آئینی عدالت، قائد اعظم کی تقریر میں سول سرونٹس کیلیے رہنما اصول
فوٹو: فائل
وفاقی آئینی عدالت نے قائد اعظم محمد علی جناح کی مشہور تقریر کی روشنی میں سول سرونٹس کے لیے رہنما اصول جاری کر دیے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سول سرونٹس کے سروس اسٹرکچر کو اس قدر تحفظ فراہم کرنے اور ان کی کیریئر کی ترقی کے لیے معقول اور غیر جانبدارانہ معیار مقرر کرنے کی وجہ بھی قائد اعظم محمد علی جناح کی اس تقریر میں ہے جس میں انھوں نے رہنما اصول فراہم کیے تھے۔
جسٹس علی باقر نجفی کی جانب سے تحریر کردہ 19 صفحات پر مشتمل فیصلے میں سینٹرل سلیکشن بورڈ کی جانب سے ایک پولیس افسر کی گریڈ 19 سے 20 میں ترقّی نہ دیے جانے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کر دیا گیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ایف سی سی کے ڈویژن بنچ نے قائد اعظم کی اپریل 1948 کی مشہور تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے سول سرونٹس کے لیے رہنما اصولوں کی تشریح کی۔
اس میں کہا گیا کہ کبھی بھی کسی سیاسی دباؤ سے متاثر نہ ہوں، عوام اور ریاست کے خادم کے طور پر اپنے فرائض ایمانداری اور بے خوفی سے انجام دیں، حکومتیں، وزرائے اعظم اور وزرا آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ان کی حمایت یا مخالفت کرنا آپ کا کام نہیں ہے، اپنی اعلیٰ شہرت، وقار، عزت اور اپنی سروس کی سالمیت کو برقرار رکھتے ہوئے حکومتوں کی وفاداری اور اخلاقیات کے ساتھ خدمت کریں۔
اپنے دائرہ کار کو سمجھیں اور اس کے اندر رہتے ہوئے دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی سے کام کریں۔ اسی طرح رہنماؤں اور سیاست دانوں کو بھی آپ کے کام میں مداخلت کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تین بار کا التوا اپنے طور پر افسر کو ترقّی کا خودکار حق فراہم نہیں کرتا کیونکہ ترقّی کوئی حتمی حق نہیں ہے اور مجاز اتھارٹی کے پاس قابلِ اطلاق قواعد کے مطابق تقابلی قابلیت اور موزونیت کا جائزہ لینے کا قانونی اختیار برقرار رہتا ہے۔