گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے منشور پر عمل ہو رہا ہے، وزیراعلیٰ ایڈووکیٹ امجد حسین آذر
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین آذر نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کے 100 دن مکمل کر کے آیا ہوں، گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کے منشور پر عمل ہو رہا ہے، وعدوں پر عمل درآمد ہونا شروع ہو گیا ہے، شفاف طریقے سے ملازمتیں دی ہیں، لائیو اسٹاک، کامرس، سیاحت اور بارڈر ٹریڈ پر کام کر رہے ہیں، جمہوری سیاسی حکومت کی ذمہ داری ادا کرنا شروع کی ہے، گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیم، صحت اور تعلیم پر کام ہو رہا ہے۔
ہفتہ کو کراچی میں یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ معدنیات اور معدنی وسائل وفاقی سبجیکٹ نہیں ہو سکتا، مائنز اینڈ منرل صوبائی سبجیکٹ ہے، سارا کام وفاق نہیں کر سکتی، صوبے اپنا کام کر رہے ہیں، مائنز منرل پر انفورسمنٹ مانیٹرنگ چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کراچی میں مقیم شہریوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی نے صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کی ہے، جہاں اتفاق رائے ہے وہاں صوبے بننے چاہئیں، پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں صوبے کا مطالبہ کرتی ہے، جن صوبوں میں اتفاق رائے نہیں وہاں اس پر کام نہ کیا جائے، کچھ انتظار کریں گلگت بلتستان میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک میں صنعت کا پہیہ بیٹھا ہوا ہے، تھرمل بجلی یونٹ قیمت پر صنعت نہیں چل سکتی، ہائیڈل بجلی سب سے سستی ہے، گلگت بلتستان میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یونٹ قائم کر دیا ہے، امریکہ گلگت بلتستان میں انرجی سیکٹر میں دلچسپی رکھتا ہے، گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع امکانات ہیں، گلگت میں لوگ غریب نہیں ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی 13 سالہ حکومت کا حال لوگوں سے پوچھیں، خیبر پختونخوا کے کسی ریجن کو دیکھ لیں، وہ گورننس کے لیے نہیں آئے تھے، یہ حکومت سیاسی جماعتوں اور ریاست سے لڑتی ہے، لڑائی کا انجام یہی ہونا ہے، پی ٹی آئی مقبول نعروں اور جھگڑوں کے لیے آئی تھی۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین آذر سندھ کے دورے پر کراچی پہنچے ہیں۔ وہ اتوار کو مزار قائد پر حاضری دیں گے۔ کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے شہریوں سے ملاقات کریں گے اور ان کے مسائل سننے کے لیے پیپلز سیکرٹریٹ میں خصوصی کھلی کچہری سے خطاب کریں گے۔