مشینی لغت : کیا ٹیکنالوجی ہماری زبان سوچ رہی ہے؟
گزشتہ دنوں ایک بظاہر معمولی مگر فکری اعتبار سے انتہائی چشم کشا واقعہ پیش آیا۔ میں اپنے لیپ ٹاپ پر ایک علمی مضمون لکھتے ہوئے ایک جملہ ٹائپ کر رہا تھا جس میں لفظ ’’گزارش‘‘ کا استعمال مقصود تھا۔ جیسے ہی میں نے لفظ مکمل کیا، ورڈ پروسیسر کی خودکار تصحیح کے نظام نے اس کے نیچے ایک تیز سرخ لکیر کھینچ دی اور مجھے اصرار کے ساتھ مشورہ دیا کہ درست املا ’’گذارش‘‘ (ذال کے ساتھ) ہے۔
ایک لمحے کے لیے میری انگلیاں کی بورڈ پر رک گئیں۔ میرا لسانی اور تاریخی مطالعہ مجھے پوری صراحت سے بتا رہا تھا کہ یہ لفظ فارسی مصدر ’’گزاردن‘‘ (بہ معنی ادا کرنا، پیش کرنا) سے نکلا ہے، اس لیے اس کا درست املا ’’ز‘‘ کے ساتھ ہی بنتا ہے، جب کہ ’’ذال‘‘ سے لکھنا ایک عام مگر فاش غلطی ہے، لیکن اس کے باوجود، اس سرخ لکیر کی قاطعیت اور مشین کے تحکمانہ انداز نے میرے اندر ایک لمحاتی ہچکچاہٹ پیدا کر دی۔ میں نے خود سے پوچھا۔ کیا میرا علم غلط ہے یا مشین کی لغت ادھوری ہے؟ اس ایک لمحے کی ہچکچاہٹ نے ایک انتہائی ہولناک سوال کو جنم دیا کہ کیا ہم واقعی آزادانہ طور پر لفظ لکھ رہے ہیں یا اب ہم مشین کی اجازت اور توثیق سے لفظ لکھنے پر مجبور ہو چکے ہیں؟ جب مشین ہمارے درست کو غلط اور غلط کو درست قرار دینے پر بہ ضد ہو جائے، تو اسکرین پر ابھرنے والا حرف ہمارا ہوتا ہے یا کسی نامعلوم پروگرامر کے لکھے گئے الگورتھم کا؟
اگر ہم اردو کی موجودہ ڈیجیٹل حقیقت پر نظر دوڑائیں تو صورتحال مزید گمبھیر دکھائی دیتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کی بورڈز، صوتی شناخت، خودکار تصحیح اور مشینی ترجمے نے ہماری زبان کو ڈیجیٹل دور میں زندہ رکھنے کے لیے آکسیجن کا کام کیا ہے۔ آج ہم بول کر لمبے چوڑے پیغامات ٹائپ کر سکتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے منٹوں میں ترجمہ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس سہولت کی ایک بھاری قیمت بھی ہے۔ صوتی شناخت کے نظام کی بات کریں تو یہ بسا اوقات مکمل طور پر سیاق و سباق سے عاری ہوتا ہے، اگر آپ ’’عِلم‘‘ (جاننا) اور ’’عَلم‘‘ (جھنڈا) بولتے ہیں، تو مشین ان کے درمیان فرق کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ اسی طرح ’’نذر‘‘ اور ’’نظر‘‘ یا ’’قلم‘‘ اور ’’کلم‘‘ کی تمیز مصنوعی ذہانت کے لیے ایک دردِ سر ہے۔
جہاں یہ نظام درست کام کرتا ہے، وہاں یہ ہمارے لیے ایک معجزے سے کم نہیں، لیکن جہاں یہ ناکام ہوتا ہے، وہاں یہ صرف ایک لفظ کو نہیں بلکہ پورے جملے کے مفہوم کو مسخ کر دیتا ہے۔ اس سے بھی بڑا مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ڈیجیٹل نظام اردو کے ایک سے زیادہ درست اور مستعمل املا کو بلاوجہ غلط سمجھتا ہے۔ مثلاً ’’چاہیے ‘‘ اور ’’چاہیے ‘‘، یا ’’آئینہ‘‘ اور ’’آئنہ‘‘، یا ’’علیحدہ‘‘ اور ’’علیٰحدہ‘‘۔ مشین کو ایک قطعی اور واحد جواب چاہیے، جب کہ زبان کی فطرت ریاضی کے اصولوں پر نہیں بلکہ تہذیبی ارتقا پر استوار ہوتی ہے۔ مشین کا یہ اصرار کہ ہر لفظ کا صرف ایک ہی کٹر املا ہو سکتا ہے، زبان کی وسعت کو سکیڑ رہا ہے۔
یہاں ہمیں اردو املا کے اصل مسئلے اور اس کی نفسیات کو ذرا گہرائی میں اتر کر سمجھنا ہوگا۔ اردو املا محض حروف کو جوڑنے کا نام نہیں ہے۔ یہ آواز، رسم الخط، تاریخی روایت اور مستعمل املا کے درمیان ایک نازک اور پیچیدہ تعلق کا نام ہے۔ اردو چونکہ ایک لشکری اور امتزاجی زبان ہے، اس لیے اس نے عربی اور فارسی کے بے شمار الفاظ ان کے اصل رسم الخط کے ساتھ مستعار لیے ہیں۔ ہم اپنی مقامی صوتیات میں ز، ذ، ض اور ظ سب کو ایک ہی آواز سے ادا کرتے ہیں، لیکن لکھتے وقت ہمیں ان کی تاریخی جڑوں کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اردو املا کے بعض اختلافات خود مستند اہل زبان، اساتذہ اور کلاسیکی مصنفین کے ہاں بھی موجود رہے ہیں۔
غالب کا املا اور سر سید احمد خان کا املا کئی جگہوں پر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ مزید برآں،مسئلہ محض املا کی درستی یا غلطی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق زبان سے فکر تک کے سفر سے ہے۔ ہمیں یہ بنیادی اصول کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ زبان صرف خیالات کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک بے جان ذریعہ نہیں ہے،بلکہ وہ ہمارے ذہن میں امتیازات قائم کرنے، تصورات کی باریکیوں کو سمجھنے اور ہمارے جذباتی تجربات کو نام دینے میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اگر میرے پاس اداسی کو بیان کرنے کے لیے رنج، غم، الم، حزن، ملال، اندوہ اور افسردگی جیسے الگ الگ رنگ موجود ہیں، تو میری سوچ بھی اسی قدر وسعت اور گہرائی کی حامل ہوگی، لیکن جب میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ان میں سے کوئی کم مستعمل یا ثقیل لفظ لکھتا ہوں اور مشینی لغت اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مجھے ایک سادہ اور عام فہم متبادل تجویز کرتی ہے، تو وہ دراصل میری سوچ کی حد بندی کر رہی ہوتی ہے۔
جب ڈیجیٹل نظام زبان کے امکانات کو محدود کرتا ہے، تو اظہار پر اس کا پہلا اثر یہ پڑتا ہے کہ لکھاری لاشعوری طور پر ان الفاظ سے گریز کرنے لگتا ہے جن پر مشین سرخ لکیر کھینچتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ اسی لغت کا اسیر ہو جاتا ہے جو سافٹ ویئر بنانے والے نے اس کے لیے منتخب کی ہے۔ اس کا ثبوت آج کی وہ ڈیجیٹل تحریریں اور سوشل میڈیا پوسٹس ہیں جن میں جذبات اور افکار تو شدید ہیں، لیکن ان کے اظہار کے لیے استعمال ہونے والی لغت حیرت انگیز طور پر سطحی، یک سطحی اور سکڑی ہوئی ہے۔
یہ صورتحال ہمیں تہذیبی حافظے اور لسانی اختیار کے انتہائی سنگین سوالات کے روبرو لا کھڑا کرتی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت اردو سیکھ رہی ہے، لیکن وہ یہ زبان کہاں سے سیکھ رہی ہے؟ اس کی تربیت کے لیے جو ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے وہ سوشل میڈیا کا غیر معیاری مواد، غلط املا پر مبنی ویب سائٹس اور رومن اردو میں لکھی گئی بے ہنگم تحریریں ہیں۔ اردو کی مستند ڈیجیٹل لغات، معیاری اور متفقہ املا کا قابلِ مشین ڈیٹا بیس، اور ادبی متون کے قابلِ تلاش اور مستند ذخائر آج بھی اس معیار پر موجود نہیں جس کی ٹیکنالوجی کو ضرورت ہے۔
سوال صرف یہ نہیں کہ اردو زبان کو ٹیکنالوجی کے حملوں سے بچایا جائے۔ سوال دراصل یہ بھی ہے کہ اردو کے مستقبل کے لسانی فیصلے کون کرے گا؟ کیا یہ فیصلے سلیکان ویلی میں بیٹھا ہوا کوئی ایسا انجینئر کرے گا جس کا اردو کے تہذیبی مزاج سے کوئی واسطہ نہیں یا یہ اختیار ان مقامی لسانی ماہرین، محققین اور اداروں کے پاس ہوگا جو اس زبان کی روح سے واقف ہیں؟ سوال یہ ہے کہ،کیا ہم زبان کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھال رہے ہیں یا ٹیکنالوجی کو اپنی زبان، فکر اور تہذیبی ضرورتوں کے مطابق ڈھالنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں؟ اگر ہم نے دوسری صورت کی طرف توجہ نہ دی تو ہم محض ایک مشینی زبان کے صارف بن کر رہ جائیں گے۔
خطرہ یہ نہیں کہ مشین ہماری غلطیاں درست کرنے لگی ہے، خطرہ تب شروع ہوتا ہے جب درست اور غلط کا فیصلہ بھی مشین ہی کرنے لگتی ہے۔