ایلون مسک کا اعتراف، یوکرین میں اسٹارلنک سروس محدود کرنے کا فیصلہ کس کا تھا
ایلون مسک نے ٹرمپ پر طنز کے وار کردیئے
ایلون مسک نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس نے یوکرین میں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایلون مسک نے یوکرینی فوج پر الزام عائد کیا کہ اس نے تجارتی اسٹارلنک سروس کو جارحانہ ڈرون حملوں کے لیے استعمال کرکے کمپنی کی شرائط کی خلاف ورزی کی تھی۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ اسٹارلنک ایک تجارتی اور شہری انٹرنیٹ سروس ہے جسے لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے جارحانہ ڈرون حملوں میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق یوکرینی فوج نے سروس کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسے جارحانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جس کے بعد گزشتہ ہفتے اس استعمال کی اجازت دینے والی خامی کو بند کردیا گیا۔
ایلون مسک نے یہ بھی کہا کہ اسپیس ایکس نے یوکرین کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پابندیوں کا فیصلہ کن حالات میں اور کس طریقہ کار کے تحت کیا گیا تھا۔
یوکرین کا ردِعمل، دعوے پر سوالات
یوکرینی صدر کے مشیر سریہی بیسکریستنوف نے مسک کے بیان کو عجیب قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں کام کرنے والے تجارتی اسٹارلنک نظام پر رفتار کی حدود لاگو ہیں اور یہ روسی سرزمین پر کام نہیں کرتا۔
ان کے بقول اس صورتِ حال میں تجارتی اسٹارلنک کو طویل فاصلے اور درمیانے فاصلے کے جارحانہ حملوں کے لیے استعمال کرنا ممکن نہیں تھا۔
اسٹارلنک سروس بحال، ڈرونز کی رفتار میں اضافہ
یوکرین کے وزیرِ دفاع یووینی کھمارا نے بتایا کہ فوج کو اب اسٹارلنک پر مستحکم رابطہ حاصل ہورہا ہے اور ڈرونز 400 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر بھی کام کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی سوشل میڈیا پر کہا کہ اسٹارلنک اور اس کے فوجی نوعیت کے متبادل اسٹارشیلڈ کی کارکردگی دوبارہ مطلوبہ سطح پر آگئی ہے۔
اس سے قبل یوکرین نے شکایت کی تھی کہ تقریباً 161 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار پر ڈرونز کا رابطہ منقطع ہوجاتا تھا، جس سے فوجی کارروائیوں اور دفاعی نظام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسٹارلنک اور اسٹارشیلڈ میں کیا فرق ہے؟
اسٹارلنک اسپیس ایکس کی تجارتی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس ہے، جسے یوکرینی فوج میدانِ جنگ میں رابطوں، رسد کی نگرانی اور بعض ڈرون آپریشنز کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔
اس کے برعکس، اسٹارشیلڈ ایک زیادہ محفوظ، فوجی نوعیت کا نظام ہے جو امریکی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ مسک نے واضح کیا کہ اسٹارشیلڈ کے استعمال سے متعلق فیصلے امریکی حکومت کرتی ہے اور اس نظام پر پابندیوں کی ذمہ داری کو اسٹارلنک کے فیصلوں سے الگ سمجھا جانا چاہیے۔
امریکا اور یوکرین کے تعلقات پر بھی اثرات
اسٹارلنک کے رابطوں میں خرابی ایسے وقت سامنے آئی تھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان روسی تیل کی تنصیبات پر یوکرینی حملوں کے معاملے پر اختلافات بڑھ رہے تھے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ انہوں نے مسک سے سروس بحال کرنے کو کہا تھا تاہم وہ پابندیاں عائد کرنے میں اپنے کردار کی تردید بھی کرتے رہے ہیں۔