اسرائیل کا اکتوبر کے آغاز میں ایران پر بڑے حملوں کی منصوبہ بندی کا انکشاف 

اسرائیلی حکام نے ایران میں ممکنہ اہداف کی نئی فہرست بھی پیش کی، جو تازہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی

اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے خلاف کئی روزہ بڑے پیمانے پر بمباری کی منصوبہ بندی کی تھی تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باعث مبینہ طور پر یہ کارروائی منسوخ کر دی گئی۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے معاملے سے واقف تین ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ممکنہ حملوں کی تیاری کر لی تھی۔

مجوزہ کارروائی میں ایران کی جوہری تنصیبات، حکومتی اہداف اور بجلی گھروں سمیت شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا منصوبہ شامل تھا۔ ذرائع کے مطابق اس مہم کی شدت فروری میں شروع ہونے والی مشترکہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے بھی زیادہ ہو سکتی تھی۔

اخبار کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ تنازع دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مجوزہ آپریشن میں امریکی فوج نے براہِ راست حصہ لینا تھا یا نہیں۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا آنے والے ہفتوں میں دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کو اسرائیل کا دورہ کیا اور نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ایران میں ممکنہ اہداف کی نئی فہرست بھی پیش کی، جو تازہ انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی۔ اس فہرست میں شہری بنیادی ڈھانچے کے ایسے اہداف بھی شامل تھے جنہیں رواں سال کے اوائل میں نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیلی فوج کئی ہفتوں سے انتہائی ہائی الرٹ پر ہے اور جمعرات سے 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات تک فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر نے اس اقدام کی وجہ جمہوری انتخابات کو محفوظ اور مقررہ وقت پر منعقد کرانا بتائی ہے۔

Load Next Story