ٹرمپ سے اختلاف ذاتی نہیں لیکن روس پر پابندیاں نرم کرنا خطرناک ہے، یوکرینی صدر

مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں تاہم روس کو یوکرینی علاقوں کا قبضہ چھوڑنا ہوگا، صدر زیلنسکی

امریکی صدر نے یوکرینی ہم منصب کے لباس کی بھی تعریف کی

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے اختلافات ذاتی نوعیت کے نہیں تاہم روس پر پابندیاں اٹھانے سے صدر ولادیمیر پیوٹن مزید طاقت ور ہوجائیں گے۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی صدر پیوٹن جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتے اور وہ دوسروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

صدر زیلنسکی نے اپنے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر دباؤ کم کرنے کے بجائے یوکرین کو مطلوبہ دفاعی میزائل اور ٹیکنالوجی فراہم کریں۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ محاذوں پر جنگ بندی کرکے ہلاکتیں روکی جاسکتی ہیں اور مذاکرات شروع کیے جاسکتے ہیں تاہم روس کو یوکرینی علاقوں کا قبضہ چھوڑنا ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف زمین یا محض اس کے رقبے کا نہیں ہے بلکہ وہاں رہنے والے لوگوں اور یوکرین کی آزادی سے جڑا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور یوکرین کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں کشیدہ ہوئے ہیں جب صدر ٹرمپ نے روس پر نہ صرف پابندیاں نرم کیں بلکہ اس سے ایندھن خریدنے کا معاہدہ بھی کیا۔

دوسری جانب یوکرین کو انٹیلی جنس معلومات اور اسٹارلنک مواصلاتی نظام تک رسائی میں مشکلات کا سامنا بھی رہا ہے۔

امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے بدھ کو سینٹ پیٹرزبرگ میں پیوٹن سے تین گھنٹے ملاقات کی تھی۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ یوکرین جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے۔

Load Next Story