پاکستان کی سفارتی مساعی
مشرق وسطیٰ کی صورت حال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امریکا ایران جنگ کے باعث پہلے ہی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے ،اس پہ مستزاد یمن میں پیدا ہونے والے خلفشار اور حوثیوں کے سعودی عرب پر ہر روز ہونے والے حملوں نے اسے دو آتشہ کر دیا ہے۔
ایسے حالات میں امریکا ایران جنگ کا خاتمہ، حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف پیش قدمی روکنے اور بطور ثالث پاکستان کے لیے سفارتی محاذ پر مشکل اور بڑے سنجیدہ چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس پس منظر میں گزشتہ ہفتے ایران کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں، خطے کی تازہ ترین صورت حال اور امریکا ایران دو طرفہ مذاکرات کی بحالی کے تناظر میں بات چیت نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
عالمی میڈیا نے فیلڈ مارشل کے دورے کے حوالے سے نمایاں خبریں شائع کیں۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سیکریٹری نیشنل کونسل جنرل محسن رضائی سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مفید ملاقاتیں ہوئیں جس کے نتیجے میں ایران اور پاکستان کا بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
امریکا ایران کشیدگی اور مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے ایرانی قیادت نے اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ تہران اس وقت تک امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا جب تک واشنگٹن کی جانب سے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، ایران جنگ کا حامی نہیں لیکن اپنے وطن اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
مقام اطمینان کہ ایرانی قیادت نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرانے میں سفارتی محاذ پر پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے کھلے دل سے اس کا اعتراف کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا ۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کو دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی جب کہ اسپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ امریکا کو پیش کی گئی سات شرائط پوری ہونے تک امریکا ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ ایرانی شرائط میں منجمد اثاثوں کی بحالی، تمام محاذوں پر جنگ ختم کرنا، ایران کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور دوران جنگ نقصانات کے ازالے جیسی اہم شرائط شامل ہیں۔ ایرانی قیادت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ دوبارہ امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ جواب دیا جائے گا، ہم اپنے دفاع اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بدقسمتی سے امریکا نے ایرانی شرائط پر شافی ردعمل نہیں دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کوئی دو ٹوک بات نہ کی بلکہ یہ کہنا ضروری سمجھا کہ ایران کے ساتھ تنازع پر بہت جلد کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے اور جلد اس کا حل سامنے آ جائے گا۔ امریکی صدر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے اکسانے پر ایران کے ساتھ جو جنگ چھیڑ بیٹھے ہیں اس سے ’’فاتحانہ گلوخلاصی‘‘ اب ان کے لیے ممکن نہیں رہی۔ ایران نے بے مثال یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکا اسرائیل کو غیر متوقع اور غیر معمولی جواب دیا۔ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ایرانی کامیابی کے چرچے اور امریکی شکست کے قصوں نے اس کی واحد عالمی سپر طاقت کی حیثیت کے آگے سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی سطح پر تیل کی مارکیٹوں میں فی بیرل تیل کی قیمتیں بڑھنے سے ذرائع نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان برپا ہوا جس نے پورے یورپ اور ایشیا کو اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ دنیا کی معیشت بیٹھ گئی ہے، لوگ مہنگائی و بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ فرانس، اٹلی، پرتگال، بیلجیم اور البانیہ وغیرہ میں ایندھن کے بحران اور مہنگائی کے طوفان نے عام آدمی کو مشتعل کرکے سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ تعطل میں سب سے قیمتی چیز وقت ہے، مگر یہی وقت سب سے زیادہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ اگر ثالثی کے ذریعے پیش کی گئی تجاویز پر سنجیدہ جواب سامنے آتا ہے تو کشیدگی کم کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے،لیکن اگر سفارتی وقفہ صرف نئی عسکری تیاری کے لیے استعمال ہوا تو حالات دوبارہ زیادہ خطرناک رخ اختیار کرسکتے ہیں۔ اس لیے قطر اور پاکستان جیسے ثالث ایسے نکات تلاش کرنے میں کوشاں ہیں جہاں دونوں فریق اپنی بنیادی سلامتی اور سیاسی ضروریات کو محفوظ سمجھ سکیں۔
امریکی صدر کی عوامی مقبولیت بھی تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے انھیں اگلے ماہ ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ناکامی کا خطرہ نظر آ رہا ہے اس کے باوجود وہ ایران کے خلاف مذاکرات اور جنگ بندی میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ تاہم انھیں بخوبی علم ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ پاکستان کی سفارتی مساعی کے بغیر ممکن نہیں۔ پاکستان کی سفارتی کاوشیں جلد رنگ لائیں گی۔ مشرق وسطیٰ میں امن کا راستہ پاکستان سے ہی نکلے گا۔