پاکستان کے مخالفین کا بیانیہ (دوسری قسط)

’’حقائق حقائق ہیں‘‘ یہ کتاب تضادات سے بھرپور ہے۔ صاحب کتاب ’’حقائق‘‘ کی کئی جگہوں پر خود نفی کرتے ہیں

zulfiqarcheema55@gmail.com

اے این پی کے بزرگ راہنما کو ہم ہمیشہ خان عبدالولی خان لکھتے اور بولتے رہے ہیں مگر موصوف نے اپنی کتاب facts are facts پر اپنا نام صرف ولی خان لکھوانا پسند کیا ہے، اس کی وجہ وہ خود ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ راقم کا ان کے ساتھ احترا م کا رشتہ ہے، میں جب نوجوان ایس پی کے طور پر فرنٹیئر کانسٹیبلری شبقدر میں تعیّنات تھا تو اُس وقت کے اے سی چار سدّہ کے ہمراہ ولی باغ جاکر خان صاحب سے دو بار ملاقات کی۔ دونوں بار وہ بڑی شفقت سے پیش آئے اور ہماری خاطر تواضع بھی خوب کی۔ ان کی اپنی ذات سکینڈلز سے پاک رہی ہے، اس لیے میرے دل میں ان کا بہت احترام ہے، لیکن ان کا ذاتی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے ان کے موقف اور ان کی کتاب کا بے لاگ تجزیہ لازم ہے۔

ولی خان صاحب نے جن باتوں کا نام ’’حقائق‘‘ رکھا ہے، ان کا اصل حقائق سے دورکا تعلّق بھی نہیں ہے، مصنّف نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں کئی مہینے رہ کر انڈیا آفس لائبریری کا پرانا ریکارڈ کھنگالا اور وہاں سے انھیں ایسی دستاویزات ملیں جنھوں نے قیامِ پاکستان کے بارے میں ایسے ’’راز‘‘ افشا کیے کہ میں دنگ رہ گیا۔ دیباچے میں یہ تمہید پڑھ کر میرا تجسس بہت بڑھ گیا اور میں نے پوری دلچسپی کے ساتھ ان کی کتاب پڑھنی شروع کی مگر سچی بات ہے کہ کتاب پڑھ کر مایوسی ہوئی کہ ایک بڑا سیاستدان اپنے موقف کے حق میں بے بنیاد باتوں کا سہارا لے رہا ہے۔ وہ اس ایسی کتاب نہ لکھتے، تو زیادہ بہتر ہوتا۔

موصوف کا مقدمہ یہ ہے کہ کانگریس پورے ہندوستان کی نمایندہ جماعت تھی، جب کہ مسلم لیگ کو انگریزوں کی سپورٹ حاصل تھی۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس کی بنیاد ایک انگریز (ریٹائرڈ بیوروکریٹ) مسٹر ایلن ہوم نے 28 دسمبر 1885 کو رکھی تھی۔ جب کہ مسلم لیگ، بنگال کے مسلم زعماء نے ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ کے گھر پر قائم کی تھی اور اس کے قیام میں انگریز حکمرانوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ کتاب میں ایک اور زیادتی یہ ہوئی ہے کہ صاحب کتاب نے کانگریس کے ہر موقف کی تائید کی، حتیٰ کہ بنگال کی تقسیم کو جب ہندوئوں کے دبائو پر 1911 میں ختم کیا گیا تو اس کو سراہنے سے بھی گریز نہ کیا۔

یہ ثابت کرنے کی بھی ناکام کوشش کی ہے کہ انگریز حکمران محمد علی جناح صاحب کو پسند کرتے تھے اور ان کی بے جا حمایت کرتے تھے۔ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کتاب میں سیاق وسباق سے ہٹ کر وائسرائے یا سیکریٹری آف اسٹیٹ فار انڈیا کی خط وکتابت میں سے تاریخ کا اندراج کیے بغیر کہیں دو لائنیں اور کہیں ڈیڑھ لائن شیئر کی گئی ہے، جن کا پسِ منظر بھی چھپایا گیا ہے۔ ایسی لائنیں جن کا نہ سر نظر آتا ہے نہ پیر، اور جن پر تاریخ تک درج نہیں اور یہ بھی چھپایا گیا ہے کہ یہ مراسلہ کس ضمن میں لکھا گیا ہے اور کس بارے میں لکھا گیا ہے، ایسی لائنوں کو facts نہیں بلکہ facts کی distortion ہی کہا جاسکتا ہے۔ جناح صاحب کے باقی تمام سیاسی مخالفین بھی یہ تسلیم کرتے تھے کہ انگریز حکمران جناح صاحب کی ’’ہٹ دھرمی‘‘ سے زچ ہوجاتے تھے، اس لیے وہ انھیں پسند نہیں کرتے تھے۔

معروف مورخ سٹینلے وولپرٹ کی کتاب Jinnah of pakistan میرے ہاتھوںمیں ہے، اس میں انھوں نے جگہ جگہ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ہندوستان کے انگریز حکمران محمد علی جناح کے بے لچک موقف سے اکثر پریشان ہوجاتے تھے، اسی لیے برطانوی حکومت کے نمائیندے جناح صاحب کی استقامت کو ضد اور ہٹ دھرمی قرار دیتے تھے، حتیٰ کہ وائسرائے لارڈویول نے جو دوسروں کی نسبت کانگریس کی طرف قدرے کم جھکائو رکھتا تھا ایک بار جناح صاحب سے ملاقات کے بعد بہت زچ ہوکر کہا کہ ’’یہ شخص تو اتنا ہٹ دھرم ہے کہ پاکستان کے علاوہ کوئی اور بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔‘‘

ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کے بارے میں وولپرٹ نے لکھا ہے 10اپریل 1947 کو جناح کے ساتھ تین گھنٹے کی طویل ملاقات کے بعد مائونٹ بیٹن نے اپنے اسٹاف سے کہا کہ ’’مجھے مسٹر جناح کوئی نفسیاتی کیس لگتا ہے‘‘ دراصل قائد کی غیر متزلزل استقامت انگریزوں کے لیے غیر متوقع تھی، اس لیے وہ مسلمانوں کے عظیم راہنما کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے تھے۔

 ’’حقائق حقائق ہیں‘‘ یہ کتاب تضادات سے بھرپور ہے۔ صاحب کتاب ’’حقائق‘‘ کی کئی جگہوں پر خود نفی کرتے ہیں۔ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کو انگریزوں کی سپورٹ حاصل تھی، لیکن کسی ایک بات کو بھی وہ دلائل سے ثابت نہیں کرسکے۔ مگر صفحہ نمبر 68 پر وہ خود لکھتے ہیں کہ

’’انگریزوں نے ہندو مہاسبھا کے ساتھ اس غرض سے دوستی لگا رکھی تھی کہ جب مسلم لیگ، تقسیم پر (یعنی پاکستان کے قیام پر) زور دے تو اسے کائونٹر کرنے کے لیے ہندو مہاسبھا کو میدان میں اتاردیا جائے‘‘ تمام تاریخی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ 1948 کے اوائل تک برطانوی وزیراعظم بھی اور ہندوستان میں برطانیہ کے نمائندے بھی قیامِ پاکستان کے سخت مخالف تھے۔ سیالکوٹ کے معروف قانون دان، محقّق اور کئی کتابوں کے مصنّف جناب محمد آصف بھلّی نے ایک حالیہ مضمون میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ برطانوی حکومت اور وائسرائے ہند آخر دم تک قیامِ پاکستان کے مخالف رہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت صوبۂ سرحد (موجودہ خیبرپختونخواہ) میں کانگریس کی حکومت قائم تھی اور عبدالغفار خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب وزیرِ اعلیٰ تھے، ان کی خواہش تھی کہ قائداعظم یہ حکومت قائم رہنے دیں۔ یہ ناممکن تھا۔ جس جماعت (کانگریس) نے قیامِ پاکستان کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا وہاں کے عوام یا مسلم لیگ کے ورکر اس پارٹی کی حکومت کیسے برداشت کرسکتے تھے؟ اس ضمن میں غفار خان نے قائداعظم سے ملاقات بھی کی مگر وہ اپنی حکومت نہ بچاسکے۔

ویسے سیاسی اصولوں کا تقاضا تو یہ تھا کہ جب وہ اپنا سیاسی مقدمہ ہار گئے تو ڈاکٹر خان صاحب استغفٰی دے دیتے، مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ پاکستان کی کس قدر فراخدلی ہے کہ جو شخص قیامِ پاکستان کا مخالف تھااور جس نے اس ملک میں دفن ہونا بھی پسند نہ کیا اُسی شخص کے grand children اس ملک میں وزیر بھی رہے اور وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔

یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ موجودہ بھارت کے اہم راہنما قیامِ پاکستان کو انگریزوں کی خواہش یا سازش قرار نہیں دیتے، ان میں سے اکثر اسے انتہا پسند ہندوئوں کے رویئے کو قرار دیتے ہیں۔ بھارت کے ایک دانشور سیاستدان ایل کے اڈوانی کا ویڈیو بیان دیکھ رہا ہوں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’’گاندھی اور نہرو، جناح صاحب کو اس بات پر قائل کرنے میں ناکام رہے کہ انگریزوں کے جانے کے بعد ہندوستان میں ہندو راج نہیں ہوگا بلکہ اس میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفّظ کیا جائے گا‘‘۔

تمام مورّخ اس بات پر متفق ہیں کہ جناح صاحب دل سے چاہتے تھے کہ مسلمان، ہندو اور سکھ مل کر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کریں، اسی لیے جناح صاحب کو ’’ہندو مسلم اتحاد کا سفیر‘‘ بھی قرار دیا گیا، مگر جب 1928 میں موتی لال نہرو کی رپورٹ آئی تو اس سے ہندئوں کی ذہنیّت کھل کر سامنے آگئی۔

انھوں نے جناح صاحب کی تمام تر کوششوں کے باوجود مسلمانوں کے حقوق سے متعلّق کوئی ایک مطالبہ بھی نہ تسلیم کیا اور نہ رپورٹ میں شامل کیا۔ کانگریسی لیڈروں کی اس تنگ ظرفی سے جناح صاحب سمیت ہندو مسلم اتحاد کے تمام علمبرداروں کو سخت دھچکا پہنچا۔ نہرو رپورٹ کے بعد جناح صاحب نے چودہ نکات پر مبنی مسلمانوں کے مطالبات پیش کیے، جو مسلمانوں کے حقوق کے لیے علیحدہ جدّوجہد کا حرفِ آغاز تھا۔

(جاری ہے)

Load Next Story