پرانے محلے
ہر وہ شے جس کا تعلق پرانے وقتوں سے ہے کتنی خوب ہوا کرتی تھی۔ کچھوے کی رفتار چلتا وقت، آپسی رشتوں میں موجود خلوص، اخلاقی قدریں، سکھ و دکھ کا سانجھا پن اور پرانے محلوں میں پنپتی اپنائیت والی محلے داری۔ جب ہم چھوٹے تھے تب ہمیں اُس وقت کی اہمیت کا بالکل اندازہ نہیں تھا، بس اُن لمحات کو ہم موج مستی کرتے ہوئے بھرپور انداز میں جی رہے تھے۔
اب وہ زمانہ جب گزر گیا اور اُس کی باقیات بھی ڈھونڈنے سے نہیں مل رہی ہیں، تب ہمیں اُس کی قدر و قیمت کا صحیح معنوں میں ادراک ہوا ہے۔ ماضی کے جھروکوں میں اپنے کھلکھلاتے وجود کو پرانے محلے کی ایک گلی سے دوسری گلی بے خوف بھاگتے، دوڑتے دیکھنا میرا حالیہ پسندیدہ مشغلہ ہے۔
پرانے محلوں میں پلنے والے بچوں کو زمانے کے سیاہ و سفید اور صحیح و غلط کا فرق اُن کے والدین سے پہلے محے کے بزرگ بتلایا کرتے تھے، اُن بزرگوں کی صحبت میں پروان چڑھنے والے بچے اور نوجوان آج دنیا کی بھیڑ میں نمایاں نظر آتے ہیں۔
محلے کے شریر بچے اکثر و بیشتر وہاں رہنے والے بڑے، بزرگوں کے عتاب کا نشانہ بنتے تھے مگر مجال نہیں تھی کہ کوئی بچہ اُن کے سامنے بدتہذیبی کا مظاہرہ کرے یا کسی بچے کے والدین کے ماتھے پر بل پڑے بلکہ وہ تو محلے کے بزرگوں کے زیرسایہ ہونے والی اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے مطمئن رہتے تھے۔ ایک جگہ ساتھ زندگی بسر کرنے کے سبب سارے محلے والے اپنا فرض سمجھ کر ایک دوسرے کو بے راہ روی سے بچاتے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے وہاں اصلاح کرنے سے بالکل ہچکچاتے نہیں تھے۔
کسی گھر میں غمی ہو یا خوشی تمام محلے والے ایک ٹانگ پر کھڑے ہو جایا کرتے تھے، اپنی حیثیت سے بڑھ کر مدد کرنے کا جذبہ ہر فرد میں موجود تھا۔ کسی لڑکی کا بیاہ رچایا جاتا تو سارے محلے والوں کی آنکھیں اُس کی رخصتی پر اشک بار ہوتی تھیں اور لڑکے کی باری میں سب لوگ باراتی بنے، عزت سے بہو گھر لانے سمدھیانے پہنچے ہوتے تھے۔
غم کے لمحات میں محلے والوں کی یکجہتی دیدنی ہوتی تھی۔ جن کے سروں پر غم کا پہاڑ ٹوٹتا تھا اُن کا کام محض اپنے دکھ کا مداوا کرنا ہوتا تھا دیگر معاملات کہاں اور کس طرح نپٹ جاتے تھے اُن کو معلوم ہی نہیں چلتا تھا۔ آزمائشی وقتوں میں رشتے دار بعد میں پہنچتے جب کہ محلے والے پہلے اپنی دہلیز سے اُن کی دہلیز پر دوڑ لگاتے تھے۔
سب کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سانجھی تصور کی جاتی تھیں، اُن کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ محلے والے اپنی جان سے بڑھ کر وہاں رہائش پذیر عورتوں، لڑکیوں اور بچیوں کی ناموس کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ اوباش قسم کے لوگوں کا شرفاء کے محلوں میں داخلہ سختی سے ممنوع تھا۔ کم عمر بچیاں بِنا کسی ڈر کے محلے کی گلیوں میں تتلیوں کی مانند رنگ بکھیرا کرتی تھیں۔
شائستگی، شگفتگی، شرافت اور اپنا پن محّلے کی فضا میں رچا بسا ہوا تھا۔ گھروں کے درمیان دیواریں فرضی سمجھی جاتی تھیں مگر اس کے باوجود وہاں کے مکینوں کی آنکھوں میں حیا اور طبیعت میں لحاظ کی رتی برابر کمی نہیں تھی۔ لوگوں کے گھروں کی طرح اُن کے دل بھی کشادہ ہوتے تھے۔
عید، تہواروں پر پرانے محلوں کی رونقیں اپنے عروج پر ہوتی تھیں۔ ماہِ رمضان کے ہر دن بلا ناغہ محلے کے مکین اپنی استطاعت کے مطابق افطار بانٹنے کا اہتمام کیا کرتے تھے اور محلے کے بچے بڑھ چڑھ کر اُس میں حصّہ لیا کرتے تھے۔ محلے کی مساجد میں سالانہ صفائی، اجتماعی افطار، تراویح کی تیاریوں اور ادائیگی میں ہر کوئی اپنا فرض ادا کرتا تھا۔
محلے کا کونا کونا شب راتوں میں حلوے کی خوشبوؤں سے مہکتا تھا۔ محرم کی مناسبت سے سجائی سبیلوں میں انسان کا مذہب و فرقہ جانے بغیر سبھی کی پیاس بجھائی جاتی تھی۔ مولود شریف کے مہینے میں عشق رسول سے سرشار محلے والے چراغاں کرتے اور میلاد کی پُرنور محفلیں منعقد کرواتے تھے۔ میٹھی عید کی چاند رات اور بقر عید سے قبل کے نو دن محلے میں میلے کا سا سماں رہتا تھا۔
محلے کی صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا اور شجر کاری پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی جس کے باعث گلیوں کی شان بڑھتی ساتھ وہاں سے گزرنے والوں کو دلی مسرت محسوس ہوتی تھی۔
اُس وقت موبائل فونز کا کوئی وجود تھا نہ انٹرنیٹ کی جادو گری تھی لیکن اس کے باوجود ایک محلے سے دوسرے محلے اور ایک گلی سے دوسری گلی تک خبریں بہت تیزی سے پہنچ جایا کرتی تھیں، کیونکہ تب عوامی رابطہ بہت مضبوط تھا جس کی کمی آج کے دور میں بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔
محلے والوں کی آپسی محبت اور یگانگت کا ہی نتیجہ تھا کہ محلے کی چوک، چوراہے اور گلیاں گھر کے آنگن کی سی ہی معلوم ہوتی تھیں جہاں مرد حضرات خوش گپیوں، بچے کھیل کود اور عورتیں حیّا کے دائرے میں رہتے ہوئے آس پڑوس کی عورتوں کو اپنی دن بھر کی روداد سناتی اور اُن کی سنتی تھیں۔
اُس وقت معاشرے میں بااصول لوگوں کی اکثریت تھی اور اُن کے گھروں کے کچھ قاعدے، قانون ہوا کرتے تھے۔ صبح سویرے سب گھر والوں کا نیند سے بیدار ہو جانا، دوپہر کو باجماعت قیلولہ، بعد نماز عصر شام کی چائے کا اہتمام اور دن کو خیر آباد کہہ کر رات کو جلدی اپنے بستروں کا رُخ کر لینا معمول کی بات تھی۔
محلے کے بچوں کے لیے گلی یا علاقے کے میدان میں کھیلنے کا شام کا وقت مقرر تھا، وہ آسمان میں اُڑتے پرندوں کی مانند مغرب کی اذان سماعتوں پر پڑتے ہی اپنے گھروں کی جانب پرواز بھرتے تھے کیونکہ اس عمل میں تاخیر کی صورت میں قیامت کے منظر سے بس تھوڑا کم بھیانک منظر گھر پر اُن کا منتظر ہوتا تھا۔ بچوں کے اندر اپنے گھر کے بڑوں کا ڈر صحیح معنوں میں موجود تھا۔
ہر پرانی شے میرے دل کے بہت قریب ہے چاہے وہ پرانی عمارتیں ہوں، رشتوں میں موجود سچائی ہو، پرانا وقت ہو یا پرانے محلے اور وہاں گزاری جانے والی لوگوں کی پُرکشش زندگیاں۔ جدید دور میں پروان چڑھنے والی نسل کے سامنے ہم پرانے محلوں کی کتنی بھی اچھی منظرکشی کرلیں مگر اُن کو وہ مزا ہرگز محسوس نہیں کرواسکتے ہیں جس کو اپنے بچپن میں ہم نے جیا ہے۔
وقت کا کام ہے گزرنا، زمانے کا دستور ہے بدلنا مگر اپنے وجود میں موجود چھوٹے بچے کو ہم کس طرح سمجھائیں کہ زمانہ حال میں ماڈرن طرز کی سوسائٹیوں میں پرانے محلوں کی جس پرچھائی کو وہ تلاش کر رہا ہے اُس کا ملنا ناممکن ہے۔ اسی کسی صورتحال کی مناسبت سے اردو ادب کے نامور شاعر اختر انصاری دہلوی نے یہ شعر کہا ہے۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا