رکیے۔۔۔۔ ! خود کشی تو حل نہیں۔۔۔۔۔۔۔!
دنیا بھر میں خودکشی کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
عدم برداشت، مہنگائی، بدامنی، حصول روزگار میں بے یقینی کی صورت حال کے باعث نفسیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
دور جدید کی سائنسی ایجادات نے بھی سہولیات کے ساتھ انسانی معاشرے کو ذہنی تناؤ ، ڈپریشن اور نفسیاتی امراض میں مبتلا کردیا ہے، اور تیز ترین حالات زندگی نے انسان کو دکھ، غم، پریشانی، عدم تحفظ کا احساس دے کر خوشیاں چھین لی ہیں۔ بیشتر لوگ موجودہ طرز زندگی اور اس کے روز و شب سے خوش نہیں۔ ان حالات میں رشتوں میں دوریاں پیدا ہورہی ہیں، اور ہر تیسرا فرد ڈپریشن کا شکار دکھائی دیتا ہے۔
یاد رکھیے!
حالات کیسے ہی ہوں مرنا نہیں جینا بہادری ہے، خود کشی بزدلی اور کم ہمتی کی دلیل ہے۔ جب کہ بلند حوصلے، ہمت ، پختہ عزم، صبر اور ایمان کی طاقت کے ساتھ ہر طرح کے حالات سے نبرد آزما ہُوا جاسکتا ہے ۔ اس وقت پوری دنیا کے محروم لوگوں میں اپنی ذمے داریوں سے بے اعتنائی اور ایمان سے محرومی یا کم زوری کے باعث خود کشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی خودکشی کے واقعات میں خوف ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ جب کہ خودکشی حرام موت ہے جو کہ کسی بھی حالت میں جائز نہیں۔ خودکشی کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس فعل حرام کا مرتکب اﷲ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے ۔ درحقیقت انسان کا اپنا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت اور کسبی نہیں بلکہ اﷲ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ ہر صورت زندگی کی حفاظت کریں۔ دکھ ، پریشانیاں، مسائل اور آزمائشیں زندگی کا حصہ ہیں، ان میں سے بیشتر تو انسان کے اپنے اعمال ، افعال ، اقوال کی وجہ سے پیش آتی ہیں جب کہ چند ایک خالق کائنات کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں، اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمائش میں ڈال کر ان کے گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے۔ جو لوگ آزمائش میں پورا اترتے ہیں وہ اﷲ کی رحمتوں کے سائے میں آجاتے ہیں اور جو ناکام ہوجاتے ہیں ان میں سے چند خودکشی کو راہ نجات سمجھتے ہوئے اپنا خاتمہ کر لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنا اور اپنے اہل و عیال و خاندان کا دنیاوی نقصان کرتے ہیں بلکہ اپنی آخرت بھی تباہ کر لیتے ہیں۔ بہترین انسان وہ ہے جو کہ مشکل حالات کا جائزہ لے، اسباب کو تلاش کرے ان کا مداوا کرے، مشکلات کو آسانیوں میں بدلے ، اور اﷲ تعالیٰ پر کامل توکل و بھروسا کرتے ہوئے مایوسی کی بہ جائے صبر و رضا میں زندگی بسر کرے ۔ قرآن مجید فرقان حمید کی سورۃ انشرح میں تکرار کے ساتھ دو آیات کا مفہوم ہے کہ بے شک! ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ تو بس اﷲ پر یقین رکھے کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
ہم وہ خوش نصیب ہیں جو مسلمان پیدا ہوئے، ہمیں وہ دین ملا جو کہ مکمل ضابطہ حیات ہے ، مگر المیہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی اب خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 25 فی صد افراد ڈپریشن، ذہنی دباؤ اور دماغی بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ ہمارے ہاں خودکشی کی وجوہات میں معاشرے میں عدم برداشت، خانگی تنازعات، غربت، مہنگائی اور معاشی صورت حال، پڑھائی میں اچھے گریڈ نہ لانا، گھریلو جھگڑے ، پسند کی شادی نہ ہونا اور آج کل سائبر کرائمز کے ذریعے لڑکے لڑکیوں کو تصاویر یا ویڈیوز کے لیے بلیک میل کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ ـ ماہرین نفسیات نے خودکشی کی سب سے بڑی وجہ معاشی بدحالی قرار دیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق تنہائی، چڑچڑا پن، شرمندگی، نشہ آور اشیا کا استعمال اور ایسی باتیں جو شرمندگی یا تکلیف کا باعث بنیں، انسان کو ذہنی بیماریوں کی طرف دھکیلتی ہیں، ایسے میں اہل خانہ کی توجہ اور ماہر نفسیات سے رابطہ ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زندگی میں مخلص دوستوں کا ہونا بھی ضروری ہے چاہے وہ زیادہ نہیں تو ایک دو ہی ہوں جن سے آپ دل کی ہر بات کہہ سکیں۔ کیوں کہ جب دل پر مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ، تبھی دماغ آپ کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کرتا ہے اور دماغ ایسے کیمیکل پیدا کرتا ہے جو آپ کو خودکشی کرنے پر اکساتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے دل پر بوجھ نہ بننے دیجیے ۔ اور اس کا سب سے آسان نسخہ اﷲ کو یاد کرنا، اس کا شکر کرنا اور اس پر بھروسا کرنا ہے ۔
خود کشی اسلام میں حرام قرار دی گئی ہے۔
خاتم النبیین رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا، مفہوم:
’’جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گرا کر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ پڑا رہے گا اور جس نے زہر پی کر خود کشی کر لی وہ زہر اس کے ساتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اسی طرح ہمیشہ پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خود کشی کرلی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لیے وہ اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔‘‘ (صحیح بخاری)
خود کشی جیسے قبیح عمل کو روکنے کے لیے ہمیں اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا کہ یہ عارضی زندگی ہمیں ایک بار ملی ہے اور اسی میں کیے گئے اعمال کا نتیجا ہمیں آخرت میں ملے گا۔ ہمیں زندگی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا، دوسروں میں مثبت سوچ پیدا کرنی ہوگی، امید و یقین کے چراغ جلانے ہوں گے ۔ اپنے مال کی پوری زکوٰۃ دینی ہوگی، ضرورت مندوں کو ڈھونڈ کر ان کی مدد کرنی ہوگی۔ یہ کسی ایک کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کا یہ فرض ہے۔ ہمیں ان اسباب کا بھی سدباب کرنا ہوگا جن کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہمیں اپنی نوجوان نسل کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ دنیا کی سب سے قیمتی شے ان کی جان ہے اور ہمیں خود کو ہر حال میں زندہ رکھنا ہے۔ خود کو زندہ رکھنے کی چاہ میں ہی انسان جنگلوں سے نکل کر اس جدید دور تک آیا، لیکن مایوسی اور عدم برداشت کی بدولت آج انسان اس زندہ رہنے کی چاہ سے محروم ہونے پر تلا ہے۔ خودکشی کو روکنے کے لیے لمبی تقریریں ، کانفرنسیں اور میٹنگز کرنے کی بہ جائے اگر زندہ رہنے کے جذبے کی آب یاری کی جائے تو بلاشبہ خودکشی کو جڑ سے ختم کیا جا سکتا ہے ۔