ریلوے پٹریوں پر پتھر، مگر میٹرو ٹریک پر کیوں نہیں؟ دلچسپ وجہ جانیں
ٹرین میں سفر کرتے ہوئے آپ نے اکثر ریلوے پٹریوں کے درمیان اور اطراف میں پتھر دیکھے ہوں گے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ میٹرو ٹرین کی پٹریوں پر عموماً یہ پتھر کیوں نہیں ہوتے؟
دراصل اس کی وجہ دونوں ٹریکس کی ساخت، دیکھ بھال اور تعمیر کا مختلف طریقہ ہے۔
ریلوے ٹریک پر پتھر کیوں ہوتے ہیں؟
ریلوے پٹریوں پر بچھائے جانے والے پتھروں کو ’ٹریک بیلسٹ‘ کہا جاتا ہے، جو ٹرین کے بھاری وزن کو زمین پر یکساں تقسیم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
یہ پتھر پٹریوں کو اپنی جگہ مضبوط رکھتے ہیں اور ٹرین گزرنے کے دوران پیدا ہونے والی حرکت کو محدود کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ بارش کے پانی کو جمع ہونے سے روکنے اور زمین میں نکاسی کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
میٹرو ٹریک پر پتھر کیوں نہیں ہوتے؟
میٹرو ٹرینوں کے زیادہ تر ٹریک کنکریٹ کی مضبوط بنیاد پر تعمیر کیے جاتے ہیں، جنہیں ’بیلسٹ لیس ٹریک‘ کہا جاتا ہے۔
یہ طریقہ خاص طور پر زیرِ زمین سرنگوں اور بلند پلوں پر چلنے والی میٹرو ٹرینوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔
کنکریٹ کی بنیاد پٹریوں کو درست جگہ برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ پتھروں کی صفائی اور ترتیب سے متعلق دیکھ بھال کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔
کیا تمام میٹرو ٹریک پتھروں کے بغیر ہوتے ہیں؟
ایسا نہیں ہے، بعض میٹرو ٹریکس خصوصاً ڈپو اور دیکھ بھال کے مخصوص حصوں میں پتھر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق دونوں طریقوں کا انتخاب ٹریک کی جگہ، تعمیراتی لاگت اور دیکھ بھال کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔