بی بی سی کیخلاف 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ؛ ٹرمپ بڑی مشکل میں پھنس گئے

صدر ٹرمپ نے کسی بھی وجہ سے عدالتی حکم کی تعمیل نہیں کی مقدمہ خارج ہوسکتا ہے

امریکی صدر کو بی بی سی کیخلاف 10 ارب ڈالر کے ہتکِ عزت مقدمے میں بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا گیا

ایک امریکی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں 11 دسمبر تک حلفاً اپنا بیان ریکارڈ کرانے کا حکم دیا ہے۔

سی این این کے مطابق امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ مقررہ وقت تک حلف کے تحت ریکارڈ کرائے گئے بیان کی تعمیل میں ناکامی پر ان کا بی بی سی پر 10 ارب ڈالر کا مقدمہ خارج بھی ہوسکتا ہے۔

وفاقی مجسٹریٹ جج اینجولیک ایچ لیٹ نے جمعرات کو سماعت کے دوران ٹرمپ کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ مقدمے سے متعلق مطلوبہ معلومات اور دستاویزات فراہم کرنے کے لیے مزید کوشش کریں۔

جج نے بی بی سی کی جانب سے ٹرمپ کی رہائش گاہ مارا لاگو کی رکنیت کا ریکارڈ طلب کرنے کے عدالتی نوٹس کی بھی حمایت کی۔

یاد رہے کہ ٹرمپ نے دسمبر 2025 میں بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا کہ صدارتی انتخابات 2024 سے قبل نشر ہونے والی ایک دستاویزی فلم میں ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کے دو الگ حصوں کو جوڑ کر گمراہ کن تاثر دیا گیا۔

فلم میں ان کے حامیوں سے کیپیٹل ہل جانے کی اپیل کو تقریر کے اس حصے کے ساتھ ملایا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’’جان لڑا کر مقابلہ کریں گے‘‘۔

اس تقریر کے بعد ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔

مقدمے میں بی بی سی نے ٹرمپ کے موجودہ اور سابق حکام سمیت ان کے قریبی حلقے کے افراد سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے کم از کم 47 عدالتی نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان میں جیرڈ کشنر، ایوانکا ٹرمپ، سابق اٹارنی جنرل بل بار اور سابق وائٹ ہاؤس وکیل پیٹ سیپولون شامل ہیں۔​​​​​​​

 

Load Next Story