فیس بک، انسٹاگرام پر کسی کو گالی دینے سے پہلے سوچ لیں، 3 کروڑ 80 لاکھ روپے تک جرمانے کی وارننگ

حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے مواد کی قانونی ذمہ داری بھی صارف پر عائد ہوسکتی ہے

متحدہ عرب امارات میں سوشل میڈیا پر کسی کی توہین کرنے، تضحیک آمیز تبصرے کرنے یا ہتکِ عزت پر مبنی مواد شائع کرنے والوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ انہیں قید اور 5 لاکھ درہم تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تنبیہ متحدہ عرب امارات کی ملک گیر آگاہی مہم ’’دی یو اے ای اِز سیف وِد یور ڈیجیٹل اویئرنیس‘‘ کے تحت جاری کی گئی ہے، جس کا مقصد شہریوں اور رہائشیوں میں انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال اور سائبر جرائم سے متعلق شعور پیدا کرنا ہے۔

یہ مہم وزارت داخلہ نے دبئی پولیس اور دبئی الیکٹرانک سکیورٹی سینٹر کے تعاون سے شروع کی ہے۔ اکتوبر میں سائبر سکیورٹی آگاہی کے سلسلے میں جاری ویڈیو میں سوشل میڈیا صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کوئی بھی تبصرہ یا پوسٹ شائع کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ اثرات پر غور کریں۔

مہم میں وفاقی قانون نمبر 34 برائے 2021، انسدادِ افواہوں اور سائبر جرائم کے آرٹیکل 43 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی شخص کی توہین کرنے یا اس سے ایسا واقعہ منسوب کرنے پر جس سے اسے قانونی سزا یا عوامی تضحیک کا سامنا ہو، متعلقہ حالات میں قید اور 2 لاکھ 50 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔ قانون کے تحت ان میں سے کوئی ایک سزا بھی دی جاسکتی ہے۔

اگر جرم کسی سرکاری عہدیدار یا سرکاری خدمت انجام دینے والے شخص کے خلاف اس کے فرائض سے متعلق کیا جائے تو سزا میں اضافے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

حکام نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا کو تعمیری گفتگو، مثبت مکالمے اور مہذب انداز میں اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے استعمال کریں۔ ذاتی حملوں، تضحیک اور توہین آمیز زبان سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

آگاہی مہم کا مقصد صرف آن لائن بدزبانی کی روک تھام نہیں بلکہ انٹرنیٹ فراڈ، سائبر جرائم اور مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متعلق شعور بڑھانا بھی ہے۔

حکام کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شائع ہونے والے مواد کی قانونی ذمہ داری بھی صارف پر عائد ہوسکتی ہے، اس لیے کوئی پوسٹ یا تبصرہ کرنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔

Load Next Story