دوسری ٹانگ کا خوف
میں 17 سال سے سنگاپور میں رہ رہا ہوں ، ان تمام سالوں کے دوران مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوا جیسے میری ایک ٹانگ مستقلاً جیل میں ہے… کئی سال قبل سنگاپور میں ایک جرمن کاروباری شناسا سے یہ الفاظ سنے تو ہم چونک سے گئے۔ حیرت سے پوچھا، کیا مطلب؟
بولے: سنگاپور میں قانون اور قانون کا نفاذ اس قدر مضبوط اور تیز ہے کہ ادھر آپ نے کوئی قانون توڑا، ادھر آپ دھر لیے گئے۔ اسے سنگاپور کی خوبی سمجھ لیں یا فرسٹ ورلڈ کے سنگاپور میں سکونت کی قیمت، آپ کو اپنی دوسری ٹانگ جیل میں دھرے جانے کا خوف اور احساس ہر آن قانون شکنی سے باز رکھتا ہے۔ قانون کی سانس آپ کو ہر وقت اپنی گردن پر محسوس ہوتی ہے۔
دنیا بھر کے مشاہدے اور مطالعے سے یہی جانا کہ جب قانون مضبوط اور سب کے لیے یکساں ہواور اس کا نفاذ بھی تیز اور ہر خاص و عام پر یکساں ہو تو ریاست کا نظام مضبوط اور پائیدار رہتا ہے۔ لیکن اگر قانون کمزور اور اس کا نفاذ یکساں نہ ہو تو معاشرے میں پیسہ اور طاقت رکھنے والے منہ زور اور کمزور خوار ہونے لگتے ہیں۔
سالہا سال یہ چلن رائج رہے تو طاقتور کو قانون کا خوف رہتا ہے نہ نفاذ کا کوئی دھڑکا۔کمزور سامنے پا کر طاقت کا وحشیانہ پن خودکار فوارے کی طرح پھوٹ پڑتا ہے۔ دور کیا جانا اس ہفتے رونما ہونے والے واقعات یہ زمینی حقیقت باور کرانے کے لیے کافی ہیں۔
ملتان میں 15 سالہ وسیم عباس جو یتیمی اور بے گھری کی زندگی کا عذاب سہہ رہا تھا۔ منہ زور اور طاقت کے نشے میں دھت ٹھیکیدار توقیر نذیر کے گھر ملازمت کے دوران تشدد اور جبر سے گھبرا کا فرار ہونے کا’’جرم‘‘ کر بیٹھا تو وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ گاڑی میں اس کے تعاقب میں نکلا۔
سیکیورٹی کیمروں کی آنکھ نے وہ سارا منظر ریکارڈ کرکے دکھایا کہ کس طرح ایک طاقتور نے ایک کمزورکو گاڑی تلے روند ڈالا۔بھلا ہو ان محلے داروں کا کہ انھوں نے ملزم کو قابو کئیے رکھا، پولیس کے حوالے کیا اور وقوع کی ویڈیو شئیر کی۔
سوشل میڈیا پر شور مچا، عوام سراپا احتجاج ہوئے۔ ملزم کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا، اور پھر چوبیس گھنٹے میں پراسرار طور پر ملزم ’’فرار‘‘ ہونے کی کوشش میں ساتھیوں کی گولی کا شکار ہو گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر توقیر نذیر کو قانون اور نظام کا ادنیٰ سا بھی ڈر ہوتا تو وہ یہ حرکت کرنے سے پہلے اپنی دوسری ٹانگ کی طرف دیکھتا۔
چند روز قبل اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ لڑکی لائبہ کی خودکشی نے سوشل میڈیا پر ہیجان برپا کردیا۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلے کے جنون میں اپنے محنت کش ماں باپ کے 70 لاکھ روپے ایک ایجنٹ کے ہاتھ سونپنے کے بعد جانا کہ جھوٹ تھا جو سنا، فراڈ تھا جو دیکھا۔
فراڈ کرنے والے کو معاشرے میں قانون اور نفاذ کی حقیقت خوب معلوم تھی، ایک پسماندہ معصوم لڑکی شاطر ملزم کا کیا بگاڑ لیتی! دھڑلے سے جعلی داخلہ لیٹر و کاغذات بنائے اور کمزور کو شکار کیا۔ قانون اور اس کے نفاذ کا ملزم نعمان کو ادنیٰ سا بھی ڈر ہوتا تو وہ یہ حرکت کرنے سے پہلے اپنی دوسری ٹانگ کی طرف دیکھتا۔
لاہور میں دو روز قبل اسکوٹی سوار لڑکی کے اوور ٹیک کرنے پر ایک موٹر سائیکل سوار کی آنکھوں میں وحشت اتر آئی، سرعام زبردستی اسکوٹی کو روکا اور سوار خاتون پر حملہ آور ہوا۔ تشدد سے خاتون کی ناک کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
پولیس نے گرفتار کیا تو خاتون پر تشدد کا ڈھٹائی سے عذر تراشا، اس نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا، اس لیے معلوم نہ ہوا کہ خاتون ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وکیل تھا، سو قانون اور قانون کے نفاذ کے ’’کس بل‘‘ خوب سمجھتا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسے قانون اور نظام کا ادنیٰ سا بھی ڈر ہوتا تو وہ یہ حرکت کرنے سے پہلے اپنی دوسری ٹانگ کی طرف دیکھتا۔
ایسا نہیں کہ قانون اور اس نظام میں جان نہیں ، دم نہیں، بالکل ہے لیکن صرف ان کے لیے جو پیسے اور اندھی طاقت سے لیس ہیں۔ کراچی میں چند ہفتے قبل ایک نوجوان میر رضا کی لاش ملی۔ پولیس کی تفتیش نے اسے خودکشی قرار دیا لیکن اہل خانہ مصر تھے کہ یہ قتل ہے۔
کیس مین اسٹریم اور سوشل میڈیا کے ہتھے چڑھا تو حکام کو مجبوراً دو بار میڈیکو لیگل ٹیمیں تشکیل دینا پڑیں کہ کسی غیر مرئی سر پنچی طاقت کا اصرار تھا کہ تفتیش کا پرنالہ عین خودکشی پر گرے۔
جوڈیشل کمیشن بنا، کمیشن کی رپورٹ ایک شاہکار افسانے کی صورت کچھ یوں سامنے آئی : عدالتی کمیشن کے مطابق موت کو خودکشی قرار دینے والا پولیس کا موقف مسترد ، تفتیشی خامیوں، شواہد ضایع ہونے اور نامکمل سی سی ٹی وی ریکارڈ نے پورے کیس پر سوالیہ نشان لگا دیا۔
کمیشن نے میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں موت کو قتل قرار دیتے ہوئے پولیس کی تفتیش کو غیر پیشہ ورانہ اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا۔ جوڈیشل کمیشن نے کیس کی بے لاگ تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو بھی اس کیس کی تفتیش پر اثر انداز ہوا اسے قانون اور نظام کی یہ حقیقت اچھی طرح معلوم تھی تو وہ اس کی دوسری ٹانگ تو کیا پہلی ٹانگ تک بھی نہیں پہنچ پائے گا۔
قانون میں دم اور اس کے نفاذ کی اہلیت کا اندازہ اسی ہفتے ایک اور کیس کے حوالے سے ہوتا ہے، ایک مشہور ڈائیلاگ کے مطابق، میں ایک بار فیصلہ کرلوں تو پھر میں خود کی بھی نہیں سنتا۔ یہی قانون اور اس کے نفاذ پر جب کوئی طاقت ور مصر ہو تو اس قانون کی مٹی میں نمی کی کمی ہوتی نہ زرخیزی کی ، یہ خود کی بھی نہیں سنتا۔
این سی سی آئی اے لاہور نے انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی کر کے 35 ارب روپے کے جعلی امریکی ڈاک لیبل کے مبینہ فراڈ میں امریکا کو مطلوب ملزم فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم 2023 سے جعلی ویب سائٹ کے ذریعے جعل سازی کا دھندہ کر رہا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق فہیم اکرم نے 50 لاکھ سے زائد ڈاک لیبل فروخت کیے جس سے امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔امریکا نے ملزم فہیم اکرم کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا۔
معاملہ طاقتوروں کے طاقتور امریکا کا تھا، سو نظام دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ، ٹیموں نے 10 روز تک مسلسل لوکیٹر آپریشن جاری رکھا۔
اس دوران جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 122 مشتبہ کال ریکارڈز کا تجزیہ، 50 سے زائد آئی ایم ای آئی نمبرز کو ٹریس اور 47 افراد سے تفتیش کی گئی۔ پنجاب ،اسلام اباد اور سندھ میں مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مار کر ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
ملزم کو اپنے سافٹ وئیر انجینئر ہونے اور اپنے ہاں قانون اور اس کے نفاذ پراس قدر ’’اعتماد‘‘ اور یقین تھا کہ سوفٹ ویئر کی تہوں میں چھپی اس کی دونوں ٹانگیں محفوظ ہیں۔ لیکن اسے کیا معلوم کہ امریکی ریاست اپنے شہریوں سے انصاف کے لیے پوری طاقت استعمال کرتی ہے۔ جب امریکا جیسی طاقت سے سرخروئی درپیش ہو تو سوفٹ وئیر کی تہوں کے پیچھے چھپے ملزم کو قانون اور اس کے نفاز کرنے والوں نے دونوں ٹانگوں سمیت گھسیٹ کر حوالات بند کر دیا۔
یہ واقعات اس حقیقت کی تصدیق ہیں کہ جب نظام میں قانون اور قانون کے نفاذ پر پیسے اور طاقت ور کی گرفت ایک استحقاق کی سی صورت اختیار کرلے تو اسے اپنی دونوں ٹانگیں محفوظ رہنے کا یقین رہتا ہے، یہی یقین اسے کمزور کو سر عام گاڑی تلے روندنے، بیرون ملک اچھی یونیورسٹی میں داخلے کی معصوم خواہش مند لڑکی سے لاکھوں اینٹھنے اور خاتون اسکوٹی سوار کی ٹیک اوور کرنے کی جرآت پر وحشیانہ تشدد پر بے خوف و جھجھک اکساتی ہے۔ یہی قانون اور اس کا نفاذ کرنے والے جب ’’ سیدھے‘‘ ہو جائیں تو میر رضا کا کیس کبھی سیدھی سمت اختیار نہیں کر سکتا ، اور فہیم کو سوفٹ ویئر کے بے نامی گھاٹ سے بھی ڈھونڈ نکال سکتا ہے۔
آخری بات، ملزم توقیر نذیر اور نعمان کی تفتیش کے دوران مبینہ مقابلے میں ہلاکتیں غماز ہیں کہ قانون کا نفاذ کرنے والوں کو بھی ’’قانونی و عدالتی راستے‘‘ پراتنی ہی بے اعتباری ہے جتنی عام کمزور شہریوں کو ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔