پشتو موسیقی کے چار بڑے اساتذہ
پشتو موسیقی کے یہ چار عظیم استاد ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک مکمل مکتبِ فکر اور اکیڈمی کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ چاروں صرف گلوکار نہیں، پشتو موسیقی کے مختلف رنگوں، طرزوں اور مکتبوں کے عظیم نمائندے بھی ہیں۔
استاد رفیق شنواری
پشتو موسیقی کی چار آوازوں میں سے پہلی منفرد آواز، مشہور موسیقار و گلوکار استاد رفیق شنواری سنہ 1926ء میں افغانستان کے ننگرہار شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا، جو بعد میں پشاور میں آباد ہوا۔ ماں اپنے لختِ جگر رفیق شنواری کو لڑکپن میں ڈبگری بازار کے نزدیک عبدالستار شاہ باچا المعروف باچا جان کے دربار لے گئی اور انہیں باچا جان کے سپرد کرکے واپس گھر گئی۔ بابائے غزل (پشتو) امیر حمزہ خان شنواری اْس وقت دہلی میں تھے۔
وہ بھی باچا جان کے مریدوں میں سے تھے۔ حمزہ شنواری جب اپنے مرشد باچا جان کے حکم پر پشاور واپس چلے آئے، تو مرشد ہی کے کہنے پر رفیق شنواری کے سر پر دستِ شفقت رکھا۔ تربیت کے ساتھ ساتھ حمزہ بابا نے رفیق شنواری کی ایک حد تک لکھت پڑھت میں بھی معاونت کی۔ رفیق شنواری چوں کہ لڑکپن سے موسیقی کے ساتھ خصوصی رغبت رکھتے تھے، اس وجہ سے وہ اپنے مرشد باچا جان کے دربار میں محفلِ سماع میں بھرپور حصہ لیا کرتے تھے۔
پشاور کے مشہور موسیقار استاد نذیر گل جو رفیق شنواری کے ساتھ لمبے عرصہ تک ہارمونیم بجانے کے فرائض انجام دے چکے ہیں، ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ انہوں نے موسیقی کے اسرار و رموزسے آگاہی اپنے مرشد باچا جان کے دربار سے سیکھے اور انہی کی رہنمائی اور دعا سے پشتو موسیقی کے میدان میں نہ صرف دھاک بٹھائی بلکہ بڑانام بھی کمایا۔
استاد نذیر گل کے بقول: ’’باچا جان موسیقی کے اسرار و رموز سے آگاہ تھے۔ چوں کہ رفیق شنواری باچا جان کے بہت قریب رہ چکے تھے اور باچاجان ان کے پیر و مرشد بھی تھے۔ اس لیے موسیقی کے جن راگوں اور سْروں سے باچا جان آگاہ تھے، رفیق شنواری کو بھی آگاہی دلائی۔ وہ بذاتِ خود موسیقی کا ایک بھی آلہ بجا نہ سکتے تھے، لیکن دھنیں کمال کی ترتیب دیا کرتے تھے۔ رفیق شنواری باچا جان کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ سیدوں اور بزرگوں کے آستانوں پر پڑے رہتے اور انہی کی دعاوں سے شہرتِ دوام پائی۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ رفیق شنواری شاعری بھی کیا کرتے تھے۔ ایک گیت جو قبولِ عام کی سند حاصل کر چکا ہے، انہوںنے اپنے مرشد سید عبدالستار شاہ باچا کی محبت میں لکھا تھا:
ستا د سترگو بلا واخلمہ، جانانہ زما
وہ د زڑہ قرارہ راشہ، مہربانہ زما
استاد نذیر گل کا کہنا ہے کہ اْس نے رفیق شنواری کے ساتھ تقریباً 30 سال ہارمونیم بجایا ہے۔ اس دوران میں اْن سے بہت کچھ سیکھنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی سدا بہار دھنوں میں پشتو موسیقی کے سامعین اور دھنیں ترتیب دینے والوں کو بہت کچھ دان کیا ہے۔
استاد نذیر گل کے بقول: ’’باچا جان کے دربار میں، مَیں ان کے ساتھ قوالی پیش کیا کرتا تھا۔ بعد میں وہ مجھے اپنے ساتھ ریڈیو لے گئے۔ ٹیلی وِژن اور فلموں میں بھی مَیں نے ان کے ساتھ کام کیا ہے۔ لگ بھگ 30 سال ان کے ساتھ ہارمونیم بجایا ہے، جس پر مجھے بجا طور پر فخر ہے۔ اس بنا پر ببانگِ دہل یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ پشتو موسیقی میں رفیق لالا کا نعم البدل پیدا نہیں ہوسکتا۔‘‘
استاد ہدایت اللہ
استاد ہدایت اللہ پشتو فلمی موسیقی کی ایک ایسی عظیم اور منفرد آواز تھے، کہ آج تک پشتو فلموں کی دنیا میں ایسا پلے بیک گلوکار نہیں آیا جو ان کا خلا پر کر سکے۔ ان کی آواز میں ایک ایسی حلاوت تھی کہ آج بھی جب کوئی ان کے گانے سنتا ہے، تو اس پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ وہ ہندوستان کے مشہور گلوکار محمد رفیع سے بہت متاثر تھے۔ ان کی آواز میں بھی وہی مٹھاس، وسعت اور نرمی موجود تھی جو لوگ رفیع کی آواز میں محسوس کرتے ہیں۔
جب استاد ہدایت اللہ نے پاکستان کی پشتو سینما کی پہلی فلم ’’یوسف خان اور شیر بانو‘‘ میں اپنی آواز میں گانے ریکارڈ کروائے، تو ان کی شہرت دنیا کے ان تمام علاقوں تک پہنچ گئی جہاں پختون آباد تھے۔ افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ ان کے فن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں کابل بلا کر سرکاری مہمان بنایا، اور ان کے منفرد فن کی بنا پر انہیں پشتو کا محمد رفیع کا قرار دیا۔ استاد ہدایت اللہ کی آواز میں ہر رنگ موجود تھا۔ رومانی انداز بھی تھا، غزلیت بھی تھی، وطن پرستی کے گانوں میں جوش و جذبہ بھی تھا، اور کامیڈی کے لیے بھی وہ ایک الگ اور منفرد انداز رکھتے تھے۔ ان کی آواز کو جس فریم میں بھی ڈھالا جاتا، وہ اس فریم کو اور بھی خوبصورت بنا دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو فلمی موسیقی کی تاریخ میں استاد ہدایت اللہ کی آواز آج بھی پہلے درجے میں شمار ہوتی ہے۔
استاد خیال محمد
خیال محمد پشتو موسیقی کے ایک ایسے منفرد استاد ہیں، جن کی آواز اور انداز میں پختونوں کے مختلف علاقوں کے رنگ یکجا ہو گئے ہیں۔ ان میں خٹک رنگ بھی ہے، آفریدیوں کا رنگ بھی، پکتیا اور کرم کا اثر بھی، اور یوسف زئی موسیقی کی مٹھاس بھی سب موجود ہیں۔ آفریدی موسیقی کا انداز پختونخوا کے جنوبی علاقوں، پکتیا، پکتیکا اور خوست کی موسیقی سے بھی ایک جیسا تعلق رکھتا ہے، لیکن خیال محمد کا یوسف زئی موسیقی کے مکتب سے بھی بہت گہرا تعلق ہے، کیونکہ ان کا انداز اسی مکتب کا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی آواز میں ایک ایسا منفرد رنگ بن گیا ہے جس نے پشتو موسیقی کی تاریخ میں اپنے لیے ایک الگ مقام بنایا ہے۔ خیال محمد کی آواز میں خٹک، پکتیا، کرم اور یوسف زئی کی موسیقی کا ایک خوبصورت فیوژن (امتزاج) محسوس ہوتا ہے۔ لیکن ان کے انداز کا اصل لطف اس وقت اور بھی بہتر معلوم ہوتا ہے، جب کوئی ان کے گانے، ٹپے، چاربیتہ اور مصرعے سنتا ہے۔ ان کی آواز میں اس قدر پشتون ولی اور لوک رنگ ہے، کہ انسان پہلی ہی نظر میں سمجھ جاتا ہے کہ یہ پختون وطن اور پختون قوم کی آواز ہے۔ لیکن دوسری طرف، پختون استاد خیال محمد کو بادشاہِ غزل بھی کہتے ہیں۔ میرے خیال میں، پشتو موسیقی کی دنیا میں غزل گائیگی کے شعبے میں خیال محمد کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ خیال محمد غزل اس طرح نہیں گاتے کہ صرف الفاظ کو پیچیدہ انداز میں راگوں کے ساتھ گھماتے پھراتے رہیں۔ وہ غزل انتہائی سادہ، سیدھے اور فطری انداز میں گاتے ہیں۔ لیکن اسی سادگی میں وہ ایسا سر، لے اور سوز استعمال کرتے ہیں کہ ان کے فن کی اصل عظمت اسی میں ظاہر ہوتی ہے۔ میرے خیال میں استاد خیال محمد کے یہ فطری سر صرف ریاضت کا نتیجہ نہیں ہیں۔ ریاضت یقیناً موجود ہے، لیکن یہ وہ خدا داد نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی ہے۔ ایک دن لاہور میں فلمی ریکارڈنگ جاری تھی۔ استاد خیال محمد ریکارڈنگ کر رہے تھے۔ ریکارڈنگ کے بعد استاد طافو آئے، استاد خیال محمد کی طرف دیکھا اور ان سے کہا: ’’استاد جی! آپ پر خدا کا خاص فضل ہے۔ ہر انسان کے وجود میں ایک نالی ہوتی ہے جو ناک کے ذریعے آواز کی تشکیل میں حصہ لیتی ہے، لیکن آپ کی دونوں نالیاں اس طرح کام کرتی ہیں جو دنیا کے بہت کم لوگوں میں ہوں گی۔‘‘ سچ بات یہ ہے کہ استاد خیال محمد کی آواز میں سوز بھی ہے، سر بھی ہے، لے بھی ہے اور کاریگری بھی ہے۔ خیال محمد سر کے، سوز کے اور لے کے بادشاہ ہیں۔ خیال محمد جیسے فنکار صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔
استاد ناشناس
استاد ناشناس قندھاری مکتب کے ایک بہت بڑے گلوکار ہیں اور انہوں نے پشتو موسیقی کی تاریخ میں ایک نیا اور منفرد باب کھولا ہے۔ وہ ہندوستان کے مشہور گلوکار کندن لال سہگل (کے۔ ایل۔ سہگل) سے متاثر تھے۔ جب گراموفون موسیقی کا دور آیا اور اس دور کی فنکارانہ تبدیلیاں شروع ہوئیں، تو قندھاری موسیقی کے انداز میں بھی تبدیلی آئی۔ قدیم مقامات اور علاقائی انداز کے ساتھ ساتھ ہندی کلاسیکی راگ اور نئی صوتی تکنیکیں بھی پشتو موسیقی میں داخل ہوئیں۔ اس تبدیلی میں استاد ناشناس بھی پشتو موسیقی میں ایک ایسا نیا انداز لے آئے، جس میں ایک طرف کاکڑستان کے قدیم آہنگ کا رنگ موجود تھا، تو دوسری طرف ہندی راگوں کا اثر بھی نمایاں تھا۔ یہ پشتو موسیقی کا ایک نیا فیوژن (امتزاج) تھا، جس نے استاد ناشناس کی آواز اور انداز میں اپنی ایک مخصوص شکل اختیار کر لی۔ استاد ناشناس نے اپنے وقت میں ایسے کلام بھی ریکارڈ کیے جنہیں اس وقت گانا بہت مشکل کام تھا۔ خاص طور پر جہانی صاحب کا کلام۔ ناشناس ان پہلے پشتون فنکاروں میں سے ہیں جنہوں نے منظم طریقے سے ریڈیو اور ٹیلی ویڑن پر راگ ’’خیال‘‘ ریکارڈ کروایا۔ استاد ناشناس کی آواز میں تان، مرکی، گمَک، کٹکا اور وہ تمام موسیقائی تکنیکی خصوصیات موجود ہیں، جو ہم ایک اچھے ہندی کلاسیکی گلوکار کی آواز میں سنتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناشناس کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پشتو قوم کے وہ مصرعے، لوک گیت اور زبانی ادبی مواد (Oral Literature) بھی ریکارڈ کیا جو ہماری قوم کے سینہ بہ سینہ پھیلنے والے ادب کا ایک بہت اہم حصہ ہے۔ جب ناشناس یہ گانے گاتے ہیں، تو قندھاری مکتب کی لوک موسیقی، کاکڑستان کے پہاڑوں اور وادیوں کا سوز، اور انسان کے دل کا درد اس طرح زندہ ہو جاتا ہے کہ سننے والا جذباتی طور پر اس سے جڑ جاتا ہے۔ استاد ناشناس نے صرف پشتو میں نہیں گایا، انہوں نے دری اور اردو زبانوں میں بھی گانے ریکارڈ کیے۔
یہ ان کی فنکارانہ صلاحیت کا ایک بڑا ثبوت ہے کہ ایک پشتون گلوکار دوسری زبانوں میں بھی اتنی فطری روانی اور اعلیٰ فنکارانہ معیار کے ساتھ گانا گا سکتا ہے۔ استاد ناشناس کا ایک اور بہت بڑا کمال یہ ہے کہ آج ان کی عمر 90 سال سے بھی زیادہ ہے، لیکن ان کی آواز میں کوئی بڑا تغیر نہیں آیا۔ جو آواز ان کی جوانی میں تھی، آج بھی اسی مخصوص رنگ، جذبے اور خوبصورتی میں سنائی دیتی ہے۔ استاد ناشناس نے اگرچہ دوسرے اساتذہ کی طرح بہت زیادہ گانے ریکارڈ نہ کیے ہوں، لیکن جو گانے انہوں نے ریکارڈ کیے ہیں، ان کا معیار اس قدر بلند ہے کہ آج تک تقریباً ان کا ہر گانا لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ رکھتا ہے۔ نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں بھی ناشناس کے پرانے گانے بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ یہ گانے آج بھی اس لیے زندہ ہیں، کیونکہ یہ وقت گزارنے کے لیے نہیں، بلکہ کیف و کیفیت کے لیے بنائے گئے تھے۔ استاد ناشناس کی فنکارانہ زندگی سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ موسیقی میں معیار اہم ہے، مقدار نہیں!
پشتو موسیقی اور اس کے اپنے کلاسیکی مکتب کے آخر میں ایک بہت اہم بات شازار جیلانی صاحب کے حوالے سے ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: ’’پشتو موسیقی میں استاد سلامت علی خان اور استاد بڑے غلام علی خان جیسے کلاسیکی استاد کیوں پیدا نہیں ہوئے؟‘‘
میرے خیال میں اس سوال کا جواب ہمیں پشتو موسیقی کی اپنی تاریخ اور ثقافتی ساخت میں تلاش کرنا چاہیے۔ ہماری موسیقی کی اصل بنیاد پشتو لوک موسیقی ہے۔ اور یہی لوک موسیقی ہمارا اپنا کلاسیک بھی ہے۔ ہندوستان اور پنجاب کی موسیقی ہندی کلاسیکی راگوں اور راگ راگنیوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ اگرچہ وہ لوک موسیقی رکھتے بھی ہوں، تب بھی ان کی موسیقی میں کلاسیکی راگوں کا اثر بہت نمایاں ہے۔
ہمارے پشتون موسیقاروں اور گلوکاروں نے اگر اپنا لوک انداز چھوڑ کر کسی دوسرے مکتب کی نقل شروع کر دی، تو ظاہر سی بات ہے کہ پشتو گلوکار اپنا مخصوص رنگ آہستہ آہستہ کھو دیں گے۔ بہت سے لوگوں نے یہ تجربات کئے، لیکن آج ان کے نام بھی بہت کم لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اگر پشتو گلوکار دوسری موسیقی کے راگوں اور کلاسیکی اندازوں سے کچھ سیکھتا ہے، تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بلکہ موسیقی کا ہر نیا تجربہ فن کے لیے فائدے مند ہوتا ہے۔ بنیاد اپنی ہونی چاہیے۔ اور وہ پشتو لوک اور کلاسیکی موسیقی ہے۔
ہماری موسیقی کی اصل ہماری قوم کی آواز ہے۔ ہمارے ’’ٹپے‘‘ ہیں۔ ہمارا ’’چاربیتہ‘‘ ہے۔ ہمارے ’’مصرعے‘‘ ہیں۔ ہماری ’’بدلے‘‘ ہیں۔ ہماری ’’غزلیں‘‘ ہیں، اور ہمارے علاقائی آہنگ ہیں۔ اگر ہم اپنی اس بنیاد کو چھوڑ دیں اور دوسرے مکتبوں کی نقل شروع کرنا شروع کردیں، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پشتو فنکار اپنی مخصوص شناخت، اپنا موسیقائی رنگ اور اپنا فنکارانہ کمال کھو دیں گے۔
آج جب ہم لکھتے ہیں، تاریخ بناتے ہیں اور اپنے استادوں کی فنکارانہ باتیں کرتے ہیں، تو ہمیں اس اصل موسیقائی میراث کی حفاظت بھی کرنی چاہیے۔ کیونکہ موسیقی صرف گانا نہیں ہے۔ موسیقی کسی قوم کی یادداشت ہوتی ہے۔ موسیقی ایک قوم کی پہچان ہے۔ اور موسیقی ایک قوم کی ثقافت کی زندہ تاریخ ہے۔ اگر ہم اپنا اصل برقرار رکھیں، تو دنیا کی موسیقی سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے اپنا اصل کھو دیا، تو پھر نہ پشتو موسیقی بچے گی اور نہ ہماری اپنی مخصوص موسیقائی شناخت۔