خود کو ہر معاملے میں درست سمجھنا نادانی ہے

کئی تعلقات بھی اسی لیے خراب ہوتے ہیں اور رشتے ٹوٹنے تک نوبت آ جاتی ہے کیونکہ ہم خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں

ہماری زندگی مختلف واقعات کا مجموعہ ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ روز مرہ کے مختلف تجربات، ان سے حاصل ہونے والے اسباق اور احساسات کا نام ہے۔

ہم صبح سے رات تک کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔ ہر آنے والا دن ہمارے لیے نیا چیلنج لے کر آتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی محبت سے ہمیں مقروض بنا دیتے ہیں، تو وہیں کچھ لوگ ہمیں زندگی بھر کا سبق سکھا جاتے ہیں۔ کچھ ناکامیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہمیں اپنا تجزیہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو کہیں کچھ کامیابیاں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنا سکھا دیتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ کون ان سب حالات و واقعات سے سیکھتا ہے کیونکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے جو خود کو کامل سمجھتے ہیں وہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ وہ کبھی غلط ہو سکتے ہیں یا غلطی کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگ سیکھنے کے دروازے خود پر خود ہی اپنے ہاتھوں سے بند کر دیتے ہیں زندگی مسلسل سیکھنے کا نام ہے، سیکھنے کا عمل رک گیا تو سمجھیں زندگی ختم ہوگئی۔

ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی کام کا مکمل ماہر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ہر معاملے میں اس کی کہی بات درست ہو سکتی ہے۔ ہم سب سیکھنے کے عمل سے گزرتے ہیں یہ سوچنا کہ میں ٹھیک ہوں ’میری سوچ صحیح ہے یا میں غلط ہو ہی نہیں سکتا تو یہ سراسر ہماری غلط فہمی ہے‘۔ جب ایسی سوچ ہمارے دماغ میں بیٹھ جائے تو ساتھ ہی سیکھنے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔

اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ جب ہم کسی سے کسی بھی معالمے میں اختلاف کرتے ہیں تو وہ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اپنی غلطی تسلیم کر لینے سے یا کسی دوسرے کی درست بات کو مان لینے سے کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہو جاتا، نہ ہی کسی کی عزت کم ہو جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ہم چھوٹے بچوں سے بھی سیکھ رہے ہوتے ہیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے، کیونکہ سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور خود کو اس خول میں بند کرنا کہ میں ٹھیک ہوں باقی سب غلط ہیں یہ سوچ درست نہیں ہے۔

دراصل ہم بات کو سنتے کم ہیں اور سمجھتے تو بالکل بھی نہیں ہیں بلکہ اکثر لوگ بات پوری سنے بغیر ہی جواب تیار کر لیتے ہیں اور دوسرے کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب دے بھی دیتے ہیں جو کہ سراسر غلط ہے۔

ہم سب کی سوچ مختلف ہوتی ہے، دو لوگوں میں کسی بات پر اختلاف یا تکرار ہونا کوئی بڑی بات نہیں ہے، لیکن اس کا مطلب کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہوتا بلکہ یہ کئی بار ہمیں وہ آئینہ دکھا جاتا ہے جس میں ہم اپنی وہ خامیاں دیکھ سکتے ہیں جو ہمیں عام حالات میں نظر نہیں آتی۔

یہ ہماری سوچ کا حصہ بن گیا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں لوگ اہمیت دیں، ہماری بات کو سنیں اور عمل کریں، کیونکہ ہم ٹھیک ہیں اور دوسرے میں اتنی عقل، سمجھ بوجھ ہے ہی نہیں کہ وہ زندگی گزار سکیں۔ ہم دوسروں کو اپنی دانست میں غلط اور کم تر ہی سمجھتے ہیں۔ جب ان کو اس بارے میں بتایا جائے تو وہ برا مان جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ عمر میں بڑے ہیں اور تجربہ کار ہیں۔ ان کی شاید انا مجروح ہوتی ہے، لہٰذا وہ تسلیم ہی نہیں کر پاتے کہ وہ بھی غلط ہو سکتے ہیں۔

یہاں اہم یہ نہیں ہے کہ ہم ہر معاملے میں درست ثابت ہوں بلکہ ضروری یہ ہے کہ ہم غلط ثابت ہونے پر سیکھنا جانتے ہوں۔ جب کوئی ہم پر تنقید کرے تو ضروری نہیں ہے کہ ہم اسے فوراً جواب دیں یا ردِعمل ظاہر کریں بلکہ ہمیں سوچنا چاہیے ’اپنا جائزہ لینا چاہیے‘ اپنی غلطی کو سدھارنا چاہیے۔

زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے اور اس کے تقاضے بھی اسی طرح تبدیل ہورہے ہیں لہٰذا ہمیں بھی خود کو بدلنا ہوگا اور وہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سیکھنا چاہیں گے۔ جیسے ہم ہر کام خود نہیں کر سکتے بالکل اسی طرح ہمیں ماننا چاہیے کہ ہم ہر معاملے میں درست رائے نہیں رکھ سکتے۔

وقت کے ساتھ ہماری معلومات، تجربات اور خاص طور پر حالات بدل جاتے ہیں، لہٰذا ضروری نہیں کہ جو بات ہم نے بچپن میں سیکھی تھی یا جوانی میں کی تھی وہ اب بھی لاگو ہوگی اور وہی صحیح ہے۔ آج جو نوجوان نسل کر رہی ہے وہ سراسر غلط ہے یا یہ کہ ہمارا تجربہ زیادہ ہے تو ہم ہر لحاظ سے ٹھیک ہیں۔ وقت کے ساتھ خود میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے اور نئی چیزوں کو سیکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے اور سب سے اہم تسلیم کرنا ہے کہ ہم ہر معاملے میں درست نہیں ہو سکتے۔ ایسا کرنا کسی بھی صورت میں ہمیں چھوٹا نہیں بنا دے گا بلکہ ہماری سوچ کو ایک نئی وسعت عطا کرے گا۔

کئی تعلقات بھی اسی لیے خراب ہوتے ہیں اور رشتے ٹوٹنے تک نوبت آ جاتی ہے کیونکہ ہم خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھتے ہیں، جو کوئی غلطی کر ہی نہیں سکتا اور سارا قصور دوسرے کا ہے۔ ہم برداشت ہی نہیں کر پاتے کہ ہم سے کوئی اختلاف کرے یا کسی معاملے میں دوسری سوچ رکھے۔

ہم اسی وقت پُرسکون زندگی گزارنے کے قابل ہوتے ہیں جب ہم تھوڑی گنجائش پیدا کرتے ہیں دوسروں کی رائے کا احترام کرتے ہیں، بات کو صرف سنتے نہیں بلکہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، خود کو درست نہیں بلکہ اپنی اصلاح کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن احترام اپنی جگہ ہونا چاہیے۔

یاد رہے کہ زندگی ہمیں مسلسل سکھانے کی کوشش کرتی ہے لیکن سیکھنے کے لیے صرف تجربہ کافی نہیں ہوتا، قبول کرنے والا ذہن بھی ضروری ہوتا ہے۔ اگر ہم بار بار یہ ثابت کرنے میں لگے رہیں کہ ہم ہی درست ہیں تو شاید اس بحث میں تو ہم جیت جائیں گے لیکن اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کا موقع کھو دیں گے، سیکھنے کے موقع کو گنوا دیں گے۔

ہمیں اپنی غلطی کو تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے، بے شک انسان کو خطا کار بنایا گیا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے تجربات سے، اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور ان کو دوبارہ نہ دہرائیں۔ وقت کے ساتھ خود میں بہتری لے کر آئیں، اپنے ساتھ اور اردگرد کے لوگوں کو یہ احساس دیں کہ وہ اور ان کی رائے اہم ہیں۔ ان کو سراہیں اور خود میں تبدیلی لے کر آئیں۔ اپنی غلطی کو تسلیم کر لینا کوئی بری بات نہیں ہے۔ ہمیں ہر گزرتے دن کے ساتھ خود میں بہتری لانی چاہیے۔

زندگی سے سیکھنے کا سفر اسی دن رک جاتا ہے جس دن ہم یہ سمجھنے لگیں کہ اب کچھ سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، تو زندگی کے سفر کو روکنا نہیں ہے بلکہ ایک نیا موڑ دینا ہے، جہاں سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم خود کو اپنی سوچ کو بدلیں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story