جی پی ایس جیمر نے پاکستانی طیارہ تباہ کیا؟
یہ سال رواں کے ماہ مئی کی بات ہے۔ امریکی ریاست نیو میکسیکو میں واقع شہر، روزیل سے دو انجنوں پر مشتمل ایک ’’بیچ کرافٹ کنگ ایئر‘‘ (beechcraft king air) میڈیکیک (طبّی امداد کا) طیارہ روانہ ہوا۔ اس نے مغرب میں واقع شہر ،روئیڈوسو (Ruidoso) سے ایک مریض لینا تھا۔ جہاز میں بیٹھے دو پائلٹوں اور دو نرسوں کے لیے یہ کوئی مشکل پرواز نہیں ہونی چاہیے تھی۔ درجہ حرارت 69 ڈگری فارن ہائیٹ تھا اور آسمان بالکل صاف۔ 60 میل کا یہ سفر عام طور پر زیادہ سے زیادہ آدھے گھنٹے کا ہوتا ہے۔
لیکن فضا میں پہنچتے ہی طیارہ مشکلات کا شکار ہو گیا۔ اس رات دراصل ’’وائٹ سینڈز میزائل رینج‘‘ نامی جنگی اڈے پر امریکی فوجی اہلکار جی پی ایس جامنگ (سگنل معطل کرنے) کی ایک مشق کر رہے تھے جس کی وجہ سے کنگ ایئر کے پائلٹ اور ان کے علاوہ سینکڑوں میل کے دائرے میں موجود دیگر تمام لوگ جدید نیویگیشن سسٹم، جی پی ایس استعمال کرنے سے قاصر ہو گئے۔تب پائلٹوں کو پرانی ٹیکنالوجی کی طرف لوٹنے پر مجبور ہونا پڑا جسے اب وہ شاید ہی کبھی استعمال کرتے تھے۔اس وجہ سے کنگ ایئر کے پائلٹ راستہ بھٹک گئے اور پہاڑ کی ایک جانب جا ٹکرائے۔ حادثے میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔
فضا خطرناک ہو چکی
یہ حادثہ پہلا واقعہ ہے جب جی پی ایس جامنگ نے امریکہ میں کسی شہری طیارے کے تباہ ہونے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ لیکن یہ حادثہ دنیا بھر میں حال ہی میں پیش آنے والے خللوں کے واقعات کی ایک کڑی تھی۔ آج دنیا میں فضا کی جہگیں پہلے سے کہیں زیادہ کشیدہ اور حساس ہو چکی ہیں۔چاہے اِس کی وجہ منظور شدہ زون سے باہر بھٹکنے والے شہری ڈرون ہوں یا خفیہ ایجنسیوں کے سگنلز کا باہم ٹکراؤ۔مثال کے طور اسی سال کے شروع میں امریکی ریاستوں، نیو میکسیکو اور ٹیکساس کی حکومتوں نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر کے عوام میں خوف پھیلا دیا تھا۔ (بعد میں معلوم ہوا کہ امریکی کسٹمز اور بارڈر پیٹرول کے اہلکار اِس علاقے میں اینٹی ڈرون لیزر استعمال کر رہے تھے۔)
امریکی فوج کی زیرسرکردگی جی پی ایس جامنگ کی یہ مشق جس کے نتیجے میں تازہ ترین حادثہ پیش آیا، کوئی واحد واقعہ نہیں۔ گزشتہ ایک سال میں امریکی فوج اِس طرح کی کم از کم دس مشقوں کے نوٹس جاری کر چکی ہے۔ امریکی سائبر سیکیورٹی فرم، سیوائیشن (Cyviation) کے سی ای او ایلیران الموگ کہتے ہیں: ’’جیسے جیسے ڈرون جنگ اور الیکٹرانک جنگ میں وسعت آ رہی ہے،دنیا بھر کی سول ایئر لائنز کو اصل تنازع والے علاقے سے سینکڑوں میل دور بھی نیویگیشن میں خلل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘
میڈیکیک پروازیں
ماہ مئی میں جو واقعہ رونما ہوا، اْس کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ اگرچہ روئیڈوسو حادثہ امریکہ میں الیکٹرانک جنگ سے منسلک پہلا مہلک حادثہ تھا، لیکن یہ سوچنے کی کوئی وجہ نہیں کہ یہ آخری ہوگا۔جی پی ایس جامنگ کے بغیر بھی میڈیکیک یا طبی امدادی پروازیں شہری ہوا بازی کے سب سے خطرناک شعبوں میں سے ایک ہے۔ ہوائی جہاز کے حادثات کی مقدمہ بازی میں مہارت رکھنے والی امریکی لا فرم، کرینڈلر کا کہنا ہے کہ میڈیکیک پروازوں میں حادثات کی شرح شہری ہوا بازی کے مقابلے میں جنگی پروازوں سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔وجہ یہ ہے،یہ پروازیں اکثر مختصر نوٹس پر ترتیب دی جاتی اور ایسے دشوار گذار رن ویز پر اترتی ہیں جو فلائٹ عملے کے لیے اجنبی ہو سکتے ہیں۔ چونکہ انسانی زندگیاں داؤ پر لگی ہوتی ہیں، اس لیے موسم خراب ہونے کے باوجود پرواز کرنے کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔
ان میں سے کچھ عوامل 13 مئی کی رات کو بھی اثر انداز ہوئے ۔ رات 11 بجے عملے کو اطلاع دی گئی کہ انہیں ایک مریض کو لینے اور اسے 'البوکرکی' (Albuquerque) لے جانے کے لیے روئیڈوسو کی پرواز کرنی ہے۔ پائلٹ 30 سالہ کیپٹن کیلان کلارک اور 23 سالہ فرسٹ آفیسر علی کوسارا تھے۔ کلارک نے محض ڈیڑھ سال پہلے اپنا کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا تھا اور گزشتہ ماہ ہی انہیں فرسٹ آفیسر سے کیپٹن کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ کوسارا کو اس ملازمت پر صرف دو ماہ ہوئے تھے اور اس سے پہلے انہوں نے محض کارگو پروازوں پر کام کیا تھا۔
پرواز کے جدید وقدیم طریقے
دونوں افراد نے کم بصارت ( Visibility Low ) والے حالات میں آلات پر منحصر فلائنگ (جسے instrument flight rules یا IFR کہا جاتا ہے) کا مظاہرہ کر کے اپنی مہارت ثابت کی تھی۔ خراب موسم میں نیویگیٹ کرنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ جدید کاک پٹ جی پی ایس سے لیس آلات سے آراستہ ہوتے ہیں جو کمپیوٹر اسکرین پر یہ دکھاتے ہیں کہ طیارہ کہاں ہے۔وہ سرخ یا جامنی رنگ کی لائن کے ذریعے پائلٹوں کو ان کی منزل کی سمت دکھاتے ہیں۔ اسے RNAV فلائنگ کہا جاتا ہے۔ ’’RNAV اپروچ‘‘ طیاروں کو کم بصارت کے حالات میں لینڈنگ کے لیے رن وے کی حد تک لے آتی ہے۔
فلائنگ کا یہ طریقہ پچھلے دور میں مستعمل طریق کار کے مقابلے میں بہت آسان ہے۔ 2000ء کی دہائی میں جی پی ایس کے عام ہونے سے پہلے طیارے مقناطیسی قطب نما ، زمین پر مبنی ریڈیو بیکنوں اور پرانے زمانے کے گائرواسکوپ سے حاصل کردہ انرشیل سسٹمز کے امتزاج سے راستہ تلاش کرتے تھے۔ ریڈیو بیکنوں کے ذریعے پرواز کرنے کے لیے پائلٹوں کو بیکنز کے لحاظ سے اپنے مقام کا ایک تھری ڈی ذہنی خاکہ بنانا پڑتا ۔ انہیں تب تک مشق کرنی پڑتی کہ وہ اتنے ماہر ہو جائیں ،دباؤ کے باوجود پْرسکون رہ سکیں۔ مبادا وہ گھبرا جائیں، اپنے اطراف کا احساس کھو دیں، تو ظاہر ہے، طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھیں گے۔ایک امریکی ایئر لائن کے ریٹائرڈ پائلٹ، کینتھ کرینٹسا کہتے ہیں: ’’آپ بس کینیڈی کے بارے میں پوچھ لیں۔‘‘ اُن کا اشارہ امریکی صدر، جان کینیڈی کے بیٹے ،جے ایف کے جونیئر کی طرف ہے۔ وہ 1999ء میں رات کے وقت ہوائی جہاز اڑا رہے تھے کہ کنٹرول کھو بیٹھے۔ وہ اپنی بیوی اور سالی سمیت حادثے میں مارے گئے۔
امریکی افواج کی مشقیں
کلارک اور کوسارا نے آدھی رات سے آ ٹھ منٹ پہلے پرواز بھری اور ابتدائی طور پر مغرب کی طرف، روئیڈوسو کی جانب بڑھے۔ موسم صاف تھا، لیکن چونکہ چاند تقریباً نہیں نکلا تھا اور علاقہ دیہی تھا، اس لیے بصری مدد کے طور پر صرف بکھری ہوئی آبادیوں کی بتیاّں ہی دستیاب تھیں۔ حادثات کی تحقیقات کا پوڈ کاسٹ کرنے والے ایئر لائن پائلٹ، خوان براؤن کہتے ہیں: ’’اُس علاقے میں رات کو بالکل اندھیرا (بلیک ہول) ہوتا ہے۔‘‘
بصری اشاروں کے بغیر سمت قائم کرنے میں ناکام رہنے پر پائلٹوں نے البوکرکی ایئر روٹ ٹریفک کنٹرول سینٹر (مختصراً البوکرکی سینٹر) کال کی اور روئیڈوسو کے لیے صرف آلات کی مدد سے پرواز کی اجازت مانگی۔ درخواست منظور کر لی گئی۔
عام حالات میں اس کے بعد پرواز بغیر کسی واقعے کے گزر جاتی۔ پائلٹ جامنی لائن کی پیروی کرتے اور جی پی ایس نیویگیشن آلات انہیں ہموار لینڈنگ کے لیے رن وے کی سمت میں لے آتے۔
لیکن مغرب میںایک سو میل دور، 704th ٹیسٹ گروپ کی 746th ٹیسٹ اسکواڈرن نامی امریکی فضائیہ کی ایک یونٹ وائٹ سینڈز میزائل رینج پر اپنا سالانہ NAVFEST ایونٹ منعقد کر رہی تھی۔ یہ ایونٹ امریکی مسلح افواج کے تمام الیکٹرانک وارفیئر یونٹس کو دو ہفتوں کی مشقوں کے لیے اکٹھا کرتا ہے۔اْن مشقوں میں یونٹس جی پی ایس میں خلل ڈالنے اور حریفوں سے نمٹنے کے لیے مختلف ٹیکنالوجیوں کا تجربہ کرتے ہیں۔
یہ تقریب ’’وائٹ سینڈز‘‘ میں اس لیے منعقد کی جاتی ہے کیونکہ یہ امریکی سرزمین کے سب سے دور دراز اور کم آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ (یہ کوئی اتفاق نہیں کہ دنیا کا پہلا ایٹم بم بھی یہیں دھماکے سے پھاڑا گیا تھا)۔ لیکن NAVFEST کے انعقاد سے پہلے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے تمام ایئرکرافٹ آپریٹرز کو خبردار کر دیا تھا کہ 12 مئی سے 18 مئی کے درمیان 400 میل تک کے قطر میں جی پی ایس متاثر ہو سکتا ہے۔
پہاڑ اجل بن گئے
14 مئی کی رات روزویل سے پرواز بھرنے کے آٹھ منٹ بعد کلارک اور کوسارا نے البوکرکی سینٹر کو بتایا کہ ان کا جی پی ایس سگنل ختم ہو چکا ہے۔ خود سے نیویگیٹ کرنے میں ناکام ہونے پر انہوں نے کنٹرولر سے ایک ’’ہیڈنگ‘‘ (پرواز کے لیے مقناطیسی سمت)فراہم کرنے کی درخواست کی۔ کنٹرولر نے انہیں پہلے مغرب اور پھر ایک منٹ بعد شمال کی طرف مڑنے کی ہدایت دی۔
پائلٹوں نے کہا کہ وہ روئیڈوسو کے لیے RNAV اپروچ پر پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جی پی ایس جام ہونے کے باعث جب یہ ممکن نہ رہا، تو کنگ ایئر کے پائلٹوں نے اپنی درخواست بدل دی اور لینڈنگ کا ایک متبادل نظام استعمال کرنے کی اجازت مانگی جسے ’’انسٹرومنٹ لینڈنگ سسٹم‘‘ (ILS) کہا جاتا ہے اور جس کے لیے جی پی ایس سگنل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ رات بارہ بج کر پانچ منٹ پر کنٹرولر نے کنگ ایئر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ انہیں ’’ایک دو منٹ میں‘‘ رہنمائی کے لیے ویکٹرز (سمت) فراہم کریں گے۔ اس دوران وہ شمال کی طرف پرواز کرتے رہے۔
اگر البوکرکی ایئر ٹریفک کنٹرول کنگ ایئر کے اُن نوجوان پائلٹوں پر زیادہ توجہ دے پاتا تو شاید یہ حادثہ نہ ہوتا۔ لیکن اُس رات ایئر ٹریفک کنٹرول بہت مصروف تھا۔ تین دیگر طیاروں نے بھی خبر دی تھی کہ ان کا جی پی ایس ختم ہو گیا ہے اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ایک طیارہ ریڈیو بیکن پر اپنی سمت قائم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔
جب ایئر ٹریفک کنٹرول دیگر طیاروں کی مدد کر رہا تھا، کنگ ایئر شمال کی طرف بڑھتا رہا۔ رات بارہ بج کر آٹھ منٹ تک اُس کے پائلٹ لینڈنگ کے طے شدہ نمونے سے دس میل آگے نکل چکے تھے۔
اس موڑ پر پائلٹوں کے پاس تین راستے تھے۔ اول وہ موجودہ منصوبے کے مطابق چلتے رہتے اور مصروف کنٹرولر کی طرف سے اگلی سمت (ویکٹر) کا انتظار کرتے۔دوم یا چونکہ جی پی ایس نے دوبارہ کام کرنا شروع کر دیا تھا، وہ RNAV اپروچ پر واپس جانے کی درخواست کرتے اور خود پرواز کرتے۔ سوم یا پھر وہ انسٹرومنٹ اپروچ کا طریقہ بالکل چھوڑ دیتے اور ’’بصری اپروچ‘‘ ( visual approach ) کا انتخاب کرتے جس میںآپ کو رن وے نظر آتا ہے اور آپ براہِ راست اُس کی طرف پرواز کرتے ہیں۔
جب کنگ ایئر شمال کی طرف جا رہا تھا، تو اس کے پائلٹ اتنی بلندی پر تھے کہ انہیں جنوب مغرب میں 31 میل دور واقع روئیڈوسو ہوائی اڈے کی بتیاں نظرآ رہی تھیں۔ چناں چہ کنگ ایئر کے کاک پٹ میں موجود پائلٹوں کے لیے بصری اپروچ ایک دلکش راستہ بن گیا ہو گا۔ اے ٹی سی کی ہدایات کا انتظار کیوں کیا جائے، یا ILS بیکن کے مقابلے میں اپنی لوکیشن کا اندازہ لگانے کی ذہنی مشقت کیوں کی جائے؟ انہیں بس اْن بتیوں کی طرف پرواز کرنی تھی جو انہیں اپنی ونڈشیلڈ سے صاف دکھائی دے رہی تھیں۔
کنگ ایئر نے البوکرکی سینٹر کو کال کی اور ’’بصری (ویژول) پرواز‘‘ کی اجازت مانگی۔ درخواست منظور کر لی گئی۔
جیسے ہی وہ مڑے اور روئیڈوسو کی بتیّوں کی طرف نیچے اترنے لگے، پائلٹ یہ نہ دیکھ سکے کہ ان کے راستے میں ’’کیپیٹن پہاڑوں‘‘کا 10 ہزار فٹ اونچا سلسلہ حائل ہے۔ جیسے جیسے وہ قریب آئے، چٹانوں کا سیاہ ڈھیر اْوپر اٹھتا ہوا محسوس ہوا، جس نے وادی کی بتیوں کو چھپا دیا۔ خوان براون کہتے ہیں’’ اِس صورت حال سے ’’اردگرد کے حالات سے بے خبری ‘‘(loss of situational awareness) پیدا ہوئی ہوگی۔ جب ایسی صورت حال میں بتیاں غائب ہو جائیں تو انسان کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ شدید مصیبت میں ہے۔‘‘
پائلٹوں نے نیچے اترنے کی رفتار کم کی، یہاں تک کہ تھوڑی بلندی بھی حاصل کی، لیکن یہ کافی نہیں تھا۔ وہ سیدھا پہاڑ کی طرف پرواز کرتے رہے۔ کرینٹسا کہتے ہیں: ’’جب آپ اِس کیفیت میں ہوں، تو آپ جتنی بلندی پر جا سکتے ہیں، جاتے اور چکّر لگاتے ہیں۔ آپ ایک ہی جگہ پر رہتے ہیں جب تک کہ آپ کو یہ معلوم ہو جائے کہ آپ کہاں ہیں۔ آپ یوں اندھا دھند آگے نہیں بڑھتے رہتے۔‘‘
کنگ ایئر کے پائلٹوں نے لیکن یہی کیا۔ وہ سیدھا ابھرتی ہوئی ڈھلوان کی طرف گئے اور پوری رفتار سے اُس سے جا ٹکرائے۔ جہاز میں موجود تمام چاروں افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
چوہے بلّی کا کھیل
دنیا میں جنگ کی نوعیت تیزی سے اور بنیادی طور پر بدل رہی ہے کیونکہ ڈرون سستے، زیادہ تعداد میں اور زیادہ مہلک ہو رہے ہیں۔ ان کا پتا لگانا اور انہیں گرانا مشکل ہے۔وہ چھوٹے اور کم وسائل والے ممالک کو طاقتور حریفوں کے مقابلے میں برابری کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یوکرین نے جو 2022 ء کے شروع میں روس کی روایتی جنگی طاقت سے تقریباً دباؤ میں آ گیا تھا، تنازع میں برتری حاصل کرنے کے لیے تیزی سے اپنی ڈرون فورس کو ترقی دی۔ اسی دوران اگرچہ امریکہ نے ایران پر حملے کے بعد مکمل فضائی برتری حاصل کر لی تھی، لیکن ایران نے بھی ڈرون اور میزائلوں کے ذریعے آبنائے ہرمز سے نقل و حمل کو موثر طریقے سے بند کر دیا جبکہ امریکی انھیں روکنے میں بے بس نظر آئے۔
جوابی کارروائی کے طور پر دفاع کرنے والے ممالک ڈرون کے نیویگیشن سسٹم کو ہدف بناتے ہیں۔ ڈرون کا اپنے ٹارگٹ تک پہنچنے کا ایک سستا اور آسان طریقہ جی پی ایس کا استعمال ہے جو سیّارچوں (Satellites) کے جھرمٹ سے موصول ہوئے ریڈیو سگنلز کا استعمال کرتے مقام کا تعین کرتا ہے۔ جب ان سگنلز کو بلاک کر دیا جائے، تو ایک ملک کے ڈرون اندھے ہو سکتے ہیں۔ لیکن وہ ملک بھی جوابی اقدامات کر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے، ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹکنالوجیوں کے درمیان بلّی اور چوہے کا ایک لامتناہی کھیل شروع ہو چکا۔ ہر ایک مسلسل دوسرے پر برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ NAVFEST جیسی مشقیں امریکی فوج کو اس کھیل میں آگے رہنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
تحفظ کی پرت کا خاتمہ
اِن مشقوں سے تاہم شہری جی پی ایس کی بندش ایک ضمنی نقصان بن چکا اور اِس چلن سے سب سے زیادہ متاثر ہوائی سفر ہوا ہے۔ 2023 ء سے مشرقِ وسطیٰ، بحیرہ اسود اور بحیرہ بالٹک کے علاقوں سے گزرنے والے تمام طیاروں کو جی پی ایس جامنگ کی لہروں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایئر لائنز نے صورت حال سے نمٹنا سیکھ لیا ہے، لیکن اِس کی قیمت بہرحال چکانی پڑ رہی ہے۔
جی پی ایس ہوائی جہازوں کو بحفاظت منزل تک پہنچانے کے لیے ایک بہت بڑا سہارا تھا۔ اگرچہ اُسے ختم کرنے سے طیارے فوری طور پر آسمان سے نہیں گریں گے لیکن یہ مسافروں اور عملے سے تحفظ کی ایک پرت چھین لیتا ہے۔ پھر صورت حال میں دیگر تناؤکی وجوہ شامل کر لیں…ایک تاریک رات، بے تجربہ عملہ اور متبادل ٹکنالوجی میں مہارت کی کمی تو یہ سب مل کر ایک بڑی تباہی کا باعث بننے کے لیے کافی ہیں۔
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں جی پی ایس جامنگ اور اسپوفنگ (جھوٹے سگنلز) کی بڑھتی سطح تجارتی ہوا بازی کے لیے سیکیورٹی اور تحفظ کا خطرہ بن چکی۔ جب کاک پٹ میںآلات کے الارم بلا وجہ بار بار بجنے لگیں اور جب پائلٹ اپنے آلات کی اہم ریڈنگز پر اعتبار نہ ہونے کے باعث انہیں نظر انداز کرنا سیکھ لیں تو ہم نارمل فلائنگ اپریشنز سے بہت دور نکل چکے ہوتے ہیں۔‘‘امریکی ٹیکسٹاس یونیورسٹی ،آسٹن میں ایرو اسپیس انجینئرنگ کے پروفیسر ٹوڈ ہمفریز کہتے ہیں۔آپ جی پی ایس خلل کے موضوع پر ایک سرکردہ محقق ہیں۔’’ہوائی سفر اب بھی بہت محفوظ ہے، لیکن اگلے پانچ یا اس سے زیادہ برسوں کے لیے یہ درمیانے مگر بڑھتے خطرے کی صورتحال میں پھنس سکتا ہے کیونکہ انتہائی سست رفتاری سے خود کو ڈھالنے والی ایوی ایشن انڈسٹری کو جی پی ایس میں دن بہ دن بڑھتی مداخلت کا سامنا ہے۔‘‘
چند سال کے لیے امریکی ہوا بازی اینٹی ڈرون الیکٹرانک وارفیئر کے ان خللوں سے بچی رہی۔ پھر یہ سلسلہ یہاں بھی ہونا شروع ہو گیا۔ مارچ 2025ء میں، واشنگٹن ڈی سی کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر اترنے والے مسافر طیاروں کو ٹکراؤ سے بچانے والے سسٹمز (collision avoidance system ) سے غلط الارم موصول ہوئے جس کی وجہ سے کئی طیاروں کو اپنی لینڈنگ ملتوی کرنی پڑی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ امریکی سیکرٹ سروس نائب صدر کی رہائش گاہ پر الیکٹرانک وارفیئر کا سامان ٹیسٹ کر رہی تھی۔ اُس سال مغربی ٹیکساس میں امریکی فوج اور سی بی پی (CBP) کے ڈرون آپریشنز سے منسلک دو الگ الگ واقعات کے باعث فضائی حدود کو بند کرنا پڑا اور تجارتی پروازوں میں خلل پڑا۔
ایوی ایشن انڈسٹری اینٹی ڈرون اقدامات میں اضافے اور ہوائی جہازوں کی پرواز پر اْن کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے میں کافی سست رہی ہے۔ ایئر لائنز اور دیگر تجارتی آپریٹرز نیویگیشن کے لیے اب بھی جی پی ایس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اور دیگر اہم ٹکنالوجیاں جیسے ٹکراؤ سے بچاو کا نظام بھی اِس چلن کے بد اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ امریکی ڈرون ڈیفنس کمپنی ،راؤنڈ ریڈار سسٹمز کے جنرل مینیجر کرس بروسٹ کہتے ہیں: ’’ڈرونز کے سلسلے میں سب سے مشکل مسئلہ انہیں ناکارہ بنانا نہیں بلکہ ایسا سسٹم بنانا ہے جو شہری ہوا بازی پر منفی اثر نہ ڈال سکے۔ ڈرون مخالف ٹیکنالوجی کا عمل جراحی کی طرح باریک بین ہونا چاہیے نہ کہ ہتھوڑے جیسا کیونکہ جس فضائی حدود کو ہم بچانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ وہی ہے جس پر ہماری معیشت چلتی ہے۔‘‘
پاکستانی جہاز کا حادثہ
دوست اور دشمن، دونوں طرح کے ڈرونز سے بھری دنیا میں رہنے کے لیے بہت سی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ تاریخی طور پر ہوا بازی میں بڑی تبدیلیاں صرف ایسے حادثات کے بعد آتی ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ مارے جاتے ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب کسی بڑے حادثے کا دھچکا زیادہ دور نہیں۔
اِس سال 7 جولائی کو پاکستان کی ایک چھوٹی کارگو ایئر لائن ،کے ٹو ایئر ویز کا ایک737 فریٹر (سامان بردار طیارہ) سہ پہر کے وقت شارجہ، متحدہ عرب امارات سے روانہ ہوا اور پانچ رکنی عملے کے ساتھ مشرق میں کراچی کی طرف پرواز کرنے لگا۔ اس کا راستہ جنوب میں واقع آبنائے ہرمز کے بالکل قریب سے ہوتے گزرتا تھا جو امریکہ-ایران تنازع کی وجہ سے شدید جی پی ایس جامنگ کا شکار علاقہ تھا۔
بعد میں رات کے اندھیرے میں پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق فلائٹ عملے نے کراچی ایئر ٹریفک کنٹرول کو کال کی اور ’’نیویگیشن سسٹم کے مسئلے‘‘کی اطلاع دی۔ اس کے بعد تین منٹ میں طیارہ پہلے اچانک 5 ہزار فٹ نیچے آیا، پھر 6 ہزار فٹ اوپر چڑھا اور پھر تقریباً بالکل سیدھا نچلے زاویے پر 36 ہزار فٹ نیچے واقع سمندر میں جا گرا، جس سے تمام سوار پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔
ابھی یہ جاننا قبل از وقت ہے کہ حادثے کی کیا وجہ تھی لیکن اگر الیکٹرانک جنگ نے ایک اور پائلٹ کو اندھیرے (اور موت) کی طرف دھکیل دیا تو اِس پر کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔29 ستمبر کو پاک بحریہ نے سمندر کے نیچے تباہ شدہ طیارے کا بلیک باکس تلاش کر لیا۔ اُمید ہے، وہ یہ راز افشا کرنے میں مدد دے گا کہ سات جولائی کی اُس رات بدقسمت کارگو جہاز پر کس قسم کی آفت ٹوٹی تھی۔