پردے کے پیچھے

 اب وہی آندھیوں کی نگاہوں میں ہیں جن چراغوں میں کچھ روشنی رہ گئی

barq@email.com

سامنے جو پردہ نظر آرہا ہے، اس پر چلنے والے مناظر،چہرے، بیان، ڈائیلاگ، ایکشن تو آپ دیکھ رہے ہیں، اس کے بارے میں ہمیں کچھ نہیں کہنا،بلکہ ہم آپ کو ’’ پردے کے پیچھے‘‘ لے جاکر کچھ دکھانا چاہتے ہیں ۔جو کہانی ہم آپ کو سنانے والے بلکہ دکھانے والے ہیں، اس کا ایک ایک لفظ سچا ہے اور اسے گزرے ہوئے ہفتہ بھی نہیں ہوا اوراس کی تفصیلات متعلقہ تھانے اوراسپتال کے کاغذات میں درج ہے ۔

ایک بھائی نے دوسرے کو گولیاں ماریں جو اس کے پیٹ لگیں ۔ گولیاں مارنے والا نوجوان غیر شادی شدہ تھا اورآئس کانشئی تھا۔پہلے تو ہمیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ شہروں سے دورایک پس ماندہ گائوں تک ’’آئس‘‘ کا ماڈرن زہرکیسے پہنچا لیکن خبرداروں نے ہماری بے خبری دورکرتے ہوئے کہا کہ گائوں کے آدھے نوجوان اس نشے میں مبتلا ہیں، جب کہ ہم اسے بڑے شہروں، مہنگے اسکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیوں کا نشہ سمجھے ہوئے تھے ۔

اس کے باوجود کہ قانون نافذکرنے والے ادارے بھی موجود ہیں۔ اس کے بارے جو معلومات حاصل ہوئیں، اس سے مجھے ایک فلم کا سین یاد آیا، جس میں ایک آدمی دکاندار سے کسی بات پر الجھا ہوا ہے کہ اتنے میں ایک شخص آکر دکاندار کو کوئی چیز دیتا ہے۔ دکانداراسے سو نگھتا ہے اورلانے والے کو نوٹوں کاایک بنڈل دے کر رخصت کرتا ہے۔ وہ جھگڑنے والا شخص دکاندار سے پوچھتاہے ،کہ یہ کیا چیز ہے جس کے اتنے ڈھیر سارے پیسے تم نے اسے دیے ۔ دکاندار ایک آنکھ دبا کر کہتا ہے، فلاں پاوڈر ۔ وہ شخص کہتا ہے اچھا تو تم منشیات بیچتے ہو ۔ میں ابھی جاکر پولیس کو بتاتا ہوں ، دکاندار پھر آنکھ دبا کر اورمسکرا کر کہتا ہے ، یہ جو شخص مال دے کر گیا ہے، سرکار کا ملازم ہی تھا۔

وہی صورت حال آج کل ہرجگہ ہے اورہرکوئی اس سے واقف ہے ۔ اس سے کیا ہوگا؟ نوجوان مجرم بن جائیں گے ۔۔یہ تو اوربھی اچھا ہے ، گاہک اوربڑھ جائیں گے ؟ دکان اورزیادہ چلے گی۔اب اس کہانی کادوسراحصہ ۔ جس نوجوان کو اس کے بھائی نے گولیاں ماری تھیں، اس کی حالت سخت خراب تھی ، اسپتال کی ایمرجنسی میں اس کی تھوڑی سی لیپا پوتی ہوئی اورپھر اس کے لواحقین سے کہا گیا کہ اسپتال میں جگہ نہیں، اسے فلاں پرائیویٹ اسپتال لے جائو ۔ وہ لے گئے۔

پرائیویٹ اسپتال والوں نے اپنی وصولی کرکے داخل کیا لیکن دوسرے دن بتایا کہ کیس خطرناک ہے اورآپریش نازک ۔۔اوراس کے لیے جو سہولتیں اور آلات درکار ہیں، وہ صرف سرکاری اسپتال میں موجود ہیں، لواحقین پھر دوڑا دوڑی کرنے لگے اورمریض آئی سی یو میں پڑا رہا۔ آخر پانچویں دن سیاسی تاریں ہلانے میں کامیاب ہوگئے ، اسپتال والوں نے مریض کے لیے جگہ پیدا کرلی اورمریض کو سرکاری اسپتال شفٹ کرلیا۔ لیکن اسپتال والوں کو کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی اورمریض ’’نومور‘‘ ہوگیا اورگھرانا مکمل طورپر تباہ ہوگیا۔ چارپانچ بہنیں نہ جانے کب تک روتی پیٹتی رہیں، ایک بھائی اپنے پیچھے ایک بیوہ اوردو بچے چھوڑ گیا۔ وہ نشئی بھی کہیں مرکھپ جائے گا کہ یہی ایک بھائی سب کاسہارا تھا، نہ کوئی مال نہ دولت نہ جائیداد ۔ یہ بچے بھی یہاں وہاں چرچگ کر بڑے ہوں گے ، سرکاری پالیسیوں کے فوائد کی وجہ سے زیادہ امکان یہی ہے کہ مجرم بن جائیں گے۔

 کتنے پروانے چلے رازیہ پانے کے لیے

 شمع جلنے کے لیے ہے کہ جلانے کے لیے

یہ ہے خوبصورت ، چمکدار زرتامہ گل وگلزار اورباغ وبہار پردے کے پیچھے کے مناظر ، تجارت ہی تجارت ، کاروبار ہی کاروبار ۔

کئی سال پہلے کی بات ہے ، میرے ایک عزیز نے میٹرک کرلیا تھا ،اس زمانے میں میٹرک کی بہت وقعت تھی اورنوکریاں بھی بہت تھیں ، ابھی نوکریوں کی خرید وفروخت شروع نہیں ہوئی تھی، اس نے مجھ سے کہا کہ تین نوکریاں مل رہی ہیں، ایک پولیس، ایک پٹوار میں اورتیسری اسپتال میں کمپاونڈرکی، کونسی جوائن کرلوں؟ میں نے کہا، اسپتال کوچھوڑ کرباقی دونوں میں سے کوئی بھی کرلو۔

پولیس کے پاس جو لوگ جاتے ہیں، وہ کسی نہ کسی طرح خطاوار ہوتے ہیں اوراگر ان میں کوئی بے گناہ بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ پیسوں کا زیاں ہوگا۔پٹواری بھی زیادہ سے زیادہ زمین کو ادھر ادھر کر دے گا جس کا تدارک بھی ہوسکتا ہے اوردونوں کسی نہ کسی طرح لالچی ہوتے ہیں ۔ لیکن اسپتال آنے والے ایک طرف تو کسی مرض کی گرفت میں ہوتے ہیں، قابل ر حم ہوتے ہیں اوراگر اسپتال والے بھی مسیحا کی بجائے قاتل اورگدھ ہوں تو دہرا ظلم ہوتا ہے۔

لیکن شاید کسی اورکے مشورے پر یا خود لالچ میں آکر دکھیاروں کو نوچنے کا کام پسند کرلیا تھا اورکروڑپتی بن گیا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ’’ڈاکٹر‘‘ بن گیا تھا ۔ ویسے وہ اگر مان بھی لیتا تو کچھ فرق پڑنے والا نہیں تھا کیوں کہ اتنے عرصے میں سارے محکمے اورادارے ’’ روش ‘‘ ہوچکے ہیں ۔

سب کے بارے میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا کیوں کہ کہیں کہیں پر اب بھی انسان اورمسلمان اکادکا پائے جاتے ہیں لیکن وہ بھی آخرکب تک آندھی میں چراغ جلاسکیں گے ۔

کیوں مشعل دل فیض بچائو تہہ داماں

 بجھ جائے گی یوں بھی کہ ہوا تیز بہت ہے

 آج کل سارے سرکاری اسپتال ٹرانزٹ کیمپ ہیں، سب کے سب یاتو اپنے پرائیویٹ کلینک اوراسپتال ہیں یا ان میں شئیر ہولڈر ہیں یا مریضوں کو پرائیویٹ اسپتال والوں کے ہاتھ فروخت کرنے والے ہیں ۔

 اب وہی آندھیوں کی نگاہوں میں ہیں

جن چراغوں میں کچھ روشنی رہ گئی

Load Next Story