سندھ میں ایف بی آر چھاپوں سے مزید کاٹن جننگ فیکٹریاں، آئل ملز غیر فعال ہونے کے خدشات
فوٹو: فائل
ایف بی آرکی جانب سے ٹیکسٹائل ملوں کی سرگرمیوں کی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کے فیصلے،سندھ کے کئی علاقوں میں فعال جننگ فیکٹریوں میں چھاپوں اورریکارڈز تحویل میں لینے کے باعث پورے کاٹن سیکٹر میں تشویش کی لہردوڑگئی۔
چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق سرکاری محکموں کے منفی رویوں کے باعث صرف 2025-26 میں 100 سے زائدجننگ فیکٹریاں غیر فعال ہونے کے بعد ایف بی آر کے چھاپوں سے مزیدکاٹن جننگ فیکٹریاں اور آئل ملز غیر فعال ہونے کے خدشات پیداہوگئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی جی اے کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر خزانہ، مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر ودیگر متعلقہ اداروں کو بھیجے گئے ہنگامی خطوط میں اصلاح احوال کامطالبہ کیاگیا جبکہ وزارت تجارت کی جانب سے ایکسپورٹ فیسیلٹشن اسکیم کاجائزہ لینے کیلیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ سندھ کے علاقوں ٹنڈوآدم، شہداد پور ودیگرکچھ علاقوں میں چند روزقبل بغیرکسی پیشگی نوٹسزکے ایف بی آرکی ٹیموں نے اچانک جننگ فیکٹریوں میں چھاپے مارکر فیکٹریوں کا ریکارڈاپنے تحویل میں لیے۔
انہوں نے بتایاکہ جننگ فیکٹریوں میں ایف بی آرکے چھاپوں کے باعث ملک بھرکے کاٹن جنرز اور آئل ملز مالکان میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ پی سی جی اے کے چیئرمین سہیل محمودہرل نے وزیر اعظم ، وفاقی وزیرخزانہ،مشیر خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر سمیت کئی سرکاری اداروں کو بھیجے گئے ہنگامی خطوط میں ایف بی آرکے اس عمل پر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ سرکاری اداروں کے اس عمل سے فعال جننگ فیکٹریاں اورآئل ملز بھی غیرفعال ہونے کے خدشات ہیں، جس سے کسانوں اور ٹیکسٹائل ملز سمیت ہماری برآمدات بھی غیر معمولی طور پر متاثر ہونگی۔
اس لیے ایف بی آرکے حکام کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ چھاپوں اورریکارڈقبضے میں لینے کی بجائے متعلقہ ملزکو نوٹسز جاری کرکے ان سے متعلقہ تفصیلات حاصل کریں۔
انہوں نے کہاکہ ناگفتہ بہہ معاشی حالات میں حکومتی اداروں کے سخت طرز عمل کے باعث پہلے ہی پاکستان میں 500 سے زائدکاٹن جننگ فیکٹریاں اور 700 کے لگ بھگ آئل ملز غیر فعال ہوچکی ہیں، جبکہ 175 کے لگ بھگ ٹیکسٹائل ملزکے ساتھ سیکڑوں پاور لومزغیر فعال ہوچکی ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایات پر ای ایف ایس کاجائزہ لینے کیلیے وزارت تجارت کی جانب سے وزیر مملکت برائے خزانہ کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کردی گئی ۔