دوست فیل ہو تو افسوس، فرسٹ آئے تو زیادہ افسوس!

کسی دوسرے کی کامیابی آپ کی ناکامی نہیں، اور کسی دوسرے کی خوشی آپ کے حصے کی خوشی میں کمی نہیں کرتی

فلم تھری ایڈیٹس میں ایک ایسا سماجی سچ بیان کیا گیا ہے جو حقیقت تو ہے، لیکن ہم عام زندگی میں اس کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ فلم کا ایک مکالمہ ہے کہ ’’دوست فیل ہوتا ہے تو افسوس ہوتا ہے، لیکن دوست فرسٹ آجائے تو زیادہ افسوس ہوتا ہے۔‘‘

بظاہر یہ ایک مزاحیہ جملہ ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو اس کے پیچھے انسانی نفسیات اور ہمارے معاشرتی رویوں کی ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔

آپ یوں سمجھ لیجیے کہ اب مجھے بھی اس حقیقت کا ذاتی تجربہ ہوگیا ہے۔ آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ یااللہ! اس عمر میں انہوں نے کون سا امتحان دے دیا ہے؟ اور اگر امتحان دیا بھی ہے تو کیا فیل ہوگئے یا غلطی سے فرسٹ آگئے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دونوں میں سے کچھ نہیں ہوا، کیونکہ اگر فیل ہوا ہوتا تو مجھ سے ہمدردی کرنے والوں کو ضرور پتا چل جاتا۔ مسئلہ شاید یہ ہے کہ زندگی کے کچھ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بھی انسان کو وہ خوشی نہیں ملتی جس کی اسے توقع ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ہم دوسروں کی خوشیوں میں خوش کیوں نہیں ہوتے؟ یہ صرف ہمارا سماجی المیہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات سے جڑا ایک ایسا رویہ ہے جو ہمارے معاشرے میں تیزی سے پھیلتا محسوس ہوتا ہے۔ پہلے لوگ کسی کی غمی میں رونے کے لیے کندھا دیتے تھے اور خوشی میں اس کے ساتھ قہقہے لگاتے تھے۔ بعض اوقات تو سب کو خوش دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوجاتا تھا کہ اصل خوشی کس کے حصے میں آئی ہے، کیونکہ سب ہی پورے خلوص کے ساتھ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔

اب صورتِ حال کچھ مختلف دکھائی دیتی ہے۔ کسی کی پریشانی میں ہمدردی کرنے والے تو ’’شاید‘‘ آج بھی مل جاتے ہیں، لیکن کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونے والے کم دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ یہاں ایک فرق ملحوظِ خاطر رہنا چاہیے کہ ہر خاموش شخص حسد کرنے والا نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اپنی مصروفیات، طبیعت یا اظہار کی صلاحیت نہ ہونے کے باعث بھی اپنی خوشی یا پسندیدگی کا اظہار نہیں کرپاتے۔ لیکن جب کسی کی کامیابی کو مسلسل نظرانداز کیا جائے، اس کی محنت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا جائے یا اس کی خوشی کو بے وقعت بنانے کی کوشش کی جائے تو پھر سوچنے کی ضرورت ضرور محسوس ہوتی ہے۔

یہ معاشرتی تبدیلی کب، کہاں اور کیسے رونما ہوئی؟ شاید اس کا وثوق سے جواب دینا ممکن نہ ہو، لیکن اس رویے کی وجوہات پر غور ضرور کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے مذہبی اور اخلاقی تصورات میں بھی رشک اور حسد کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ کسی کی کامیابی دیکھ کر خود بھی آگے بڑھنے کی خواہش رکھنا ایک مثبت جذبہ ہوسکتا ہے، لیکن کسی دوسرے کو کامیاب دیکھ کر دل میں یہ خواہش پیدا ہونا کہ وہ ناکام ہوجائے، یا کاش یہ کامیاب نہ ہوا ہوتا ایک بالکل مختلف رویہ ہے۔ بدقسمتی سے ہم بعض اوقات ان دونوں کے درمیان فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔

میرے خیال میں اس صورتِ حال کی ایک بڑی وجہ معاشرے میں شفافیت اور میرٹ کا کمزور ہونا بھی ہے۔ جب لوگوں کے سامنے بار بار یہ مثالیں آتی ہیں کہ محنت اور قابلیت کے بجائے سفارش، اقرباپروری، رشوت اور تعلقات کامیابی کا ذریعہ بن رہے ہیں تو ان کا نظام پر اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ دوسروں کی کامیابی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اگر کوئی اپنی محنت سے آگے بڑھ جائے تو اس کی کامیابی کو بھی کسی سفارش، تعلق یا دوسری غیر متعلقہ وجہ سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں اس شخص کی کامیابی کی قدر کرنے کے بجائے اسے شک و شبہے کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے اور یوں ہم دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونے کے بجائے اس کی توجیہات تلاش کرنے میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔

مجھے اس حقیقت کا تجربہ اپنے لکھنے کے سفر میں ہوا۔ یہ سفر بھی اپنے آپ میں ایک دلچسپ کہانی ہے۔ میرے ادارے نے جب مجھے اٹھارہ مہینوں کے لیے افسر بکارِ خاص کردیا تھا تو اس دوران کتابیں پڑھتے پڑھتے لکھنے کی طرف رجحان پیدا ہوا۔ ابتدا میں میں صرف فیس بک پر اپنی ٹائم لائن پر تحریریں پوسٹ کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور بالکل اتفاق سے اخبارات میں لکھنے کے مواقع ملتے گئے۔ آج میرے کالم ملک کے ایک بڑے اخبار کے ادارتی صفحے پر شائع ہوتے ہیں۔

یہاں میں یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے یہ سفر کسی منصوبہ بندی کے تحت شروع نہیں کیا تھا اور نہ ہی کبھی لکھنے کو کسی مقابلے کا میدان سمجھا۔ یہ میرے لیے سیکھنے، سوچنے اور اپنے حصے کی آگہی پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس سفر میں میں نے محسوس کیا کہ میرے جاننے والوں میں سے بعض لوگ پہلے کی طرح میری تحریروں سے تعلق نہیں رکھتے۔ کچھ لوگ خاموش ہوگئے اور کچھ شاید اپنی مصروفیات میں آگے بڑھ گئے۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ان سب کے رویوں کی وجہ حسد ہی تھی، لیکن اس تجربے نے مجھے انسانی نفسیات کے بارے میں ایک ایسا سبق ضرور دیا جسے بھلانا آسان نہیں۔

مجھے ایک دوست کا واقعہ یاد آتا ہے جو خود بھی ملک کے ایک مشہور اخبار کے لیے لکھتے ہیں۔ ایک دن ان کا فون آیا۔ کہنے لگے، ’’یار! تم کیسے لکھ لیتے ہو؟‘‘ میں ان کا سوال سمجھ نہیں پایا، اس لیے وضاحت چاہی۔ انہوں نے کہا، ’’لکھنے کے بعد تو میں اور اکیلا ہوگیا ہوں۔ پتا ہی نہیں چلتا کہ کوئی میری تحریر پڑھتا بھی ہے یا نہیں۔ کوئی رائے ہی نہیں دیتا، نہ مثبت اور نہ منفی۔‘‘ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟ اگر ہاں، تو میں ان حالات میں کیسے لکھ لیتا ہوں؟ میں نے ان سے کہا کہ میں نے لوگوں سے توقعات وابستہ کرنا چھوڑ دی ہیں اور میں بنیادی طور پر آگہی کے لیے لکھتا ہوں۔ ہماری ذمہ داری کوشش کرنا ہے، نتیجہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا۔ میں اپنا حصہ پورا کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ میری بات سن کر انہیں کافی تسلی ہوئی اور انہوں نے بھی اپنا مشن جاری رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔

اس واقعے نے مجھے ایک اور بات سمجھائی کہ کسی کی تخلیقی کاوش کو سراہنے کے لیے ہمیشہ بڑے الفاظ یا طویل تبصرے درکار نہیں ہوتے۔ کبھی ایک مختصر سا پیغام، ایک مخلصانہ رائے یا ایک حوصلہ افزا جملہ بھی کسی شخص کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہمت دے سکتا ہے۔ اسی طرح تنقید بھی اگر خلوص اور دلیل کے ساتھ کی جائے تو انسان کے لیے سیکھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر تحریر سے اتفاق کریں، لیکن اختلاف اور بے اعتنائی میں بہرحال فرق ہوتا ہے۔

میرے خیال میں ہمارا معاشرہ اس معاملے میں ایک خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ ہمیں اس رویے پر انفرادی اور اجتماعی، دونوں سطحوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء، دانشوروں، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں کو بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نئی نسل کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا سکھا رہے ہیں یا ہر حال میں دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل کررہے ہیں۔

ہم انفرادی ذہانت اور کارکردگی کے معاملے میں کسی سے کم نہیں، لیکن اجتماعی کارکردگی اور ٹیم ورک میں اکثر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ قوموں کی ترقی میں ٹیم بلڈنگ کی اپنی اہمیت ہے۔ ایک اچھی ٹیم میں ہر فرد کی کامیابی پوری ٹیم کی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ وہاں کسی ایک شخص کا آگے بڑھنا دوسروں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ حوصلے کا باعث بنتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی اداروں میں بھی انفرادی کامیابی پر جتنا زور دیا جاتا ہے، باہمی تعاون، مشترکہ کامیابی اور دوسروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے پر شاید اتنی توجہ نہیں دی جاتی۔

اگر ہم نے اپنی سوچ اور رویوں پر توجہ نہ دی تو معاشرے میں مقابلے کی یہ غیر صحت مند فضا مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ جب ہر شخص دوسرے کو اپنا حریف سمجھنے لگے، جب کسی کی کامیابی دوسرے کے لیے خوشی کے بجائے تکلیف بن جائے اور جب محنت کرنے والے کو حوصلہ دینے کے بجائے تنہا چھوڑ دیا جائے تو معاشرتی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ صرف چند افراد کی تنہائی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی صورت میں نکلتا ہے جہاں ہر شخص اپنے حصے کی کامیابی تو چاہتا ہے، لیکن دوسروں کے ساتھ مل کر کامیاب ہونے کا ہنر بھول جاتا ہے۔

اگر ہم اپنی زندگیوں میں خوشیاں واپس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہونا سیکھنا ہوگا۔ کسی کی کامیابی پر مبارک باد دینے سے ہماری اپنی کامیابی چھوٹی نہیں ہوجاتی۔ کسی کی تحریر کو سراہنے سے ہماری اپنی قابلیت کم نہیں ہوتی۔ کسی دوست کی ترقی پر خوش ہونے سے ہمارا مقام نہیں گرتا۔ اس کے برعکس، یہ رویے ہمارے اندر وسعتِ قلب پیدا کرتے ہیں اور معاشرے میں اعتماد، محبت اور باہمی احترام کو فروغ دیتے ہیں۔

آخر میں، میں صرف اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ زندگی پہلے ہی مسائل، محرومیوں اور ناکامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونا بھی چھوڑ دیں تو پھر ہمارے درمیان خوشی بانٹنے کے لیے باقی کیا رہ جائے گا؟ ضروری نہیں کہ ہم سب ایک دوسرے سے آگے نکلیں؛ کبھی کبھی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا بھی کامیابی ہوتی ہے۔

یاد رکھیے، کسی دوسرے کی کامیابی آپ کی ناکامی نہیں، اور کسی دوسرے کی خوشی آپ کے حصے کی خوشی میں کمی نہیں کرتی۔ معاشرے اس وقت کمزور نہیں ہوتے جب ان کے افراد ناکام ہوتے ہیں، بلکہ اس وقت کمزور پڑنے لگتے ہیں جب وہ ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونا چھوڑ دیتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story