مشرق وسطیٰ کا مستقبل
فوٹو: فائل
خلیج کے افق پر ابھرتے ہوئے خطرات نے مسلم دنیا کے سامنے ایک ایسا سوال لاکھڑا کیا ہے جس کا تعلق محض سرحدوں کی حفاظت سے نہیں، بلکہ مقدس مقامات کے تقدس، علاقائی خودمختاری اور امت مسلمہ کے مستقبل سے بھی ہے۔ جب جنگ کے شعلے سفارت کاری کی میز تک پہنچنے لگیں اور طاقت کے مظاہرے مذاکرات کی گنجائش محدود کرنے لگیں تو دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مابین مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی پیش رفت اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا یہ اعلان کہ حرمین شریفین کا تحفظ پاکستان کی اولین ترجیح اور سعودی عرب کی خودمختاری ایک سرخ لکیر ہے، اس شراکت داری کی حساسیت اور تزویراتی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں تعینات سعودی سفیر ڈاکٹر راجح تامی البقامی کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات اور دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط اور اسٹرٹیجک رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر اتفاق اس امر کی علامت ہے کہ دونوں ممالک اپنے دیرینہ تعلقات کو نئے علاقائی حالات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حرمین شریفین مسلمانوں کے لیے محض دو مقدس مقامات نہیں، بلکہ ان کی روحانی وابستگی، تاریخی شعور اور اجتماعی عقیدت کا مرکز ہیں۔ ان کے تحفظ کا معاملہ کسی ایک ملک کی سرحدی ذمے داری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری مسلم دنیا کے جذبات سے جڑ جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے احترام کو غیرمعمولی تقدس حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق کسی بھی خطرے پر پاکستانی عوام کی حساسیت فطری اور گہری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ کسی جارحیت کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی دفاعی نظام حرکت میں آسکتا ہے، تاہم اس اتحاد کا کوئی جارحانہ ارادہ نہیں۔ ان دونوں نکات کے درمیان توازن ہی اس معاہدے کی اصل معنویت متعین کرے گا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے مابین تعاون کو کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد قرار دینے کے بجائے اس کے اعلان کردہ مقاصد، عملی ڈھانچے اور آیندہ اقدامات کی روشنی میں جانچنا چاہیے۔ تینوں ممالک کے جغرافیائی محل وقوع، دفاعی صلاحیتوں، سفارتی روابط اور علاقائی مفادات میں اہم فرق موجود ہے، لیکن یہی فرق باہمی تعاون کے نئے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔
سعودی عرب خلیجی خطے میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان جنوبی ایشیا اور بحیرہ عرب کے تناظر میں اہم دفاعی و جغرافیائی مقام کا حامل ہے، جب کہ ترکیے کے مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر علاقائی معاملات میں اپنے مفادات اور سفارتی روابط ہیں، اگر ان صلاحیتوں کو مشترکہ منصوبہ بندی، دفاعی تربیت، معلومات کے تبادلے اور بحران کے دوران رابطہ کاری کے لیے منظم کیا جائے تو یہ تعاون علاقائی سلامتی میں معاون بن سکتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی بنیاد مذہبی وابستگی کے ساتھ طویل سفارتی، معاشی اور دفاعی تعاون پر بھی استوار ہے۔ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا اور باہمی تعلقات کو اہمیت دی ہے۔
سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان اور پاکستانی عوام کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔تنازعہ کشمیر ہو یا کوئی اور ایشو سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے موقف کی حمایت کی، اگر پاکستان کو معاشی اور مالیاتی مشکلات کا سامنا ہوا تو اس مرحلے پر بھی سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور مدد کرکے ثابت کیا کہ سعودی عرب پاکستان کا مخلص دوست اور اتحادی ہے۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کاروبار اور نوکریاں کررہے ہیں اور پاکستان میں زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات میں تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے ان کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔
سعودی عرب نے ہر مشکل موقع پر پاکستان کی مدد کی ہے اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ ادھر پاکستان نے بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح میں رکھا ہے۔ مکہ معاہدہ کے تحت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ترکیہ بھی سعودی عرب کے ساتھ تعاون کرے گا۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی قیمتوں، سمندری تجارتی راستوں، بیمہ اخراجات اور عالمی رسد پر دباؤ پڑنے کا خدشہ رہتا ہے۔
پاکستان جیسی معیشت، جو توانائی کی درآمدات اور بیرونی مالی حالات سے متاثر ہوتی ہے، ایسے بحران کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ مہنگا تیل، درآمدی بل میں اضافہ، پیداواری لاگت میں شدت اور عام شہری کی قوتِ خرید میں مزید کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے مشرقِ وسطیٰ میں امن پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں، بلکہ معاشی استحکام اور داخلی فلاح کا معاملہ بھی ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے اہم سوال سفارتی کردار میں توازن قائم رکھنے کا ہے۔ ضروری ہے کہ مشرق وسطیٰ میں موجود تنازعات میں غیرضروری توسیع روکنے کے لیے ، فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش کی جائے۔ جنگ کے نتائج میدانِ جنگ سے نکل کر نسلوں کی معیشت، معاشرت اور سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ پاکستان کے پاس مسلم ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات، سفارتی رابطوں اور مختلف علاقائی فریقوں سے بات چیت کے تجربے کی صورت میں ایسے امکانات موجود ہیں جنھیں کشیدگی کم کرنے کے لیے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک کی قیادت کو بھی حالات کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اپنے اپنے سخت رویئے میں تبدیلی لانی چاہیے۔
پاکستان کو اس پورے منظرنامے میں اپنی قومی سلامتی، معاشی ضروریات اور سفارتی آزادی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی پاکستان کے لیے اہم ہے، وسیع تر مسلم دنیا میں اعتماد پیدا کرنا اور خطے میں امن کے امکانات محفوظ رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ مکہ الائنس اگر دفاعی تحفظ کو جنگ کی روک تھام، مذاکرات کی حمایت اور علاقائی تعاون کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی اہمیت محض تین ممالک کے باہمی معاہدے سے کہیں بڑھ سکتی ہے۔مشرق وسطی کی جو صورت حال ہے‘وہ پوری دنیا کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
بین الاقوامی تجارتی سمندری حدود اور تجارتی راستوں کا پر امن رہنا مشرق وسطی کے ممالک کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے لازم اور ضروری ہے۔حوثی حملوں کے باعث ان عالمی تجارتی راستوں پر رکاوٹیں پڑ رہی ہیں۔سعودی عرب پر آئے روز حملے ہوتے ہیں۔ان حملوں کا کسی بھی طریقے سے جواز نہیں تراشا جاسکتا۔ پاکستان بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔آبنائے ہرمز کی صورت حال کے باعث عالمی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے جب کہ بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں میں بھی رکاوٹیں آئی ہیں۔ یمن کی حوثی ملیشیا سعودی عرب کو نشانہ بنا رہی ہے جب کہ دو تین روزقبل سعودی فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا تھا کہ حوثیوں نے ریاض اور بحیرۂ احمر میں جن اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، انھیں ناکام بنا دیا گیا ہے، یوں دیکھا جائے تو معاملات خاصے گھمبیر نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے دو روز قبل اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں واضح کر رکھا ہے کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اپنی ذمے داریاں پوری کرے گا۔ پاکستان اس معاہدے کا رکن ہے اور مکمل طور پر اس میں شامل ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے یمن کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔
تنازع صرف بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ علاقائی تنازعات پرامن طریقے سے حل ہوں۔پا کستان کا یمن کے تنازع کے بارے میں یہ مؤقف بھی واضح ہے کہ اس کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے لیکن جس انداز میں حوثی ملیشیا سعودی عرب پر حملے کر رہی ہے اور بحیرۂ احمر کے عالمی تجارتی روٹ کو متاثر کر رہی ہے، اس کے حوالے سے بھی پاکستان کا مؤقف واضح ہے۔ پاکستان سعودی عرب کا ساتھ دے گا۔آنے والے ایام میں حالات کس کروٹ جاتے ہیں اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بہر حال یمن کی حوثی قیادت کو حالات کی سنگینی کا احساس کرنا چاہیے۔ یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ پراکسیزحالات کو خراب تو کر سکتی ہیں لیکن وہ جنگ کبھی نہیں جیت سکتی۔ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے حالات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے۔