امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی فوجداری عدالت نے یورپی یونین کا بڑا انسانی حقوق ایوارڈ جیت لیا
یورپی یونین نے عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو انسانی حقوق کے لیے اپنے اعلیٰ ترین اعزاز ’سخاروف پرائز‘ سے نواز دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی پابندیوں کے باعث عدالت اور اس کے عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس اقدام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کشیدگی کا سبب بھی سمجھا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی پارلیمنٹ کی سربراہ روبرٹا میٹسولا نے جمعرات کو ایوارڈ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی اداروں کے احترام پر یقین رکھتی ہے، جبکہ یہ اعزاز عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور انصاف کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف ہے۔
عالمی فوجداری عدالت کی صدر توموکو اکانے نے اس اعزاز پر یورپی پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت اور اس کے عہدیداروں کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں یہ ایوارڈ آزاد عدالتی اداروں اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنے والوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
امریکی حکومت نے رواں ماہ عالمی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد عدالت کے روزمرہ امور کو متاثر کرنا بتایا گیا ہے۔ یہ عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین جرائم کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں مبینہ جرائم کے سلسلے میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے پر ناراض ہے۔ واشنگٹن نے عدالت کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی پابندیاں چھ ماہ بعد نافذ ہوں گی۔ یورپی یونین اس دوران امریکی حکومت کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برسلز ایک ایسے قانونی طریقۂ کار پر بھی غور کر رہا ہے جس کے ذریعے یورپی اداروں کو امریکی پابندیوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یورپی کمیشن کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لاین نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کو دباؤ اور دھمکیوں کے بغیر آزادانہ طور پر اپنا کام جاری رکھنے کے قابل ہونا چاہیے۔
سخاروف پرائز انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔ اس کا نام سوویت یونین کے منحرف دانشور آندرے سخاروف کے نام پر رکھا گیا ہے اور اس کا آغاز 1988 میں ہوا تھا۔
اس سال عالمی فوجداری عدالت کے علاوہ تنزانیہ کے اپوزیشن رہنما ٹنڈو لیسو اور ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی نمائندگی کرنے والی جڑواں بہنوں ترانہ اور رومینا رحیمی بھی حتمی امیدواروں میں شامل تھیں۔
رپورٹ کے مطابق تنزانیہ کی اپوزیشن جماعت چاڈیما کے سربراہ ٹنڈو لیسو کو اپریل 2025 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ان پر گزشتہ سال انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے عوام کو اکسانے کے الزام میں غداری کا مقدمہ ہے، جس میں سزا موت بھی ہو سکتی ہے۔
ایرانی جڑواں بہنوں میں سے ترانہ رحیمی کو سزائے موت جبکہ رومینا رحیمی کو 36 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دونوں کو حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔
سخاروف پرائز کی تقریب دسمبر میں منعقد ہوگی۔ ماضی میں یہ اعزاز وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو، روسی حکومت کے ناقد الیکسی ناوالنی اور یوکرین کے عوام کو بھی دیا جا چکا ہے۔