خواب غفلت
خواب غفلت کے لغوی معنی ہیں بے خبری، لاپرواہی اور غفلت کی گہری نیند ۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوام خواب غفلت میں مبتلا ہیں۔ پاکستانی قوم ایک بے بس، بے حس قوم بن چکی ہے ، سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود ،عوام کسی صورت جاگنے کو تیار نہیں ہے ، عوام کا جینا مشکل کر دیا گیا ہے ، پاکستان میں دو قومیں ہیں ایک غریب اور دوسری اشرافیہ۔ عوام کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ مڈل کلاس اور غریب طبقہ دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا پا رہا ہے تو دوسری طرف اشرافیہ کی زندگیوں میں خوب عیاشیاں اور خوشحالیاں ہیں۔
جس پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے دی تھی ،آج کا پاکستان ویسا نہیں ہے جیسا ہمارے سیاسی اکابرین نے سوچا تھا ۔ ملک میں غریب کا کوئی پرسان حال نہیں ، غریب عوام در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ایک پڑھے لکھے نوجوان کو نوکری صرف اس وجہ سے نہیں ملتی کہ وہ رشوت نہیں دے پاتا اور سفارش نہیں کر پاتا۔ قدرتی وسائل سے مالا مال ملک مسائل کا گڑھ بن چکا ہے ۔
عوامی شاعر حبیب جالب نے عوام کی حالت زار اور خواب غفلت کی کیفیت کی خوب عکاسی کی ہے ۔
اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں
ان کا دعویٰ ہے کہ سورج بھی انھی کا ہے غلام
شب جو ہم پر آئی ہے اس کو گزرنا ہی نہیں
انتہا کر لیں ستم کی، لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب یہ لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
اقوام عالم میں جمہوریت ہی لوگوں کے بنیادی آئینی و معاشی حقوق کی ضامن ہوتی ہے لیکن پاکستان میں جمہوریت نے ہی عوامی خوشحالی کی نفی کی ہے۔ جمہوریت میں ووٹ کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کو منتخب کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جمہوریت بھی آج ناکام ثابت ہوئی ہے ۔پاکستان میں جمہوریت نے عوام کو کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا ہے ۔عوامی نمائندگی کے فقدان کی بدولت آج پریشان کن ماحول ہے ۔ عام آدمی اپنے حال اور مستقبل سے بہت پریشان ہے۔
قیام پاکستان کے وقت ہمارے سیاسی اکابرین نے سوچا تھا کہ اب پاکستان اقوام عالم میں ایک اعلیٰ مقام کی حیثیت سے ابھرے گا اور عوام خوشحال ہوں گے ،ان کو ان کے بنیادی معاشی حقوق حاصل ہوں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔ سیاست دانوں کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں اور وہ اپنے مفادات کی خاطر جیتے اور مرتے ہیں، ان کو عوام کی خوشحالی سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔
خدارا …عوام کے حال پر رحم کریں اور عوام کو جینے کا حق دیں ، عوام خاموش تماشائی بن کر سیاست دانوں کی ڈرامے بازیاں دیکھ رہے ہیں اور اپنی بے حسی و بے بسی کا تماشہ بھی، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ عوام کا درد سمجھیں اور عوام کے مسائل کو فوری طور پر حل کریں ۔ ایک عام آدمی کی اولین خواہش صرف دو وقت کی روٹی ہے اور وہ بھی اسے میسر نہیں ہے ۔ عوام چیخ چیخ کر اپنے معاشی حقوق مانگ رہے ہیں، لیکن سیاست دان روایتی بے حسی کا بھرپور مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ بات سیاست دانوں کو اب سمجھ لینی چاہیے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے جس دن عوام خواب غفلت سے جاگ گئے، اس دن انقلاب آ جائے گا اور عوام کو ان کی معاشی آزادی مل جائے گی۔ اہل دانش کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ عوام میں شعور کو بیدار کریں اور شعوری تحریک کا آغاز کریں۔ شعوری تحریک ہی درحقیقت عوام کی معاشی آزادی کی تحریک ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ متحد ہو کر جدوجہد کا آغاز کریں اور اپنے بنیادی معاشی و آئینی حقوق کی خاطر ایک ہو کر میدان عمل میں نکلیں۔ مڈل کلاس طبقہ اس قدر بے بس ہو چکا ہے کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر مانگ بھی نہیں سکتا ،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو فوری طور پر اشرافیہ حکمران ان کے بنیادی معاشی حقوق دیں ،اگر ایسا نہیں ہوا تو حالات مزید خراب سے خراب تر ہوتے جائیں گے۔
اب تو عالمی ادارے بھی پاکستان کی معاشی حالت اور عوام کی زندگی کے بارے میں ایسے ہولناک اعداد و شمار بیان کر رہے ہیں جس کا سن کر ایک باشعور آدمی حیران اور پریشان ہے ۔ آدھی سے بھی زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کیا پاکستان کا قیام اس لیے معروض وجود آیا تھا کہ یہاں ایک عام آدمی کی خوشحالی کی نفی ہوگی ،یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آج حکمرانوں کے پاس نہیں ہیں ، کڑوی گولیاں صرف عوام کے لیے ہیں، حکمرانوں کے لیے بس عیاشیاں اور عیاشیاں ہیں ۔آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا، اس سلسلے کو بھی آج نہیں تو کل رکنا ہوگا، اشرافیہ حکمران طبقہ عوام کو کس بات کی سزا دے رہا ہے۔ کیا اشرافیہ ایک عام آدمی کو اس بات کی سزا دے رہی ہے کہ اس نے اشرافیہ کو اپنے اوپر مسلط کیا ہے ۔آخر یہ ظلم و جبر کب ختم ہوگا، کب ایک عام آدمی پاکستان میں سکھ کا سانس لے سکے گا کب اسے بہترین روزگار، تعلیم، صحت کی بنیادی سہولیات ملیں گی۔
کیا پاکستان صرف اشرافیہ کے لیے بنا تھا جہاں پر وہ عیاشی کر سکیں ۔کیا پاکستان میں غریب کے لیے کوئی جگہ نہیں؟ غریب کا کوئی حق نہیں ،یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جس کے بارے میں سیاست دانوں کو سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی بھی عجیب حرکتیں ہیں، یہ مہنگائی بے روزگاری غربت کے خلاف کوئی لانگ مارچ دھرنا، مظاہرہ ،احتجاج ،ریلی وغیرہ نہیں نکالتے ،یہ صرف اپنے مفادات کی خاطر سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اپنا مفاد حاصل کر کے دوبارہ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔ عوام کو سیاسی پارٹیوں کی رنگ بازیاں اور مکاریاں سمجھنا ہوں گی ۔ عوام کی امیدیںاب بھی حکومت کی جانب ہیں کہ یہ عوام کو ان کے بنیادی معاشی و آئینی حقوق مہیا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ مگر حکومتوں کی ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب عوام بنیادی اشیائے ضروریہ سے محروم ہیں۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لہٰذا موجودہ دور کا تقاضہ ہے کہ ملک میں فوری طور پر معاشی ایمرجنسی لگائی جائے جس کی بدولت ملک کی معیشت کو فوری سہارا ملے گا اور عوام کی زندگی میں تھوڑی بہت خوشحالی آئے گی۔