کنگ چارلس کی عمان کیلیے پڑھی گئی حدیث کا حوالہ اور پس منظر
برطانیہ کے بادشاہ کنگ چارلس سوئم نے 44 سال سے زائد عرصے کے بعد عمان کے سربراہ کے دورے کا خیر مقدم ایک حدیث پیش کر کے کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ششدر کردیا۔
عمان کے سلطان ہیثم بن طارق تقریبا 44 برس کے بعد برطانیہ کے سرکاری دورے پر پہنچے جہاں اُن کا شاندار استقبال کیا گیا۔
عمان کے سلطان کے اعزاز میں برطانوی بادشاہ کنگ چارلس کی جانب سے استقبالیہ تقریب رکھی گئی تھی جس میں عمانی وفد کے اراکین اور شاہی خاندان کے افراد سمیت حکومتی و دیگر شخصیات شامل تھیں۔
لندن میں ہونے والی اس شاہی تقریب میں کنگ چارلس نے 44 سال بعد عمان کے سربراہ کے دورے کا خیر مقدم کیا اور اس موقع پر انہوں نے حدیث نبوی بھی پیش کی۔
کنگ چارلس نے تقریب میں یہ حدیث عربی زبان میں پڑھ کر سنائی جس کی روایت صحیح مسلم میں اور حدیث نمبر 2544 ہے۔
مفہوم و ترجمہ:
حدیث مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ایک صحابی کی شکایت پر کہا کہ اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھارے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے اور برے سلوک سے گریز کرتے۔
اس حدیث میں عربی کے جو الفاظ تحریر کیے گئے ہیں ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ یہ بنتا ہے کہ ’اگر تم اہل عمان کے پاس جاتے تو وہ تمھیں گالیں دیتے اور نہ ہی مارتے‘۔
اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں جنہوں نے بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک صحابی کو کسی عرب قبیلے کے پاس بھیجا اور جب وہ واپس آئے تو انہوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ اُس قبیلے کے لوگوں نے مجھے مارا پیٹا ہے۔
اس پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔
مفسرین کے مطابق اس حدیث میں آپ ﷺ نے جس ملک عمان کا ذکر کیا اُس کا دارالحکومت مسقط ہے۔ واضح رہے کہ اردن کے دارالحکومت کا نام بھی اردو میں عمان لکھا جاتا ہے جبکہ اس کا انگریزی تلفظ Amaan بنتا ہے۔