گل پلازہ آتشزدگی کوئی سانحہ نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، گواہ کا انکشاف
گل پلازہ آتشزدگی کیس میں گواہ کے بیان پر وکیل صفائی نے جرح مکمل کرلی، گواہ نے انکشاف کیا کہ مارکیٹ میں کوئی فائر سیفٹی نا کوئی فائر الارم تھا، حالات و واقعات دیکھ کر لگتا ہے یہ کوئی سانحہ نہیں، دہشتگردی ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے پراسیکیوشن کی جانب سے بلڈنگ کا ملبہ اٹھانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت کے روبرو گل پلازہ آتشزدگی کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے دکاندار شاہد پانی والے گواہ کا بیان قلمبند کرلیا۔
گواہ نے بیان میں کہا کہ گل پلازہ انتظامیہ کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مارکیٹ، دکاندار اور گاہک کئی گھنٹے تک حبس بے جا میں رہے۔ زندگیاں بچانے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ اگر کوشش کی جاتی تو لوگوں کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
گواہ کے مطابق آگ مارکیٹ کے اندر لگی، اس لیے یہ مارکیٹ کا اندرونی معاملہ ہوا۔ اس کی تمام تر ذمہ داری گل پلازہ انتظامیہ پر جاتی ہے۔ مارکیٹ میں آگ کی شدت اور پھیلاؤ دیکھ کر یہ شبہ ہو رہا تھا کہ یہ سوچی سمجھی سازش کے تحت لگائی گئی آگ ہے۔ کئی جانیں گئیں اور معاشی نقصان بھی ہوا۔
گواہ نے مزید بتایا کہ 22 جنوری کو ایک لیٹر ڈی آئی جی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او نبی بخش کو بھیجا۔ لیٹر میں درخواست کی کہ مقدمے کا اندراج کیا جائے۔ اس لیٹر پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ پھر سیشن جج کے پاس مقدمہ اندراج کی درخواست دائر کی۔ عدالت کے نوٹسز کے بعد 31 جنوری کو ایک رپورٹ پیش ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 23 جنوری کی شام مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔
عدالت نے گل پلازہ سانحے سے متعلق سماعت کے دوران گواہ کو ہدایت کی کہ رپورٹ کے بجائے اپنا بیان قلمبند کروائیں۔ گواہ نے کہا کہ عدالت نے درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ دیا تھا۔ جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں واضح تھا کہ گل پلازہ کے 16 دروازوں میں سے دو چار کھلے ہوئے تھے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتی رپورٹ چھوڑیں اور اپنا بیان بتائیں۔ گواہ نے کہا کہ مارکیٹ میں نہ فائر سیفٹی کا انتظام تھا اور نہ ہی فائر الارم نصب تھا، جبکہ گل پلازہ یونین بھی رجسٹرڈ نہیں تھی۔
گواہ نے بیان میں کہا کہ حالات و واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کوئی سانحہ نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ ان کے پاس کچھ ویڈیوز بھی ہیں جو ان کے مؤقف کو ثابت کریں گی۔ عدالت نے کہا کہ ویڈیوز پیش کر دیں، تاہم یہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ہے، اس میں ویڈیوز کی ضرورت نہیں۔ گواہ نے استدعا کی کہ جب تک گواہی جھوٹی ثابت نہ ہوجائے، انہیں سازشی ٹولہ نہ کہا جائے۔
بعد ازاں، وکیل صفائی جاوید میر نے گواہ کے بیان پر جرح شروع کی۔ وکیل نے پوچھا کہ گل پلازہ میں وہ کیا کاروبار کرتے تھے، جس پر گواہ نے بتایا کہ وہ منرل واٹر سپلائی کرنے کا کام کرتے تھے۔ خالی اور بھری بوتلوں کا اسٹاک پلانٹ میں رکھا جاتا تھا۔
گواہ نے تصدیق کی کہ آگ میں ان کا بھی نقصان ہوا، تاہم ان کا کاروبار زیادہ بڑا نہیں تھا اور ماہانہ آمدن چار سے پانچ لاکھ روپے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کاروبار ’’ایٹس پیور‘‘ کے نام سے تھا، جو کسی ادارے میں رجسٹرڈ نہیں تھا۔
وکیل صفائی نے استفسار کیا کہ کیا کاروبار انکم ٹیکس، سندھ بورڈ آف ریونیو یا کسی دوسرے محکمے میں رجسٹرڈ تھا، جس پر گواہ نے نفی میں جواب دیا۔ وکیل نے پوچھا کہ کیا انہوں نے پانی کی لیبارٹری رپورٹ گل پلازہ انتظامیہ کے پاس جمع کروائی تھی۔
گواہ نے کہا کہ انتظامیہ نے کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ تنویر پاستا کی کمیٹی نے انہیں قانونی تقاضے پورے کرنے اور غیر معیاری پانی فراہم نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم گواہ نے اس بات کی تردید کی۔
وکیل صفائی نے پوچھا کہ کیا آگ میں جلنے والی پانچ لاکھ روپے مالیت کی بوتلوں کا کلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گواہ نے کہا کہ انہوں نے کوئی کلیم نہیں کیا۔ وکیل نے کہا کہ کلیم کی تصدیق نہ ہونے کے باعث ادائیگی نہیں ہوئی، جس پر گواہ نے دوبارہ واضح کیا کہ انہوں نے کلیم جمع ہی نہیں کروایا تھا۔
وکیل صفائی نے الزام عائد کیا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے مطالبے پر وہ ذاتی دشمنی کی وجہ سے بیان دے رہے ہیں، تاہم گواہ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔
وکیل صفائی نے گواہ سے پوچھا کہ سانحے کے بعد ان کی گواہ عارف سے کتنی ملاقاتیں ہوئیں۔ گواہ نے کہا کہ ان کی کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ درخواست کے سلسلے میں تفتیشی افسر اور وکیل کے پاس جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے تصدیق کی کہ وہ ساتھ گئے تھے۔ وکیل نے کہا کہ گل پلازہ کی چار دکانیں گواہ کے نام پر نہیں بلکہ ان کے والد کے نام پر ہیں، جبکہ کوٹیشن ان کے نام پر ہیں۔
گواہ نے تصدیق کی کہ گل پلازہ کے ریکارڈ میں دکانیں ان کے بھائی جہانزیب کے نام پر ہیں، تاہم بہن بھائیوں کے درمیان مقدمات یا تنازع کی تردید کی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے انہی چار دکانوں کے لیے کلیم فارم جمع کروایا تھا، جس پر گواہ نے ہاں میں جواب دیا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ ان کے بھائی جاوید نے بھی کلیم فارم جمع کروایا تھا، جس کی گواہ نے تصدیق کی۔ عدالت نے پوچھا کہ رقم کس کو ملی، گواہ نے جواب دیا کہ کسی کو نہیں ملی۔
وکیل صفائی نے کہا کہ گل پلازہ کے ریکارڈ اور چیمبر آف کامرس میں دکانیں جاوید کے نام پر ظاہر کی گئی تھیں۔ گواہ نے کہا کہ یہ متعلقہ افراد کی اپنی صوابدید تھی۔ جاوید کے چیمبر آف کامرس میں پیش ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ شاید ایسا ہوا تھا۔
وکیل صفائی نے کہا کہ سندھ حکومت نے گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے رقم مختص کی ہے اور یہ رقم جاوید کو ملے گی۔ گواہ نے کہا کہ انہیں ساڑھے آٹھ ارب روپے مختص کیے جانے کا علم ہوا تھا، تاہم ان کے ذاتی مسائل کو مقدمے میں مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ وکیل صفائی نے الزام عائد کیا کہ دکانیں جاوید کو ملنے کے خدشے پر ان کی تنویر پاستا سے دشمنی ہے، جس کی گواہ نے تردید کردی۔
وکیل صفائی نے سوال کیا کہ گل پلازہ کے دروازے اور گرلز 2014 سے پہلے نصب تھے اور تنویر پاستا نے کوئی نیا گیٹ نہیں لگوایا تھا، جس پر گواہ نے کہا کہ یہ ان کے علم میں نہیں۔ رات کے وقت دروازے اور شٹر بند کرنے سے متعلق سوال پر گواہ نے بتایا کہ معمول کے مطابق رات 11 بجے کے بعد چوکیدار دروازے بند کرتے تھے۔
انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی کہ انہوں نے یا ان کے کسی ساتھی نے تنویر پاستا یا کمیٹی کے کسی رکن کو دروازے بند کرتے دیکھا تھا۔
وکیل صفائی نے کہا کہ ہفتے کی رات مارکیٹ میں رش زیادہ ہوتا تھا اور زیادہ رش گراؤنڈ فلور پر رہتا تھا۔ گواہ نے ہفتے کی رات زیادہ رش ہونے کی تصدیق کی، تاہم گراؤنڈ فلور پر رش سے متعلق کہا کہ شاید ایسا تھا۔ بیسمنٹ اور گراؤنڈ فلور پر کسی کی موت نہ ہونے اور تمام اموات میزانائن فلور پر ہونے سے متعلق سوال پر گواہ نے تصدیق کی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ڈی سی روڈ پر موجود تھے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ وہاں سے دروازے، گرلز اور سیڑھیاں نظر نہیں آتی تھیں۔ گواہ نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ انہوں نے کسی دکان کا شٹر کھلا یا بند ہونے کی ویڈیو تفتیشی افسر کو نہیں دی۔
وکیل صفائی نے مزید کہا کہ گواہ نے اپنے پہلے بیان میں بھی کسی سیڑھی کے بند ہونے کا ذکر نہیں کیا تھا، جس پر گواہ نے تصدیق کی۔ بیسمنٹ اور سیکنڈ فلور کی انتظامیہ آر جے ایسوسی ایٹس کے پاس ہونے اور ان دونوں فلورز کا گل پلازہ کے انتخابات میں شامل نہ ہونے سے متعلق سوالات پر بھی گواہ نے تصدیق کی۔
سول ڈیفنس کی مبینہ جعلی رپورٹ سے متعلق سوال پر گواہ نے کہا کہ انہوں نے رپورٹ دیکھی تھی اور اسے عدالت میں پیش کردیں گے۔ رپورٹ کی تاریخ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ اس پر مارچ 2024 درج تھا۔
وکیل صفائی نے اعتراض کیا کہ یہ سول ڈیفنس کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ فائر ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ ہے اور گواہ نے عدالت میں غلط بیانی کی ہے۔ گواہ نے وضاحت کی کہ وہ الگ رپورٹ تھی، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ دوسری رپورٹ ہے۔ گواہ نے سول ڈیفنس کی مبینہ جعلی رپورٹ تفتیشی افسر کو پیش کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
وکیل صفائی نے کہا کہ مارچ 2024 میں تنویر پاستا کی کمیٹی موجود نہیں تھی بلکہ کمیٹی اگست 2024 میں بنی تھی۔ گواہ نے مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ آگ لگنے کے بعد پچھلی تاریخوں میں تیار کی گئی تھی۔ اس کے بعد وکیل صفائی نے گواہ کے بیان پر جرح مکمل کرلی۔
دوسری جانب پراسیکیوشن نے عدالت میں گل پلازہ کی عمارت کا ملبہ اٹھانے کی درخواست دائر کردی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملبے کے باعث لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور آلودگی بھی پھیل رہی ہے، لہٰذا ملبہ ہٹانے کی اجازت دی جائے۔
عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اس کا فیصلہ آئندہ سماعت پر کیا جائے گا۔ عدالت نے سماعت 24 اکتوبر تک ملتوی کردی۔