ہماری پسند، مرضی یا الگورتھم کی مرضی
ہم نے اپنے ایک ریسرچ اسکالر دوست سے الگورتھم کی تعریف پوچھی تو بولے ’’الگورتھم وہ چیز ہے جو بیگم کو شاپنگ کے لیے ایکٹیو کرتی ہے۔‘‘ ہمیں ہنسی تو آئی مگر بات تو سچ ہے۔ اسی لیے سوچا کہ اتنی اہم ’’چیز‘‘ کے بارے میں قارئین کو بھی آگاہ کیا جائے۔
بات یہ ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل دور میں الگورتھم کو سمجھنا ہر ایک کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ صرف معلومات کو منظم نہیں کرتا بلکہ بعض حالات میں یہ بھی طے کرنے میں مدد دیتا ہے کہ کون سی معلومات کتنے لوگوں تک پہنچیں گی اور لوگوں کو کس طرح اپنی مرضی سے فیصلے کرنے پر اس طرح آمادہ کیا جا سکتا ہے کہ خود انھیں اس کا علم بھی نہ ہو۔
الگورتھم کے ایک دو نہیں، بلکہ کئی پہلو ہیں جو ہماری نجی اور اجتماعی زندگی کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔
فرض کریں کہ آپ یوٹیوب پر صحافت، سیاست اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ کچھ وقت بعد یوٹیوب آپ کو اسی نوعیت کی مزید ویڈیوز دکھانے لگتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پلیٹ فارم کے الگورتھم آپ کی سرگرمیوں سے متعلق مختلف اشاروں کا تجزیہ کرتے ہیں، مثلاً آپ نے کون سی ویڈیوز دیکھی ہیں؟ کس ویڈیو پر زیادہ وقت گزارا؟ کن موضوعات کو تلاش کیا؟ کن ویڈیوز کو پسند کیا؟ اور آپ جیسے دوسرے صارفین کون سا مواد دیکھتے ہیں؟ اور سب سے بڑھ کر ان ویڈیوز کے درمیان کون کون سے اشتہارات آپ کی ضرورت اور دلچسپی کی ہے؟ان معلومات کی بنیاد پر یہ نظام اندازہ لگاتا ہے کہ آپ کو آیندہ کون سا مواد دلچسپ لگ سکتا ہے۔یعنی الگورتھم کا کام صرف معلومات تلاش کرنا نہیں، بلکہ صارف کی ممکنہ دلچسپی کا اندازہ لگا کر مواد کی ترجیحی ترتیب بنانا بھی ہے کمپنیوں کے اشتہارات کو لوگوں تک پہنچانا بھی ہے۔
ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ کمپیوٹر اور ڈیجیٹل میڈیا جس طرح کام کرتے ہیں، اس میں ان کے فیصلے غیر جانب دار ہوتے ہیں اور ان میں تعصب کی گنجائش نہیں ہوتی، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کمپیوٹر اور ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو جس طرح کا ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے اور ان کے لیے جو اصول و مقاصد مقرر کیے جاتے ہیں، ان کے نتائج بھی بڑی حد تک انھی عوامل سے متاثر ہوتے ہیں۔
مثلاً سفارش کرنے والے الگورتھم (Recommendation Algorithms) صارفین کو ان کی دلچسپی یا ممکنہ ضرورت کے مطابق مواد، مصنوعات یا خدمات تجویز کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی مثالوں میں یوٹیوب کی تجویز کردہ ویڈیوز، نیٹ فلکس کی فلموں کی تجاویز، آن لائن اسٹورز پر مصنوعات کی سفارشات، میوزک ایپس پر گانوں کی تجاویز اور سوشل میڈیا پر ممکنہ دلچسپی کی پوسٹس شامل ہیں۔یہ نظام عموماً صارف کی سابقہ سرگرمیوں، مواد کی خصوصیات اور دیگر متعلقہ عوامل کو استعمال کرتے ہیں۔
الگورتھم کا ایک اہم پہلو ’’فلٹر ببل (Filter Bubble) ہے۔ اس کے تحت صارف کو اس کی سابقہ دلچسپیوں، نظریات اور سرگرمیوں کے مطابق ایک کے بعد ایک مواد ملتا رہتا ہے، جب کہ مخالف نقطہ نظر پر مبنی مواد نسبتاً کم سامنے آتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ صارف کو مختلف نقطہ ہائے نظر سے واقف ہونے کے مواقع کم ملتے ہیں، وہ اپنے پہلے سے قائم نظریے ہی کو درست سمجھتا ہے اور اس پر اس کا یقین مزید پختہ ہوتا جاتا ہے۔
اسی طرح ’’ایکو چیمبر (Echo Chamber) کی اصطلاح بھی ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے استعمال ہوتی ہے۔ اس سے مراد ایسا ماحول ہے جہاں ایک جیسے خیالات رکھنے والے افراد ایک دوسرے کی رائے کی توثیق اور حمایت کرتے ہیں، جب کہ مخالف نظریات کو کم اہمیت دی جاتی ہے۔ یوں فلٹر ببل میں مواد کے انتخاب، ترتیب اور پیشکش کا کردار اہم ہوتا ہے، جب کہ ایکو چیمبر میں سماجی روابط اور گروہی رویے بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ان دونوں صورتوں میں مختلف نقطہ ہائے نظر سے آگاہی محدود ہو سکتی ہے اور حقیقت کا متوازن جائزہ پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
اسی طرح ڈیجیٹل اشتہارات میں بھی الگورتھم مختلف صارفین یا گروہوں تک اشتہارات پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی چیز کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد اپنے موبائل فون پر اسی چیز سے متعلق اشتہارات دیکھنے لگتے ہیں۔ مثلاً ہم کسی دوست سے کسی خاص برانڈ، مصنوعات یا سروس کے بارے میں بات کرتے ہیں اور بعد میں سوشل میڈیا استعمال کرتے ہوئے ہمیں اسی سے متعلق اشتہار نظر آ جاتا ہے۔ یعنی ہمارا موبائل فون ہماری گفتگو سن رہا تھا۔تاہم اشتہارات دکھانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کی تلاش، براؤزنگ، ایپ کے استعمال، مقام سے متعلق دستیاب معلومات، اشتہاری شناختوں اور دیگر ڈیٹا سے بھی مدد لے سکتے ہیں۔
جب موبائل فون پر کسی ڈرامے کو بیک وقت ہزاروں افراد دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن وقفے کے دوران ہر شخص کو اس کی دلچسپیوں اور ممکنہ ضروریات کے مطابق مختلف اشتہارات دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ ڈیجیٹل اشتہارات کی ہدف بندی (Targeted Advertising) ہے، جس میں الگورتھم صارفین کے بارے میں دستیاب معلومات کی بنیاد پر ان کے لیے موزوں اشتہارات منتخب کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ پہلو بڑا غور طلب ہے کیونکہ ہمارے ملک میں خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے موبائل فون پر ڈرامے دیکھتی ہیں، لہٰذا وقفے میں ہر خاتون کو اس کی پسند، سوچ اور دلچسپی وغیرہ کے اعتبار سے ہی اشتہار دیکھنے کو ملے گا۔ مثلاً کہاں کہاں اور کس کس برانڈ کی سیل لگ رہی ہے۔ یوں صبح و شام جب ڈرامے دیکھتے ہوئے ، یہ اشتہارات سامنے آئیں گے تو پھر ضرورت نہ بھی ہو تو ’’خواہش‘‘ بھی ضرورت بن سکتی ہے پھر کسی مال جانا ممکن نہ بھی ہو تو تب بھی گھر بیٹھے آن لائن خریداری کا ’’ آپشن‘‘ تو موجود ہوتا ہی ہے اور بات صرف خواتین ہی کی نہیں، ایک خاندان کے تمام افراد کی ہے کیونکہ اب ہمارے ہاں معصوم بچوں کے ہاتھوں میں بھی ہر وقت موبائل ہوتا ہے۔ چنانچہ اس زاویے دیکھیں تو ایک بظاہر معمولی سا ’’ الگورتھم‘‘ ہماری سماجی زندگی پر اچھا خاصہ اثر انداز ہوتا ہے۔
یوں بظاہر ہم اپنی زندگی کے مختلف فیصلے، مثلاً کیا خریدنا ہے، کون سی مصنوعات استعمال کرنی ہیں اور کس طرزِ زندگی کو اپنانا ہے، خود کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں میں اشتہارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور الگورتھم کی مرضی کا بڑا دخل ہوتا ہے۔اسی لیے موجودہ ڈیجیٹل دور میں الگورتھم کو سمجھنا صرف ٹیکنالوجی کو سمجھنا نہیں، بلکہ اپنی معلومات، اپنی پسند اور اپنے فیصلوں کے بارے میں شعور حاصل کرنا بھی ہے۔