کیا ہم نے تشدد کو معمول سمجھ لیا ہے؟
جب بھی تشدد کا کوئی دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آتا ہے تو ہم غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں، اسے ظلم کی انتہا قرار دیتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ آخر ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟
چند دن سوشل میڈیا پر بحث ہوتی ہے، انصاف کے مطالبات کیے جاتے ہیں اور پھر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ جس تشدد پر ہم آج افسوس کر رہے ہیں، اس کی کئی شکلوں کو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں پہلے ہی معمول سمجھ چکے ہیں؟
گزشتہ چند دنوں میں پنجاب سے سامنے آنے والے تین افسوسناک واقعات ہمیں اسی سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ملتان میں پندرہ سالہ وسیم، جو ایک یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا اور ہنر سیکھنے کے لیے ایک الیکٹریشن کے پاس بھیجا گیا تھا، مبینہ طور پر اسی شخص کے ہاتھوں جان سے گیا جس سے اسے ہنر سیکھنا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم نے گاڑی سے اس کا تعاقب کیا اور اسے کچل دیا۔ ایک ایسا بچہ جسے تحفظ، رہنمائی اور بہتر مستقبل کے مواقع درکار تھے، زندگی سے محروم ہو گیا۔
شیخوپورہ میں بارہ سالہ زینب، جس عمر میں اسے اسکول جانا، کھیلنا اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھنا چاہیے تھے، اس عمر میں وہ کسی دوسرے کے گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ مبینہ تشدد کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ سوال صرف یہ نہیں کہ اس معصوم بچی کی جان کس نے لی، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کا بچپن کس نے چھینا؟ وہ اس کم عمری میں گھریلو ملازمت کیوں کر رہی تھی، جبکہ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019 کی دفعہ 3 کے تحت پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی گھریلو ملازمت ممنوع ہے؟
تیسرا واقعہ لاہور کے علاقے مزنگ کا ہے، جہاں میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکوٹی پر سفر کرنے والی ایک لڑکی کو سرِعام بالوں سے پکڑ کر زمین پر پٹخا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی ناک کی ہڈی ٹوٹنے اور چہرے پر زخم آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ان تینوں واقعات کے حالات مختلف ہیں، لیکن ان میں ایک قدر مشترک ہے۔ تینوں متاثرین ایسے حالات میں تشدد کا نشانہ بنے جہاں انہیں تحفظ، احترام اور سلامتی میسر ہونی چاہیے تھی۔ ایک بچہ ہنر سیکھنے گیا تھا، ایک بچی گھریلو ملازمت کر رہی تھی اور ایک لڑکی اپنے شہر کی سڑک پر سفر کر رہی تھی۔
تشدد صرف اس وقت معمول نہیں بنتا جب لوگ اسے کرنا شروع کر دیتے ہیں، بلکہ اس وقت بھی معمول بن جاتا ہے جب معاشرہ اس کے لیے جواز تلاش کرنے لگتا ہے۔
ہمارے ہاں بچوں کو مارنے کو اکثر تربیت کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ گھریلو ملازمین سے بدسلوکی کو بعض اوقات گھر کا اندرونی معاملہ قرار دیا جاتا ہے۔ سڑک پر کسی سے اختلاف ہو جائے تو گالم گلوچ، دھمکی اور جارحانہ رویے کو معمولی بات سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ اور جب تشدد کا نشانہ بننے والی کوئی لڑکی ہو تو بعض لوگ حقیقت جاننے سے پہلے ہی اس کے رویے یا ممکنہ غلطی پر سوال اٹھانے لگتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی اصول سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی بچے کی نافرمانی، کسی ملازم سے ہونے والی غلطی یا سڑک پر کسی شخص کے ساتھ اختلاف، تشدد کا جواز نہیں بن سکتا۔ کسی کو دوسرے انسان کی تذلیل کرنے، اس پر ہاتھ اٹھانے یا اس کی زندگی خطرے میں ڈالنے کا حق حاصل نہیں۔
مسئلہ صرف ان افراد کا نہیں جو تشدد کرتے ہیں، بلکہ ان رویوں کا بھی ہے جو اسے برداشت کرتے، چھپاتے یا جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم کسی بچے کو مار کھاتے دیکھ کر خاموش رہتے ہیں، کسی گھریلو ملازم کے ساتھ بدسلوکی کو نظرانداز کرتے ہیں یا سڑک پر کسی خاتون کی تذلیل کو معمولی تنازع سمجھتے ہیں تو ہم انجانے میں ایسے ماحول کو برقرار رکھنے میں حصہ ڈال رہے ہوتے ہیں جہاں تشدد پنپ سکتا ہے۔
لیکن اس تمام بحث میں ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نے بچوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے ہیں اور مختلف ادارے بھی قائم کیے ہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کا فریق ہے، جس کے تحت بچوں کو ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد، استحصال اور بدسلوکی سے محفوظ رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان قانونی اور ادارہ جاتی انتظامات کا فائدہ واقعی ان بچوں اور خواتین تک پہنچ رہا ہے جنہیں سب سے زیادہ تحفظ کی ضرورت ہے؟
ملتان کا واقعہ متبادل نگہداشت میں رہنے والے بچوں کی حفاظت اور نگرانی سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ جب کسی بچے کو تعلیم، تربیت یا ہنر سیکھنے کے لیے کسی فرد یا ادارے کے سپرد کیا جاتا ہے تو کیا اس کی حفاظت، مناسب نگرانی اور شکایت درج کرانے کا مؤثر انتظام موجود ہوتا ہے؟ بچے کو ہنر سیکھنے کے لیے کسی کے سپرد کرنے سے اس کے تحفظ کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔
شیخوپورہ کا واقعہ گھریلو ملازمت میں بچوں کے استحصال اور قوانین کے نفاذ کی کمزوریوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ اگر پندرہ سال سے کم عمر بچوں کی گھریلو ملازمت ممنوع ہے تو پھر ایسے بچوں کی نشاندہی، ان کے تحفظ اور تعلیم تک رسائی کے لیے مؤثر اقدامات کیوں ضروری نتائج نہیں دے پا رہے؟ قانون کی خلاف ورزی سامنے آنے کے بعد کاروائی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اصل مقصد بچوں کو ابتدا ہی سے استحصال اور تشدد سے بچانا ہونا چاہیے۔
لاہور کا واقعہ خواتین کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کے بارے میں بھی ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔ ہم لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے، ملازمت کرنے اور خودمختار بننے کی ترغیب دیتے ہیں، لیکن کیا ہمارا معاشرہ انہیں بے خوف ہو کر گھر سے نکلنے کا ماحول بھی فراہم کر رہا ہے؟ چاہے کوئی خاتون پیدل سفر کرے، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرے یا اسکوٹی چلائے، اسے تحفظ اور احترام ملنا چاہیے۔ سڑکوں پر خواتین کی موجودگی کو معمول بنانے کے لیے صرف سفری سہولتیں نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔
ان تینوں واقعات میں پولیس کی جانب سے مقدمات کا اندراج ایک اہم ابتدائی قدم ہے، جسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ تاہم انصاف کا سفر مقدمے کے اندراج یا ملزم کی گرفتاری پر ختم نہیں ہوتا۔ مؤثر تفتیش، شواہد کا تحفظ، مضبوط پراسیکیوشن اور متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو ضروری قانونی و ادارہ جاتی معاونت فراہم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
تشدد کے واقعات میں براہِ راست ملوث افراد کا احتساب ضروری ہے، لیکن جہاں متعلقہ اداروں کی غفلت یا حفاظتی انتظامات میں کوتاہی سامنے آئے، وہاں ان کی بھی غیر جانب دارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ انصاف کا تقاضا صرف ذمہ دار افراد کو سزا دینا نہیں، بلکہ نظام کی ان خامیوں کو دور کرنا بھی ہے جو بچوں اور خواتین کو تشدد کے خطرے سے دوچار کرتی ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تشدد کی روک تھام صرف پولیس، عدالتوں یا کسی ایک سرکاری ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ خاندانوں، تعلیمی اداروں، آجروں، مقامی کمیونٹیز، میڈیا اور شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تاہم معاشرتی ذمہ داری کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست اپنی قانونی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو جائے۔
لاہور میں متاثرہ لڑکی کی مدد کے لیے آگے بڑھنے والے شہریوں کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔ یہ عمل یاد دلاتا ہے کہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں مداخلت کرنا تشدد کے خلاف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی تشدد کے خلاف ہیں یا صرف اس وقت آواز اٹھاتے ہیں جب کوئی واقعہ ہماری برداشت کی حد سے باہر ہو جاتا ہے؟
بچوں اور خواتین کو صرف کسی سانحے کے بعد ہمدردی اور انصاف نہیں چاہیے، انہیں سانحہ رونما ہونے سے پہلے تحفظ، عزت اور باوقار زندگی کی ضمانت چاہیے۔
اگر ہم واقعی تشدد کو معمول بننے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے گھروں سے لے کر سڑکوں تک، معاشرتی رویوں سے لے کر اداروں کی کارکردگی تک، ہر سطح پر تبدیلی لانا ہوگی۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل کامیابی اس بات سے نہیں ناپی جا سکتی کہ وہ تشدد کے بعد کتنا غصہ ظاہر کرتا ہے، بلکہ اس سے کہ وہ تشدد کو ہونے سے روکنے کے لیے کیا کرتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔