پوٹن کا امریکا، چین اور روس کے سہ فریقی سربراہی اجلاس کا منصوبہ، ٹرمپ رضامند

ابھی اجلاس کی حتمی تاریخ، ایجنڈا یا باضابطہ معاہدہ طے نہیں ہوا

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز دی ہے، جس پر تینوں ممالک کے درمیان ابتدائی سفارتی رابطے جاری ہیں۔

ممکنہ اجلاس نومبر میں چین کے شہر شینزن میں ہونے والی اے پی ای سی سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوسکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس ملاقات میں شرکت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر شی جن پنگ اس ملاقات کے لیے تیار ہوں تو وہ بھی شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق تینوں رہنما بالخصوص جوہری ہتھیاروں میں کمی اور جوہری تخفیفِ اسلحہ  پر بات کرسکتے ہیں، جبکہ تجارت سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آسکتے ہیں۔

دوسری جانب روسی حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی اجلاس کی حتمی تاریخ، ایجنڈا یا باضابطہ معاہدہ طے نہیں ہوا۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ پوٹن، ٹرمپ اور شی کے ممکنہ اجلاس کا معاملہ زیرِ بحث آیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔

رپورٹس کے مطابق یوکرین جنگ بھی ممکنہ طور پر اہم موضوع بن سکتی ہے۔ پوٹن کی تجویز میں جنگ کے خاتمے پر بات چیت شامل ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ ان کی ترجیح تینوں بڑی جوہری طاقتوں کے درمیان جوہری ہتھیاروں اور تخفیفِ اسلحہ پر مذاکرات ہوسکتی ہے۔

اگر یہ اجلاس ہوتا ہے تو یہ امریکا، روس اور چین کے سربراہان کی پہلی باضابطہ سہ فریقی سربراہی ملاقات ہوگی، جس کے عالمی سلامتی، یوکرین جنگ اور جوہری ہتھیاروں کے مستقبل پر اہم اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

Load Next Story