زباں فہمی300 ؛ پھر وُہی زنانہ بولی یعنی بیگماتی زبان
زباں فہمی300 ؛ پھر وُہی زنانہ بولی یعنی بیگماتی زبان ؛ تحریر ؛ سہیل احمد صدیقی
بعض موضوعات پر گفتگو سیرحاصل ہی کیوں نہ ہو، ایک محقق کا جی چاہتا ہے کہ اُن کی تکرار بھی گاہے گاہے ہوتی رہے۔ اسی سلسلہ ’زباں فہمی‘ میں خاکسار نے دو قسطوں میں مضمون لکھا (نمبر 141-142) ’خالص زنانہ بولی‘ جو روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین، مؤرخہ 29مئی 2022ء اور 5جون 2022ء کو جریدے کی زینت بنا۔ جب مَیں نے یہ مضمون لکھا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ایک شاعرہ نے بزم زباں فہمی ہی میں اپنی ناواقفیت اور استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ سہیل صاحب! کیا کوئی زنانہ بولی بھی ہوتی ہے؟
بزم زباں فہمی ہو یا کوئی اور محفل، زنانہ بولی کا موضوع جابجا میری گفتگو کا محور بنا اور ایسا ہونے کی وجہ بھی ہے۔ مجھے زباں فہمی نے جس نئی جہت سے آشکار کیا اور بطور محقق شہرت بخشی، اُس کی بنیاد میری والدہ مرحومہ کی زندگی بھر، ہم سب بہن بھائیوں سے بول چال ہے۔ مجھے زندگی میں بھانت بھانت کے لوگ ملے، مگر کوئی والدہ مرحومہ کی طرح زبان پر اِس قدر حاوی نہ تھا کہ بات بے بات، ہر موقع کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی معیاری فقرہ، محاورہ، کہاوت یا مثال پیش کردے اور مخاطب کو ششد ر یا لاجواب کردے۔ اسی گفتگو میں زنانہ بولی بھی شامل ہوا کرتی تھی جسے جاننے اور سمجھنے میں ہمیں ایک عمر لگی۔ آج بھی اُن کے بولے ہوئے بعض محاورے یا کہاوتیں غور کرنے ہی پر سمجھ میں آتی ہیں، گویا اس قدر گہرائی تھی ایسی باتوں میں بھی جنھیں ہم نے اپنی ناسمجھی کے سبب، سیکھنے سے گریز کیا۔ مثال کے طور پرہمیں یہ محاورہ بھی ابھی کچھ سال قبل ہی سمجھ میں آیا: بد اَچّھا، بدنام بُرا۔ یہ مخصوص بولی خطہ ہند کے طول و عرض میں مختلف مقامات پر اور مختلف طبقاتِ نسواں میں مختلف ومتنوع تھی، اس ضمن میں دِلّی، آگرہ، نواحی شہر، قصبہ جات، دیہات، لکھنؤ، بھوپال، دکن، بِہار اور دیگر علاقوں کے ناموں پر جُداجُدا تحقیق کی ضرورت ہے۔ دکنی بولی میں خصوصاً اس کا بہت زور تھا۔ اب اس بولی کے نمونے شاذہی دیکھنے سننے کو ملتے ہیں، البتہ کتابی مواد میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
پچھلے مضمون کی دونوں قسطوں میں یہ خیال پیش کرچکا ہوں کہ بیگماتی زبان عُرف زنانہ بولی کے موضوع پر کسی بسیط جائزے اور تحقیق کے بعد، ایک دائرۃ المعارف (Encyclopaedia)کی ترتیب وتالیف کی اشدّ ضرورت محسوس ہوتی ہے، حالانکہ اس باب میں متعدد مساعی منظرعام پر آئیں جیسے لغات النساء ازمولوی سید احمد دہلوی(1917ء)، اردو بول چال (زنانہ)۔ لغات الخواتین ازمولانا اشہری(1925ء)، لغاتِ نسواں از منیر لکھنوی، ڈپٹی مولوی نذیر احمدکی متعدد کتب، علامہ راشدالخیری کی کتب، ناصرنذیر فراق ؔدہلوی، میر باقر علی داستان گو، آغا حیدر، میرزا فرحت اللّہ بیگ ومیرزا فہیم بیگ چغتائی کی کتب، محترمہ وزیربیگم ضیاء (ادیب فاضل، جامعہ پنجاب) کی ’’محاوراتِ نسواں‘‘ (اشاعت ِ اوّل اواخر 1936ء ، دُوُم 1944ء)، نسوانی محاورے از وحیدہ نسیم (1982ء)، لغات النساء از وحیدہ نسیم (1987ء)،نیز فرہنگ آصفیہ، نوراللغات، جامع اللغات ودیگر۔ محترمہ وزیر کی کتاب محولہ تمام سابقہ کتب کا نچوڑ اور اس پر مستزاد، نئے موادبالتحقیق سے لیس تھی۔ اس کے بعد بھی بعض کوششیں کی گئیں جیسے محترمہ وحیدہ نسیم کی لغات النساء اور بیگم شائستہ اکرام اللہ کی کتاب’دِلّی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے‘، مگر بہرحال ایک مکمل، مبسوط اور جامع کتاب کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
مولوی سیّداحمد دہلوی کی ’لغات النساء‘ کی اشاعت میں نظام ِ حیدرآباد، دکن میر عثمان علی خان اور فرماں روائے بھوپال نواب سلطان جہاں بیگم کی مالیاتی سرپرستی شامل تھی۔ اس کی تاریخ ِ اشاعت کہنے والے نواب محمد نقی جان قمرؔ گیاوی، رئیس اعظم مخدوم پور،ضلع گیا، بِہار بھی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ قمراللغات اور آفتاب ِ اردو جیسی کتب کے مؤلف و مصنف تھے۔
’لغات النساء‘ از مولوی سیّداحمد دہلوی سے خوشہ چینی کرتا ہوں کہ آپ جیسے قارئین کرام شاید کتاب کے مطالعے سے بہ آسانی مستفیض نہ ہوسکیں۔
’’اب اب کرکے‘‘: تھوڑے دنوں سے، زمانہ حال سے، بالفعل، آج کل، چند روز سے، حال میں، اِن دنوں، فی زمانہ، جیسے
اب اب کرکے اُس کی عادت درست ہوئی۔ اب اب کرکے اناج سستا ہوا۔ (مجھے لگتا ہے کہ یہ ’’اللہ اللہ کرکے ‘‘ ہی کا پُرانا رُوپ ہے: س ا ص)
’’اب تو پتھر تلے ہاتھ دب گیا‘‘ (کہاوت): یعنی اب تو سخت مشکل میں پھنس گئے۔ لاچار اِس مصیبت کو بھگتنا ہی پڑے گا۔ (ناچار صحیح ہے: س اص)
’’اُبس جانا۔ یا۔ بُس جانا‘‘: سڑجانا، کھٹّا ہوجانا، چل جانا، اصل ذائقے میں فرق آجانا، مزہ بگڑجانا، بدمزہ ہوجانا
’’ابلا پری‘‘: ناز ک اندام خوب صورت عورت (طنزاً بولتے ہیں)
’’ابھی پانی کے کچّے گھڑے بھرنے ہیں‘‘: ابھی بہت مصیبت جھیلنی ہے۔
’’آبے لونڈے جابے لونڈے کرنا‘‘: اصل میں اس کے معنیٰ لڑکے کو حیران کرنا، پھِرانا، دوڑانا، ہیراپھیری کروانا، ٹِلّہ نویسی کرانا، ذرا سے کام کے واسطے بار بار بھیجنا، فضول کام لینا، ناحق تھکانا، اصطلاحی معنیٰ وقت گزاری کرنا، ٹالے بالے میں دن گنوانا (یہ اب متروک ہے: س ا ص)، ٹالنا، حیلہ حوالہ کرنا (یہ اب متروک ہے: س ا ص)، بے فائدہ وقت گزارنا، خالی پھِرنا، بیکار پھِرنا، کچھ بھی کام نہ کرنا، فضول پھِرنا، پڑے پھِرنا، جیسے وہ تو آبے لونڈے جابے لونڈے کرتی پھِرتی ہے، خود کچھ بھی کام نہیں کرتی۔ (یہ محاورہ مردانہ بولی میں بھی دیکھا سُنا ہے: س ا ص)
’’آپ آپ کو‘‘: جُدا جُدا، الگ الگ، اپنے اپنے نفس کو، اپنی اپنی ذات سے، ایک ایک، سب آپ آپ کو بھاگ گئیں، آپس میں، ایک دوسرے کے باہم، آپس میں لڑی مرتی ہیں۔
’’آپ خورادی، آپ مُرادی‘‘: تنہا خور (یہ لفظ پہلے نہیں دیکھا: س ا ص)، اِکَل کھُرا (یہ والدہ مرحومہ سے بہت سُنا: س ا ص)، جو اَپنے کُٹَم میں مل بانٹ کے نہ کھائے، خودغرض، خودمطلبیا (اب تو سیدھا سیدھا مطلبی کہتے ہیں: س ا ص)، تن پروَر
’’آپ میاں صوبے دار، گھر میں بیوی جھونکے بھاڑ‘‘ (کہاوت): یعنی میاں کا امیرانہ ٹھاٹ اور بیوی کا غریبانہ حال۔
’’آپ ہی میاں منگتے، باہر کھڑے درویش‘‘ (کہاوت): یعنی مفلس، مفلس کی مدد نہیں کرسکتا، جب ہم ہی مفلس ہیں، تمھیں کیا دیں۔
مندرجہ بالا فہرست میں شامل نام ’لغاتِ نسواں از منیر لکھنوی‘ درحقیقت ’’مُحَاوَراتِ نسواں و بیگمات کی خاص زبان‘‘ ہے جو خاکسار کو اَبھی پرسوں ہی دستیاب ہوئی۔ یہ نادر کتاب مجیدی پریس، کانپور سے جنوری 1930ء میں شایع ہوئی۔ اس کے سروَرق اور اوّلین صفحے پر یہ عبارت رقم کی گئی: ’’مایہ فخرِ ہندوستان، اردوئے مُعَلّیٰ کی جان، مخزنِ اسنادِریختی گویان اعنی‘‘ پھر نیچے لغت کا نام درج کیا گیا۔ یہ لفظ ’اعنی‘ وہی ہے جسے ہم اردو اور فارسی میں ’یعنی‘ بولتے اور لکھتے ہیں۔ {ضمناً عرض کرتا ہوں کہ محترمہ وزیر بیگم ضیاء کی ’محاوراتِ نسواں ‘ کے سرورق اور متصل اوّلین صفحے کی عبارت کچھ یوں تھی: محاوراتِ نسواں یعنی دہلی اور لکھنؤکی بیگمات اور قلعہ مُعلّیٰ کی شہزادیوں کی ٹکسالی بولی اور لوچ دار (یہاں ملا کر لکھا ہوا ہے: س ا ص) نرم بیگماتی زبان کا بے نظیر مجموعہ۔ مشرقی تمدّن، زنانہ جذبات، توہّمات اور رُسوم کا دل آویز (یہاں دلاویز لکھا ہے: س ا ص) مُرَقّع۔ تالیفِ لطیف محترمہ وزیربیگم ضیاءؔ (ادیب فاضل) پنجاب یونیورسٹی، مصنف ِ آرائش ِجمال}۔ اس لغت سے قبل، منیر لکھنوی کی مطبوعہ کتب میں ’’مُلک کی زبان، محاوراتِ ہندوستان‘‘ ،’’بازاری زبان و اِصطلاحات ِ پیشہ وران‘‘ اور ’’منیرالبیان فی تحقیق اللسان‘‘ شامل تھیں اور یہ تمام کتب ایک ہی مطبع و ناشر سے طبع و شایع ہوکر منظرعام پر آئی تھیں۔ دیگر کتب میں ’غلط العام‘، ’متروک کلام‘ ’منیر المحاورات‘اور ’منیر اللغات‘ کے نام ملتے ہیں مگر یہ تحقیق کرنی ہوگی کہ کون کونسی کتاب زیورِ طبع سے آراستہ بھی ہوسکی۔
{آگے بڑھنے سے قبل اپنے قارئین کرام کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ خاکسار نے اسی موضوع پر اَپنے پہلے مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ زبان کو یونہی ماں کے رشتے سے نسبت نہیں، بلکہ درحقیقت ماں ہی زبان کی تشکیل کرتی ہے۔ زنانہ بولی یا نِسائی زبان کے متعلق کئی کتب لکھی جاچکی ہیں اور اس موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھا جاسکتا ہے۔ اثنائے تحقیق انکشاف ہوا کہ یہ کام بھی اب ہوچکا ہے۔ روزنامہ دی انڈیپینڈنٹ (اردو: آنلائن) مؤرخہ 10 نومبر 2024 میں شامل، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کی ایک محقق محترمہ ثانیہ کے انٹرویو سے معلوم ہوا کہ وہ بیگماتی زبان کے موضوع پر پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔ یہ مقالہ بعنوانBegumati Zubaan: Voice of a Subculture ، پروفیسر ڈاکٹر سیمی ملہوترا کی نگرانی میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔ گوگل کے بیان کی رُو سے یہ تحقیق 2025 میں مکمل ہوئی، البتہ مقالہ ابھی تک کتابی شکل میں شایع نہیں ہوا، مگر آنلائن دستیاب ہے۔ اس وقت جب یہ مضمون لکھ رہا ہوںتو اَپنے ذرایع سے اس کے حصول کی کوشش بھی کررہا ہوں}۔
’’مُحَاوَراتِ نسواں و بیگمات کی خاص زبان‘‘ کے پیش لفظ اور مابعد مؤلف موصوف نے لفظ مُنہ کی بجائے مُنھ لکھا ہے جسے کچھ سال قبل، اس خاکسار نے ا پنایا تو بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کسی ماہر کی ایک تحریر بھی اس بابت نظر سے گزری کہ مُونہہ، مُنہ اور مُنھ میں درمیانی املاء ہی صحیح ہے۔ علاوہ اَزیں ایک اور لفظ کے املاء نے مجھے چونکا دیا ۔ (امالہ کے اصول کے تحت ، املے بھی بولاجاتا ہے)۔ منیر ؔ نے لکھا ہے ،’طوطیٰ‘ یعنی توتا نہ طُوطی، بلکہ طوطیٰ اور اِسے مذکر باندھا ہے گویا لکھنوی اہل زبان، اُن دنوں اسی طرح لکھتے ہوں گے۔
’’مُحَاوَراتِ نسواں و بیگمات کی خاص زبان‘‘ میں اُس زمانے کے بعض مؤلفین کی اتباع میں پہلے الف ممدودہ اور پھر الف مقصورہ سے شروع ہونے والے الفاظ و محاورات و فقرہ جات درج کیے گئے ہیں۔ میری دانست میں یہ اصلاً (اصولی طور پر) غلط ہے ،کیونکہ الف مقصورہ ہی اصل ہے اور اُس پر مَدّ لگانے کے بعد کوئی نئی صورت بنتی ہے۔ میں الف مقصورہ ہی کے مندرجات سے ابتداء کرتا ہوں۔
پہلا ہے : ’’اب سے (یہاں ملا کر لکھا ہے: س اص) دُور یعنی وہم سے جب کوئی مرجاتا ہے ۔ یا۔ کسی بیماری اور مصیبت کا ذکر کرتی ہیں تو کہتی ہیں ، اب سے دُور، یہ بات یوں (املا: یون) ہوئی تھی‘‘۔ آگے بڑھتے ہیں۔
’’اب سے ہوں میں اونی اونی، جب ہوں گی سب سے دونی‘‘۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ ’’ ابھی کیا، آئندہ دیکھنا کیسے جوہر کھُلتے ہیں‘‘۔
’’اپنا بالا، اَور کا ڈھٹنگرا‘‘: اپنے لڑکے (بیٹے : س ا ص) کو بھولا بھالا، اَور دوسرے کے لڑکے کو شوخ و شریر سمجھنا۔ (لغات النساء از سید احمد دہلوی میں یوں ہے: اپنا پوت، پرایا ڈھٹینگڑا۔ س ا ص)
’’اپنا پیٹ تو کُتّا بھی پال لیتا ہے‘‘ یعنی وہ انسان کیا جو دوسروں کو کھِلاپِلا نہ سکے، اپنی تن پروَری تو کُتّا بھی کرلیتا ہے۔
’’اپنا رَکھ ، پرایا چکھ‘‘: مثل ہے یعنی اپنے مال کو تو احتیاط سے رکھنا اور دوسرے کے مال کو تباہ وبرباد کرنا۔
’’اپنا گھر ہَگ بھر، پرایا گھر تھوک کا ڈر‘‘: مثل ہے، بازاری عوام، عورتوں کی زبان پر، یعنی اپنی چیز خوب ہوتی ہے، دوسروں کی چیز تو کیا چیز؟ اپنے گھر جو چاہے کرے، دوسرے کے گھر تھوک .....(یہاں ایک لفظ پڑھنے میں نہیں آرہا: س ا ص)
’’اپنا مُنھ بنواؤ‘‘: تم بھی اس قابل ہو، ذرا اپنی شکل تو درست کرو۔ نواب ؔمرزا:
جاؤ بس جاؤ ، اپنا مُنھ بنواؤ
کہے چونی بھی مجھ کو گھی سے کھاؤ
’’اپنا مُنھ تو دیکھو‘‘: یعنی تم اس چیز کی قابلیت نہیں رکھتے (تم اس چیز کے لائق نہیں: س ا ص)، ذرا آئینے میں اپنی شکل تو دیکھو۔
’’اپنی ایڑی دیکھو‘‘: چشم بددور کی جگہ پر بولتی ہیں تاکہ نظر نہ لگے۔
’’اپنے بچّے کے گُن، اپنے ہی کو خوب معلوم ہوتے ہیں‘‘: اپنے کا حال خوب معلوم ہوتا ہے۔ اپنے کا عیب وہنر خوب روشن ہوتا ہے۔
’’اپنے بچّے کو ایسا ماروں کہ پڑوسن کی چھاتی پھَٹے‘‘: اپنا نقصان آپ ہی کرنا۔
قارئین کرام! یہ موضوع اور زباں فہمی کے مختلف موضوعات کا سلسلہ یقیناً لامتناہی ہے ۔ خاکسار نے 2015ء میں ’زباں فہمی‘ کا آغازکیا تو اُس وقت روزنامہ ایکسپریس کے ادبی صفحے ’ادب نگری‘ میں اس عنوان کے تحت مختصر کالم شایع ہواکرتا تھا جو 2017ء تک جاری رہا، پھر ادبی صفحے کی بندش کے بعد، عزیز دوست محمد عثمان جامعی صاحب کی فرمائش اور قارئین کے اصرار پر، اسی سال، اخبار کے سنڈے میگزین میں ’سخن شناسی‘ کے عنوان سے پچیس مفصل مضامین تحریر کیے۔ 2020ء میں دونوں محرّکوں کے شدید اصرار پر سلسلہ زباں فہمی مفصل مضامین کی شکل میں بحال ہوا اور ایکسپریس سنڈے میگزین کی زینت بنا۔ راقم نے اس کے لیے اپنی نجی مصروفیات اور مسائل کو پس پشت ڈال کر، عرق ریزی سے کام کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ دیگر معاملات بھی دیکھے جائیں ، سو فی الحال سلسلہ موقوف کرتا ہوں۔ بہی خواہوں سے گزارش ہے کہ میرے حق میں دعائے خیر فرمائیں۔ ع پھر ملیں گے اگر خُدا لایا