ایچ آر سی پی کا ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرنے، وزیراعلیٰ کی رہائی کا مطالبہ
فوٹو: فائل
انسانی حقوق کمیشن پاکستان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج فوری ختم کرنے، گرفتار وزیراعلیٰ اور دیگر زیرحراست افراد کی رہائی اور صوبائی اسمبلی بحال کرنے کا مطالبہ کردیا۔
ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ سیاسی اتفاق رائے کے بجائے ہنگامی اقدامات کے ذریعے حکومت چلانے سے پاکستان میں چ، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر کمیشن کے تحفظات برقرار ہیں، ان اقدامات سے جمہوری آزادیوں، ووٹرز کے حقِ نمائندگی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ منتخب وزیراعلیٰ کی گرفتاری جمہوری اصولوں کے منافی ہے، جبکہ دیگر منتخب نمائندوں اور سیاسی کارکنوں، خصوصاً خواتین کارکنوں کی گرفتاریوں سے سیاسی سرگرمیوں کے خلاف وسیع تر کارروائیوں کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
کمیشن نے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات قانون کے دائرے میں ہونے چاہئیں اور انہیں اجتماعی سزا، ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال یا بنیادی حقوق دبانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ فوجی کارروائیوں سے شہریوں کی ہلاکتوں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ صرف طاقت کے استعمال سے پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل اور معدنیات، پانی اور زمین سمیت قدرتی وسائل کے بارے میں فیصلوں میں مؤثر اختیار دیا جانا چاہیے۔
ایچ آر سی پی نے غیر قانونی اور احتیاطی حراست کو سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کا ذریعہ بنانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ کمیشن کے مطابق زیرحراست افراد کو گرفتاری کی وجوہات بتانا، وکلا اور اہل خانہ تک رسائی دینا اور مقررہ قانونی مدت میں عدالت کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
بیان میں پشاور، سوات اور خیبر میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف پولیس چھاپوں اور اجتماعات منتشر کرنے کی اطلاعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیشن کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پولیس کی جانب سے تقریباً دو سے چار ہزار افراد کے اجتماع پر لاٹھی چارج کیے جانے کی اطلاعات کی مزید تصدیق ضروری ہے۔ پرامن اجتماع پر پابندیاں قانونی، ضروری اور متناسب ہونی چاہئیں۔
ایچ آر سی پی نے شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں اور میران شاہ میں کرفیو اور سکیورٹی تعیناتیوں کے باعث معمولات زندگی متاثر ہونے کا ذکر کرتے ہوئے شہری ہلاکتوں سے متعلق معلومات جاری کرنے اور بے گھر خاندانوں کی مناسب مدد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
کمیشن نے حکومت اور تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ سول سوسائٹی کی شمولیت سے جامع سیاسی مذاکرات دوبارہ شروع کریں تاکہ دہشت گردی سے نمٹنے، بنیادی حقوق کے تحفظ اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے اختیار سے متعلق مسائل حل کیے جا سکیں۔