یہ نظام نہیں چل سکے گا؟
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان کی اشرافیہ ہمیشہ نظام میں غیر معمولی تبدیلی کرنے کے بجائے اسٹیٹس کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔یہ طبقہ معاشرے کی اجتماعی ترقی کے مقابلے میں اپنے طبقے کی ترجمانی کرتا ہے اور اس طبقے کی ترجیحات میں عوام کے مقابلے میں طبقاتی مفادات کی اہمیت ہوتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرہ منصفانہ ترقی سے بہت پیچھے کھڑا ہے۔ یہاں جو معاشی و سیاسی کھیل سجایا گیا ہے اس میں عام آدمی کا کوئی حصہ نہیں ۔ عام آدمی غریب لیکن طبقہ امرا تسلسل کے ساتھ نہ صرف خوشحال یا ترقی کررہا ہے بلکہ اس کے وسائل اور دولت میں بھی بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے۔جب امیر اور غریب کے درمیان خلیج گہری ہوجائے تو پھر اس نظام میں انتشار پیدا ہونا فطری عمل ہے۔
یہ ہی حالات اس وقت عملا پاکستان کے داخلی معاملات سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔اس ملک کا پڑھا لکھا یا علمی و فکری طبقہ نظام کی ناکامی پر تنقید کرتا تھا تو اسے اشرافیہ کی سطح پر قبول نہیں کیا جاتا تھا۔لیکن اب حالات کی کہانی کا دوسرا منظر ہم ملک میں دیکھ رہے ہیں جہاں نظام کے اندر سے ’’ نظام ڈلیور‘‘ نہیں کرسکا یا نظام اپنی مدت پوری کرچکا ہے جیسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ اشرافیہ کا ایک گروپ بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ حکمرانی کے اس نظام کو بڑے پیمانے پر تبدیل کرناہوگا تاکہ ہم نظام کی بہتر طور اصلاح کرسکیں۔ یہ نظام ناکامی کی صورت میں یہاں تک پہنچا ہے یہ کوئی دو چار برس کی یا کسی ایک حکومت کی ناکامی نہیں، یہ ناکامی اشرافیہ کی مجموئی ناکامی ہے جسے کوئی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ہمارے یہاں نظام کی تبدیلی کے نام پر مختلف سیاسی جماعتوں،حکمران طبقات اور غیر سیاسی قوتوں نے جہاں مختلف نوعیت کی سیاسی مہم جوئی یا سیاسی ایڈونچرز کیے ہیں یا لوگوں کو تبدیلی اور انقلاب کے جذباتیت پر مبنی نعروں میں الجھایا اس کے بھی بہتر نتائج ہم نہیں دیکھ سکے۔نتیجہ یہ نکلا کے ملک مختلف نوعیت کے سیاسی،سماجی،معاشی،انتظامی،آئینی،قانونی اور ادارہ جاتی یا حکمرانی کے بحران میں مسائل پیدا کرتا رہا اوریہ مسائل اب بھی پیدا ہورہے ہیں۔
ہم تو ابھی تک اس بنیادی سوال پر بطور ریاست متفق نہیں ہوسکے کہ ہمیں ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے کس طرز کا سیاسی، جمہوری،پارلیمانی اور صدارتی نظام درکارہے۔ ہم آج بھی جمہوریت،کنٹرولڈ اور ہائبرڈ جمہوریت کے نظام یا ملک میں پارلیمانی اور صدارتی نظام کی بحث میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ ہم نے بدقسمتی سے جمہوریت پر مبنی نظام کو ادارہ جاتی مضبوطی کی بنیاد پر نہیں چلایا ۔موجودہ سیاسی جماعتوں کا شخصی اور خاندانی سطح پر مبنی سیاسی نظام خود جمہوری طرز عمل اور نظام کی نفی ہے۔
یہ مان لیتے ہیں کہ اس ملک میں سیاسی نظام کمزور رہا ہے اور جمہوری نظام میں تعطل بھی رہا مگریہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ جہاں سیاست اور اقتدار میں شامل جماعتیں بھی وہ کچھ ڈلیور نہیں کرسکیں جو ہمیں عوامی مفاد کے تناظر میں کرنا چاہیے تھا۔اس لیے جہاں غیر سیاسی قوتوں پر تنقید ہونی چاہیے، وہاں سیاسی قوتیں بھی ان حالات کو پیدا کرنے کی ذمے دار ہیں۔اس لیے جب تک ہماری سیاسی جماعتوں کا کردار بھی اس نظام میں شفاف اور جوابدہی پر مبنی نہیں ہوگا حالات کی تبدیلی ممکن نہیں ہوسکتی۔ہمارا مجموعی سیاسی نظام سینیٹ،قومی اور صوبائی اسمبلی سمیت مقامی حکومتوں کے درمیان جاری اختیارات کی سیاسی،ا نتظامی اور مالی تقسیم سمیت اس کا دائرہ کار ترقیاتی فنڈ کے حصول تک محدود رہتا ہے اور یہ عمل ٹکراو کا سبب بنتا ہے۔
ریاست اور حکومت کا نظام بنیادی طور پر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق پر تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جو لوگ سیاسی اشرافیہ کی جانب سے نظام کی ناکامی اور تبدیلی کی بات کررہے ہیں ان کو ایک واضح روڈ میپ پیش کرنا ہوگا کوئی بھی تبدیلی کا عمل اگر لوگوں کی مشاورت کے بغیر ان پر مسلط کیا جائے گا یا اس کھیل میں اپنے سیاسی مفادات کے لی مہم جوئی کا کھیل کھیلا جائے گا تو وہ ملک میںبہتر تبدیلی کے مقابلے میں داخلی محاذ پر ایک اور بڑے ٹکراو کی سیاست کا سبب بنے گا۔جب کہ اس کے برعکس جو لوگ بضد ہیں کہ اس نظام کوپرانی ڈگر یافرسودہ بنیاد پر ہی چلانا ہے تواس نظام کو اپنے عمل کے ساتھ ایسی نہج پر لے جانا چاہتے ہیں جس سے ہم بڑی ترقی سے دور ہوجائیں گے۔یہ جو ہمارا بیوروکریسی کا موجودہ ڈھانچہ ہے وہ خود بھی اس نظام کی کامیابی میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
اول اس نظام میں بڑے پیمانے پر سیاسی مداخلتیں،دوئم شاہانہ اخراجات اور سوئم کرپشن اور اقرباپروری پر مبنی نظام خود اپنی اہمیت کھوچکا ہے۔اس لیے جب یہ کہا جاتا ہے کہ اس نظام کی مجموعی طور پر درستگی ہونی ہے اور کینسر جیسے مرض کا علاج کسی بھی طرح ڈسپرین کی گولی سے ممکن نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کا عمل سخت گیر اقدامات کا تقاضہ کرتا ہے۔ نظام کے پاس اب بھی گنجائش ہے کہ وہ محرومی اور تفریق کی سیاست کو سمجھیں۔ کیونکہ اگر وہ لوگوں کے اردگرد جو بھی مسائل ہیں۔
ان سے نظریں چراتے ہیں تو لوگوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔ اب تو آپ مطمن ہیں کہ لوگ کسی سطح کی مزاحمت نہیں کررہے مگر ان کے اندر مزاحمت اور مایوسی جنم لے رہی ہے۔ہمیں اس آگ پر قابو ڈالنا ہے اور لوگوں کا نظام پر اعتماد اور بھروسہ بڑھانا ہے کہ ہم آپ کے اور آپ کے مسائل کے ساتھ کھڑے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے ایسے لگتا ہے کہ ہماری اشرافیہ نظام کی اصلاح سے زیادہ آج بھی اپنے مفادات کے گرد ہی کھڑی ہے۔یہ ہی وہ سوچ ہے جو لوگوں مجبور کررہی ہے کہ اس نظام میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔اسی بنیاد پر پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ایک بات طے ہے کہ آپ اس نظا م کو جتنا مرضی کھینچ لیں یا دھکا لگالیں یہ نظام موجودہ حالات میں نہیں چل سکے گااور نہ ہی لوگ اعتبار کریںگے۔