جامعہ کراچی: پروگرامز اور تقریبات کا انعقاد پیشگی منظوری سے مشروط

رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کو پیشگی منظوری سے مشروط کردیا ہے جبکہ پروگرام میں بلائے جانے والے مہمانوں کی شرکت کی منظوری بھی رجسٹرار آفس کے ذریعے مجاز اتھارٹی(وائس چانسلر) سے لی جائے گی جامعہ کراچی میں کوئی بھی اکیڈمک پروگرام اور اس میں ہر قسم کے سیاسی یا غیر سیاسی مہمانوں کی شرکت وائس چانسلر کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔

اس سلسلے میں رجسٹرار جامعہ کراچی کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جامعہ کراچی میں سیمسٹر بریک سے قبل تواتر سے پروگرامز کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک روز قبل شعبہ کمپیوٹر سائنس کے تحت منعقدہ تقریب میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال شریک ہوئے تھے۔

 

اس پروگرام کے اختتامی سیشن میں صوبائی وزیر بورڈز و جامعات اسماعیل راہو کو بھی شریک ہونا تھا جبکہ اس سے قبل شعبہ ابلاغ عامہ کے تحت پروگرام میں کچھ سوشل میڈیا انفلوئنسر، سابق وفاقی وزیر اسد عمر اور ٹیلی ویژن ڈرامے سے متعلق شخصیات شریک ہوئی تھیں

علاوہ ازیں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن تمام رئیس کلیات (ڈینز)، ڈائریکٹرز اور شعبہ جاتی سربراہان کو مطلع کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے اندر کسی بھی پروگرام، سیمینار، کانفرنس، تقریب یا دیگر ایونٹ کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری رجسٹرار یونیورسٹی آف کراچی کے ذریعے حاصل کرنا لازمی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق تمام متعلقہ افراد کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مجوزہ پروگرام کی تاریخ سے کم از کم پندرہ 15 دن قبل منظوری کے لیے اپنی درخواست مقررہ پروفارما میں مکمل تفصیلات اور تمام متعلقہ متعلقہ دستاویزات کے ساتھ جمع کروائیں۔

مجاز اتھارٹی سے رجسٹرار کے ذریعے پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر کوئی بھی پروگرام یا تقریب منعقد نہیں کی جائے گی  کسی بھی وزیر، معزز یا ممتاز شخصیت  یا دیگر خصوصی مہمانوں کو دعوت نامہ صرف رجسٹرار آفس، یونیورسٹی آف کراچی کی جانب سے متعلقہ شعبے/سیکشن کی طرف سے جاری کیا جائے گا۔

تاہم، یہ عمل بھی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد انجام پاسکے گا شعبہ جات/سیکشنز ایسے مہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری نہیں کرسکیں گے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ان ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور یونیورسٹی کے متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

نوٹیفکیشن میں متعلقہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان ہدایات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔

Load Next Story