بلوچستان میں گندم کے سرکاری ذخائر ختم، آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
بلوچستان میں گندم کے سرکاری ذخائر کی عدم دستیابی اور اوپن مارکیٹ سے مہنگے داموں گندم کی خریداری کے باعث آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا۔
کوئٹہ میں ایک ماہ کے دوران 50 کلو فائن آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 2 ہزار روپے جبکہ چکی کے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 600 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
فلور ملز مالکان نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال برقرار رہی تو 50 کلو آٹے کا تھیلا 10 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
سابق چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن سید ناصر آغا نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں حکومت کے پاس گندم کے سرکاری ذخائر موجود نہیں، جس کے باعث صوبے کی فلور ملز اوپن مارکیٹ سے گندم خریدنے پر مجبور ہیں۔ مہنگی گندم، بجلی اور ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے آٹے کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں گندم کی 100 کلو بوری تقریباً 14 ہزار 500 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ 100 کلو آٹے کی بوری تقریباً 16 ہزار روپے اور 50 کلو فائن آٹے کا تھیلا 8 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق فلور ملز اپنے اخراجات میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں قیمتوں کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
سید ناصر آغا نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کی تقریباً 60 فیصد فلور ملز بند ہو چکی ہیں، جبکہ باقی 40 فیصد ملز مختلف مشکلات کے باوجود آٹے کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو 100 کلو آٹے کی بوری کی قیمت 20 ہزار روپے جبکہ 50 کلو تھیلے کی قیمت 10 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں بھی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق خضدار اور کراچی کے درمیان تجارتی راستے پر ترسیل متاثر ہونے سے گندم کی فراہمی مشکلات کا شکار ہے، جبکہ متبادل راستوں میں بھی رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں بلوچستان میں گندم اور آٹے کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔
سابق چیئرمین پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے ذریعے درآمد کی جانے والی گندم میں بلوچستان کو بھی مناسب حصہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے عوام کے لیے بھی سرکاری سطح پر گندم کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے۔
سید ناصر آغا کے مطابق فلور ملز ایسوسی ایشن حکومت کے ساتھ مل کر گندم کی خریداری اور ترسیل کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل طے کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو انتظامی یا مالی مشکلات درپیش ہیں تو ایسوسی ایشن سے مشاورت کرکے نجی وسائل کے ذریعے بھی گندم کی فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب، آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا بنیادی ضرورت ہے اور اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث محدود آمدن والے خاندانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں گندم کے ذخائر کی کمی اور آٹے کی بڑھتی قیمتوں نے ممکنہ غذائی بحران کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں گندم کی فراہمی، سرکاری ذخائر کی بحالی اور قیمتوں میں استحکام کے لیے فوری اقدامات کریں تاکہ عوام کو بنیادی غذائی ضرورت مناسب نرخوں پر دستیاب ہوسکے۔