شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نئے پل کے راستے چین پہنچ گئے، تعلقات مزید مضبوط ہونے کا امکان
بیجنگ/پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نئے یالو ریور پل کے راستے چین کے سرحدی شہر ڈانڈونگ پہنچ گئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق کم جونگ اُن ہفتے کے روز چین پہنچے۔ ان کی آمد نئے یالو ریور پل کے باضابطہ افتتاح کے تقریباً ایک ہفتے بعد ہوئی ہے۔ یہ پل چین اور شمالی کوریا کو دریائے یالو کے اوپر ملاتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
رائٹرز نے جنوبی کوریا کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ چینی وزیراعظم لی چیانگ نے سرحدی شہر ڈانڈونگ میں کم جونگ اُن سے ملاقات کی۔ تاہم چین کی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
نیا یالو ریور پل تقریباً تین کلومیٹر طویل اور چار لین پر مشتمل ہے۔ اس کی تعمیر 2014 میں مکمل ہوئی تھی، لیکن شمالی کوریا کی جانب سڑکوں اور کسٹم سہولتوں کی عدم دستیابی کے باعث اسے فعال کرنے میں تاخیر ہوئی۔
پل سے چوبیس گھنٹے دوطرفہ آمدورفت کی توقع ہے، جس میں کنٹینرز اور بھاری سامان لے جانے والے ٹرک بھی شامل ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اس سے دونوں ممالک کے درمیان سامان کی نقل و حمل میں رکاوٹیں کم اور تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
چین اور شمالی کوریا کے تعلقات پر تحقیق کرنے والے ماہر لو چاؤ نے رائٹرز کو بتایا کہ پل کھلنے سے دوطرفہ تجارت کے نظام میں موجود ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق رسد اور نقل و حمل کی سہولت بہتر ہونے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔