اسرائیلی انتخابات کا منظر نامہ

اسرائیل دنیا کا ایک متنازعہ ترین ملک ہے۔ لیکن پھر بھی عالمی سیاست میں اس کا ایک مقام ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔

msuherwardy@gmail.com

اسرائیل دنیا کا ایک متنازعہ ترین ملک ہے۔ لیکن پھر بھی عالمی سیاست میں اس کا ایک مقام ہے۔ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ اسرائیل کی پالیسیاں خطے پر اثر ڈالتی ہیں۔ اس لیے اسرائیل میں حالیہ 27اکتوبرکو ہونے والے انتخابات عالمی سطح پر کافی توجہ کے حامل ہیں۔ پاکستان میں اس پر کم بات ہوتی ہے۔اسرائیل کے یہ انتخابات ایسے وقت پر ہو رہے ہیں جب اسرائیل کو غزہ جنگ، ایران کے ساتھ جنگ اور لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ پر عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو ساتویں مرتبہ وزارت عظمیٰ حاصل کرنے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ وہ اس سے پہلے چھ مرتبہ اسرائیل کے وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔ لیکن جنگوں سے نبٹنے کے طریقہ کار اور 7اکتوبر 2023کے حماس حملوں سے متعلق سوالات نے ان کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی 120نشستیں ہیں۔ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت کسی ایک جماعت کے لیے 61نشستوں کی اکثریت حاصل کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔

اس لیے ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت بنانے کے لیے بڑی جماعتوں کو چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحاد بنانا ہوگا۔ مقبوضہ مغربی کنارے ، مشرقی یروشلم اور غزہ میں رہنے والے فلسطینیوں کی اکثریت اسرائیلی شہری نہیں ہے۔ اس لیے وہ اسرائیلی انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ اس کے برعکس مقبوضہ علاقوں میں آباد اسرائیلی ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ اسرائیل کے اندر فلسطین کی نمائندگی کرنے والی عرب جماعتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان پر نیتن یاہو کی جانب سے لگائی گئی پابندی ختم کر دی۔ اس لیے اس بار عرب ووٹوں کی شرح بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ببنجمن نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کی ساری سیاست فلسطین ریاست کے قیام کی مخالفت کی بنا پر قائم ہے۔ ان کی سیاست مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی توسیع اور اسرائیل کے مخالفین پر سخت موقف پر رہی ہے۔ غزہ جنگ اور جنگی جرائم کے الزامات پر بین الا قوامی عدالت نے ان کے وارنٹ جاری کیے ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو 7اکتوبر کے حملوں کی تحقیقات کے آزاد سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے قیام کے مخالف ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ میں کامیابی نہ ملنا اور حزب اللہ کے ساتھ لڑائی میں اسرائیلی شہریوں کی نقل مکانی بھی ان کے خلاف مہم میں استعمال ہونے والے نکات ہیں۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی حماس کو غیر مسلح کرنے اور لبنان میں سیکیورٹی زون بحال کرنے کی حمائت کرتی ہے۔

اسرائیل کے سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی یا شار پارٹی اس بار اب تک کے سروے کے مطابق آگے جا رہی ہے۔ انھیں نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پر برتری حاصل ہے۔لیکن ابھی انتخابات میں کافی دن باقی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ گادی آئزن کوٹ نے اپنی یاشار پارٹی صرف ایک سال قبل ستمبر 2025میں بنائی تھی۔ ایک سال میں اسرائیل کی بڑی پارٹی بن گئی ہے۔

آئزن کوٹ نیتن یاہو کی غزہ پالیسی کے ناقد ہیں۔ اور بالخصوص حماس سے یر غمالیوں کی رہائی کے معاہدے میں تاخیر پر نیتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہیں۔ تا ہم فلسطینیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے ان کے فوجی ماضی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ 2006میں انھوں نے حزب اللہ کے شہری علاقوں پر بہت ظلم کیا تھا۔ آئزن کوٹ کسی بھی قسم کی فلسطینی ریاست کے قیام کے سخت مخالف ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ مغربی کنارے کو باضابطہ طور پر اسرائیل میں ضم کرنے کے سخت مخالف ہیں۔ وہ حماس کو کھلے عام دہشت گرد تنظیم کہتے ہیں اور اس کو مکمل ختم کرنے کے حامی ہیں۔

 ان کا انتخابی اتحاد نیتن یاہو مخالف جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیونکہ اب تک کے سروے کے مطابق وہ بے شک آگے ہیں۔ لیکن انھیں حکومت بنانے کے لیے دیگر جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی۔

اسی طرح ایتا مار گویر کی اوتزما یہودیت اسرائیلی سیاست میں انتہائی دائیں بازو کی نمائندگی کرتی ہے۔ بن گویر نیتن یاہو کی کابینہ میں قومی سلامتی کے وزیر تھے۔ اور انھوں نے نیتن یاہو کی پالیسیوں کو انتہائی دائیں بازو کی جانب لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی جماعت کو مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں نمایاں حمایت حاصل ہے۔ بن گویر مغربی کنارے اسرائیل میں ضم کرنے کے حامی ہیں۔ ان کی جماعت غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے کی حامی ہے۔ وہ فلسطینیوں کے لیے سزائے موت اور عدالتی نظام میں تبدیلیوں کی بھی بات کرتے ہیںَ انتخابات کے آخری دنوں میں بن گویر اور نیتن یاہو میں کشیدگی نظر آئی تھی۔

ییزلیل سموٹریج کی مذہبی صیہونی پارٹی اسرائیل کی سیاست میں انتہائی دائیں بازو (Zionism) کا اہم حصہ ہے۔ وہ نیتن یاہو کی پچھلی حکومت میں وزیر خزانہ رہے ہیں۔ کیونکہ نیتن یاہو کی پچھلی حکومت بھی مخلوط حکومت تھی۔ وہ مذہبی بنیادوں پر حکمرانی کے حق میں ہیں۔ وہ اوسلو معاہدے کو ختم کرنے، فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے اور مغربی کنارے پر یہودی بستیوں میں توسیع کے حامی ہیں۔ وہ بھی عدالتی نظام میں تبدیلیوں اور یہودیوں کے لیے لازمی فوجی سروس کے حامی ہیں۔ سموٹریج کے خلاف بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق الزامات سے وارنٹ طلب کیے گئے ہیں۔ مگر ابھی جاری نہیں ہوئے ہیں۔

اسرائیل کے دو سابق وزرا اعظم نفتالی بینیٹ اور یائیر لابید نے مل کر با یچاد ( B Yachad)کے نام سے اتحاد بنایا ہے۔ اس اتحاد سے نفتالی بینیٹ وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔ جبکہ لابید سیکولر وسط پسند سیاست کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ دونوں فلسطینی ریاست کے قیام کے مخالف ہیں۔ ان کا اتحاد نیتن یاہو کے خلاف ووٹ تقسیم ہونے سے روکنے اور حکومت بنانے کے امکانات بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دونوں رہنما حریدیم یہودیوں کو لازمی فوجی سروس سے استثنا دینے کے حامی ہیں۔

یائیر گولان کی ڈیموکریٹس پارٹی بائیں بازو کی جماعت ہے۔ گولان غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر نمایاں تنقید کرتے ہیں۔ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے مخالف ہیں۔ لیکن مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور لازمی فوجی سروس کی حمائت کرتے ہیں۔ وہ ماضی میں نیتن یاہو کے اتحادی رہے ہیں۔ لیکن اب ان کی جماعت نیتن یاہو کے حکمران اتحاد سے باہر تھی۔

جوائنٹ لسٹ اسرائیل میں عرب جماعتوں کا اتحاد ہے۔ یہ تین جماعتوں حدش، تعال اور بلد پر مشتمل اتحاد ہے۔ جوائنٹ لسٹ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مخالف ہے۔مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کی بھی مخالف ہے۔ یہ دو ریاستی حل کی حمائت کرتے ہیں۔ اس کا مرکزی سیاسی ہدف نیتن یاہو ، بن گوئیراور سموٹریج کے اتحاد کو حکومت بنانے سے روکنا ہے۔ اس عرب جماعتوں کے اتحاد کو امید ہے کہ وہ کنیسٹ میں اتنی سیٹیں حاصل کر لے گا حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکے۔ تا ہم زیادہ تر یہودی جماعتیں جوائنٹ لسٹ کے ساتھ اتحاد بنانے کی مخالفت کرتے ہیں۔

منصور عباسی کی رعام پارٹی بھی عرب قیادت والی جماعت ہے۔ لیکن یہ الگ انتخاب میں حصہ لے رہی ہے۔ اس کی جڑیں سیاسی اسلام میں سمجھی جاتی ہیں۔ یہ جماعت سماجی معاملات میں قدامت پسند ہے۔ لیکن اسرائیلی سیاست میں دیگر عرب جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ معتدل سمجھی جاتی ہے۔ رعام نے پہلی مرتبہ ایک یہودی امیدوار کو بھی ٹکٹ دیا ہے۔

آرئیہ دری کی شاس پارٹی انتہائی مذہبی یہودیوں میں بڑی جماعت ہے۔ اس کو مذہبی یہودیوں کے سفاردی، مزارحی، اور حریدیم کی حمائت حاصل ہے۔یہ نیتن یاہو کی حامی جماعت سمجھی جاتی ہے۔ تاہم حردیم کو فوجی سروس سے استثنیٰ ختم کرنے پر انھوں نے 2025 میں نیتن یاہو کی کابینہ چھوڑ دی تھی۔

یاکوف آشر کی یونائیٹڈ توارہ یہودیت پارٹی اسرائیل کی دوسری بڑی انتہائی مذہبی یہودی جماعت میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے منشور میں مذہبی طرز زندگی، تورات کی تعلیم، اور حردیم کو لازمی فوجی سروس سے استثنا دلانا ہے۔ اس بار یہ جماعت نیتن یاہو کی بجائے گادی آئزن کوٹ کی حمایت کے اشارے دے رہی ہے۔

Load Next Story