کا تصور بھی سامنے آتا ہے۔

ہم میں سے ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے، وہی دنیا میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہوسکتی ہے کہ ’’الگورتھم‘‘ ہمیں ہماری سابقہ پسند، سرچ، کلکس وغیرہ کے مطابق الگ information environment دکھا رہا ہو یعنی کچھ اور ہی دنیا پیش کر رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں ایک شخص کو پوری دنیا جب ایک طرح کی نظر آتی ہے عین اسی وقت دوسرے شخص کو دوسری طرح کی نظر آتی ہے اور دونوں کو لگتا ہے کہ ’’اکثریت‘‘ ان کے ساتھ ہے اور جو وہ دیکھ رہا ہے حقیقیت بھی وہی ہے۔

Load Next Story