سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ، 53 افراد ہلاک؛ خواتین اور بچے بھی نشانہ بن گئے

سوڈان اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم آر ایس ایف کے درمیان شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے

خرطوم: سوڈان کی فوج پر متنازع سرحدی علاقے ابیئی میں ایک بازار پر ڈرون حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابیئی کے مقامی حکام نے الزام لگایا کہ حملے کے دوران فوج نے 22 بارودی مواد یا گولہ بارود استعمال کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے، بزرگ، مقامی تاجروں، نوک ڈنکا برادری کے افراد، جنوبی سوڈان واپس آنے والے شہریوں اور سوڈانی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی ابیئی میں حملے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق امیت مارکیٹ میں کم از کم 28 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے ڈرون حملوں میں اضافے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد مقامی حکام کے اعدادوشمار سے کم ہے۔

جنوبی سوڈان کی وزارت خارجہ نے حملے پر سوڈانی سفیر کو طلب کیا اور الزام لگایا کہ فوج نے بازار کے متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ یہ مارکیٹ ان علاقوں تک سامان پہنچانے کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے جہاں نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا کنٹرول ہے۔

سوڈان اپریل 2023 سے سرکاری فوج اور نیم فوجی تنظیم آر ایس ایف کے درمیان شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ حملے بھی ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کا حصہ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اتوار اور پیر کو سوڈان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ابیئی ایک متنازع علاقہ ہے جس پر سوڈان اور جنوبی سوڈان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔ جنوبی سوڈان 2011 میں کئی دہائیوں کے تنازع کے بعد سوڈان سے الگ ہو کر آزاد ملک بنا تھا۔ خطے میں جاری لڑائی اور ڈرون حملوں کے باعث عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

Load Next Story