پاکستان کی سفارتی پیش قدمی
پاکستان کے حالیہ سفارتی روابط میں مالدیپ کے ساتھ وسیع تر تعاون، متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں کی سابقہ رفتار کی بحالی اور پاکستان، ترکیے، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی صنعتی اشتراک کا معاہدہ ایسے تین اہم پہلو ہیں جو خارجہ تعلقات کی بدلتی ترجیحات کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان پیش رفتوں کو الگ الگ واقعات سمجھنے کے بجائے ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جہاں تجارت، افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صلاحیت ایک دوسرے سے مربوط ہوکر قومی مفادات کی نئی صورت گری کرتے ہیں۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے دورہ پاکستان کے دوران بیس مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے روایتی دوستانہ تعلقات کو اب زیادہ عملی اور کثیرالجہتی بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سلامتی، ڈیجیٹل مہارتوں، صحت، تعلیم، دفاع، بحری سلامتی، زراعت، سیاحت، تجارت اور ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں تعاون کی گنجائش دونوں ملکوں کی ضروریات اور صلاحیتوں کے درمیان اشتراک کے نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ تاہم، کسی بھی مفاہمتی یادداشت کی حقیقی قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے نتیجے میں منصوبے شروع ہوں، وسائل مختص کیے جائیں، متعلقہ اداروں کو ذمے داریاں سونپی جائیں اور طے شدہ اہداف کی تکمیل کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ سفارت کاری میں دستخط آغاز ہوتے ہیں، منزل نہیں۔
پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دوطرفہ تجارت کو موجودہ ایک کروڑ چونتیس لاکھ ڈالر سے بڑھا کر دو برس میں بیس کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف اسی لیے خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے نجی شعبے کو بھی متحرک کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے پاس ادویات، طبی آلات، زرعی مصنوعات، چاول، غذائی اجناس، تعمیراتی خدمات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں ایسی صلاحیتیں موجود ہیں جنھیں مالدیپ کی ضروریات کے مطابق منظم انداز میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب مالدیپ کی سیاحتی صنعت، سمندری وسائل اور خدمات پر مبنی معیشت پاکستانی کاروباری اداروں کے لیے نئے امکانات رکھتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطوں، بحری نقل و حمل، ادائیگیوں کے طریقہ کار اور کاروباری معلومات تک رسائی میں بہتری تجارتی حجم بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے۔
مالدیپ ایک جزیرہ ریاست ہے جس کی معیشت میں سیاحت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جب کہ ماحولیاتی تبدیلی اور سمندر کی سطح میں اضافہ اس کے لیے طویل مدتی چیلنج ہیں۔ پاکستان بھی موسمیاتی تغیر، سیلاب، پانی کی قلت اور زرعی دباؤ جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس مشترکہ صورتِ حال میں ماحولیاتی تحفظ کے شعبے میں تعاون رسمی سفارتی عبارت سے آگے بڑھ کر عملی ضرورت بن جاتا ہے۔ آبی وسائل کے انتظام، آفات سے نمٹنے، موسمیاتی معلومات کے تبادلے، ساحلی تحفظ اور پائیدار سیاحت کے منصوبے دونوں ملکوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سائبر سلامتی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں اشتراک نوجوانوں کے لیے تربیت، روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
اسی وسیع تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق یہ مؤقف بھی توجہ چاہتا ہے کہ پانی روکنے کی کوئی کوشش ناقابلِ قبول ہوگی اور اسے جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زراعت، خوراک، صنعت اور کروڑوں شہریوں کی زندگی سے وابستہ بنیادی ضرورت ہے۔ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان آبی معاملات کے انتظام کا ایک اہم قانونی فریم ورک ہے۔ اس لیے اس معاہدے سے متعلق کسی بھی تنازع کا جائزہ بین الاقوامی ذمے داریوں، طے شدہ طریقہ کار اور دستیاب قانونی ذرائع کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ پانی کے معاملے میں سخت موقف کے ساتھ سفارتی رابطے، قانونی تیاری، آبی اعدادوشمار اور موثر آبی انتظام بھی ضروری ہیں۔ قومی مفاد کا تحفظ صرف انتباہ سے نہیں، بلکہ مضبوط ادارہ جاتی تیاری اور قابلِ عمل حکمتِ عملی سے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
اس سفارتی منظرنامے کا دوسرا اہم رخ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور پاکستانی شہریوں کو اوسطاً ہر ماہ تقریباً تیس ہزار ویزے جاری کیے جانے کی اطلاع ہے، اگرچہ ویزوں کی تعداد میں بحالی کو خوش آئند پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس معاملے کی اہمیت محض سفر کی سہولت تک محدود نہیں۔ متحدہ عرب امارات پاکستانی افرادی قوت، کاروباری سرگرمیوں، ترسیلاتِ زر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایک اہم شراکت دار ہے۔ وہاں کام کرنے والے پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں بلکہ قومی معیشت میں بھی قابلِ ذکر حصہ ڈالتے ہیں۔ ویزوں کی سہولت میں بہتری سے روزگار، تجارت اور خاندانی روابط کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ قانونی تحفظ، ملازمت کے معیارات اور شہریوں کے وقار کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔
اس ضمن میں پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے سفیر جنرل سالم محمد الزعابی کے تعمیری کردار سے متعلق سفارتی ذرائع کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دوطرفہ تعلقات میں سفیروں کی فعالیت اہم ضرور ہوتی ہے، مگر پائیدار بہتری کا انحصار دونوں ریاستوں کے درمیان مستقل رابطے، واضح پالیسیوں اور باہمی اعتماد پر ہوتا ہے۔ خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کی معاشی جہت اس لیے بھی اہم ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر ملکی ادائیگیوں کے توازن اور لاکھوں گھرانوں کے بجٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ تاہم، ایک مضبوط معیشت صرف افرادی قوت برآمد کرکے نہیں بنائی جا سکتی۔
اس کے لیے مقامی صنعت، برآمدات، زرعی پیداوار اور جدید خدمات کے شعبوں کو بھی وسعت دینا ہوگی۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہتر تعلقات سے سرمایہ کاری اور منڈیوں تک رسائی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان امکانات کو حقیقت میں بدلنے کے لیے پاکستان کو پالیسیوں کا تسلسل، کاروباری آسانیاں، شفاف ضابطے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا ہوگا۔ سفارتی گرم جوشی اس وقت معاشی قوت بنتی ہے جب اسے پیداواری سرگرمیوں میں ڈھالا جائے۔
تیسری اہم پیش رفت پاکستان، ترکیے، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دوحہ میں دفاعی صنعتی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہیں، جسے بدر مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا ہے۔ اس معاہدے میں مشترکہ فوجی مشقوں، تربیت اور دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ چاروں ممالک کے درمیان یہ اشتراک دفاعی ضروریات کے تبادلے، پیشہ ورانہ تجربات سے استفادے اور متعلقہ صنعتوں کے مابین روابط بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ موجودہ عالمی ماحول میں دفاعی صلاحیت صرف ہتھیاروں کی تعداد سے متعین نہیں ہوتی؛ اس میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، مقامی پیداوار، سائبر تحفظ، تربیت اور رسد کے مؤثر نظام کو بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس تناظر میں دفاعی صنعتی تعاون کی اہمیت محض عسکری سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے اقتصادی اور تکنیکی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔
ترکیے کو دفاعی صنعت اور مقامی ٹیکنالوجی کی ترقی میں تجربہ حاصل ہے، قطر خطے میں دفاعی ضروریات اور سرمایہ کاری کے حوالے سے اہم مقام رکھتا ہے، جب کہ انڈونیشیا جنوب مشرقی ایشیا کا ایک نمایاں ملک ہے۔ محض مشترکہ اعلامیے یا مشقوں سے طویل مدتی صنعتی خودکفالت حاصل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے تحقیقاتی اداروں، جامعات، انجینئروں اور دفاعی صنعت کے درمیان مستقل رابطہ ناگزیر ہے۔ دفاعی تعاون کا مقصد علاقائی استحکام اور جائز سلامتی کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
پاکستان کے لیے ایسے شراکتی روابط کی افادیت اسی وقت زیادہ ہوگی جب وہ قومی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے، اعتماد سازی اور پرامن بقائے باہمی کے امکانات سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ مشترکہ مشقیں پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ سفارتی مکالمہ تنازعات کو روکنے اور غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے اپنی الگ اہمیت رکھتا ہے۔ مضبوط دفاع اور ذمے دارانہ سفارت کاری ریاستی حکمت عملی کے دو باہم مربوط پہلو ہیں۔
خارجہ پالیسی کی اصل کامیابی اسی وقت نمایاں ہوگی جب سفارتی روابط قومی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کریں، معاشی خودانحصاری کو مضبوط بنائیں اور پاکستان کے لیے بین الاقوامی تعاون کے زیادہ پائیدار راستے کھولیں۔ دوستی کو تجارت، مفاہمت کو منصوبوں اور معاہدوں کو قابلِ پیمائش نتائج میں بدلنا ہی وہ کسوٹی ہے جس پر ان پیش رفتوں کی حقیقی قدر متعین ہوگی۔ پاکستان کے سامنے موقع موجود ہے کہ وہ اپنے جغرافیائی محل وقوع، افرادی قوت، دفاعی تجربے اور علاقائی روابط سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ سفارتی کامیابیوں کو مسلسل قومی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔