تارکین وطن کی بیدخلی کیخلاف احتجاج؛ جنوبی افریقا میں مشتعل ہجوم ہاتھوں غیر ملکی ہلاک

مقتول کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان تھی

جنوبی افریقا میں غیر ملکی تارکین وطن کیخلاف پُرتشدد احتجاج جاری (فوٹو: سوشل میڈیا)

جنوبی افریقا کے شہر ڈربن میں تقریباً 50 افراد کے مشتعل ہجوم نے ایک غیر ملکی شہری کو تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق مقتول کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 30 سے 40 سال کے درمیان تھی۔

صوبائی پولیس کے ترجمان رابرٹ نیتشیونڈا نے بی بی سی کو بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قتل کے محرکات کے بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ تفصیلات سامنے آنے پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سڑک کنارے دو افراد نے اسے روکا جس کے بعد مزید افراد وہاں جمع ہوگئے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ شہری موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

قتل کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی البتہ یہ واقعہ جنوبی افریقا میں غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف جاری احتجاجی مہم کے دوران پیش آیا ہے۔

رواں ماہ اس احتجاجی مہم کے دوران ڈربن اور جوہانسبرگ کے قریب سوویٹو میں دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے تھے۔

غیر دستاویزی تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ کرنے والی تحریک ’مارچ اینڈ مارچ‘ نے اس سال جون کے آخر تک ایسے تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کی مہلت دی تھی۔

احتجاج کے دوران دیگر افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ نائیجیریا، گھانا اور زمبابوے نے اپنے شہریوں کے تحفظ اور وطن واپسی کے لیے اقدامات کیے تھے۔

یاد رہے کہ جنوبی افریقا میں غیر ملکیوں کے خلاف تشدد کا مسئلہ نیا نہیں۔ 2008 میں ایسے حملوں کے دوران 60 سے زیادہ افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوگئے تھے۔

 

Load Next Story