بُک شیلف

ادبی کتابوں کا دلچسپ مجموعہ

انسائیکلو پیڈیا سیرت صحابہ کرام

اسلامی تاریخ اور دعوت و عزیمت کے باب میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذواتِ مقدسہ انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے افضل اور معتبر ترین ہستیاں ہیں۔ انہی نفوسِ قدسیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دینِ اسلام کی اشاعت اور آبیاری کے لیے ناقابلِ فراموش قربانیاں دی ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب "انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام" (جلد اول) جو معروف عالمی اشاعتی ادارے دارالسلام کے تحت منصہ شہود پر آئی ہے۔ یہ کتاب صحابہ کرام کی حیاتِ طیبہ ان کے فضائل، دفاع اور تاریخی خدمات کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔ دارالسلام نے اس پروجیکٹ کو انتہائی علمی احتیاط اور اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا ہے۔

اس دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کی تیاری میں سالہا سال کی محنت، نامور علمائے کرام اور ماہرینِ تحقیق کی جدوجہد شامل رہی ہے۔ کتاب کے علمی منہج میں سب سے نمایاں خصوصیت محدثانہ طرزِ تحقیق ہے۔ واقعات اور روایات کی چھان بین کے لیے مستند ترین مراجع و مصادر کی طرف رجوع کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی ضعیف یا موضوع روایت اس دائرۃ المعارف کا حصہ نہ بن سکے۔ دارالسلام انٹرنیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں جب ہم سیرت انسائیکلوپیڈیا کا شاہکار پراجیکٹ مکمل کرلیا تو میرے سامنے اگلا منصوبہ انسائیکلوپیڈیا سیرت صحابہ کرام کام تھا۔

اس لیے کہ انبیائے کرام کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہی افضل ترین ہیں ۔ کتاب کے ابتدائی ابواب میں صحابی کی تعریف، عدالت صحابہ پر قرآن وحدیث سے دلائل ، کتبِ سابقہ میں صحابہ کا تذکرہ اور عدالتِ صحابہ قرآن و حدیث کی روشنی میںجیسے بنیادی علمی اور عقائدی مفاہیم کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معترضین کے اعتراضات کے مسکت جوابات اور صحابہ کرام کے بارے میں سبّ و شتم یا لب کشائی کی ممانعت پر مدلل بحث کی گئی ہے۔

جلد اول کا بڑا حصہ خلیفہ اول، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حیاتِ مبارکہ، دورِ جاہلیت کے کردار، قبولِ اسلام، رفاقتِ نبوی، غزوات میں شرکت اور دورِ خلافت کے جلیل القدر کارناموں پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ فتنہ ارتداد، مانعینِ زکوۃ، مدعیانِ نبوت کی سرکوبی اور فتوحاتِ شام و عراق کی تفصیلی تاریخ کو نقشوں اور جداول کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ اسی جلد میں خلیفہ ثانی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام ونسب، قبولِ اسلام، ان کی ہیبت و بصیرت، موافقاتِ عمر اور دورِ فاروقی کی عظیم الشان فتوحات یرموک، قادسیہ، بیت المقدس، مصر وغیرہ کے ساتھ ساتھ ان کے بہترین عدالتی و انتظامی نظام کا احاطہ کیا گیا ہے۔

سیدنا عثمان بن عفان ، سیدنا علی بن طالب ، سیدنا طلحہ بن عبید اللہ، سیدنا زبیر بن عوام ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ، سیدنا سعد بن ابی وقاص ، سیدنا سعید بن زید ، امین الامت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح ، سیدنا عبداللہ بن عباس ، سیدنا عبداللہ بن عمر ، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص، سیدنا عبداللہ بن مسعود جیسے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا ذکر خیر شامل کیا گیا ہے ۔ تاریخی واقعات، جنگوں اور فتوحات کے جغرافیائی حالات کو سمجھانے کے لیے نقشہ جات کا شامل کرنا قاری کو تاریخی سیاق و سباق سے گہرا ربط فراہم کرتا ہے۔ کتاب کی زبان اور اسلوبِ نگارش نہایت واضح، دلنشین اور آسان ہے، جس سے عام قاری سے لے کر محققین تک سبھی یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔

واقعات کی سن وار اور موضوعاتی ترتیب قاری کو الجھن سے بچاتی ہے اور مطلوبہ مواد تک رسائی کو آسان بناتی ہے۔یہ عظیم علمی تصنیف انسائیکلو پیڈیا سیرت صحابہ کرام کے لیے محدث دوراں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کا 66 صفحات پر مشتمل مقدمہ ،ان کے علمی تبحر ،تحقیقی بصیرت اور سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے گہری وابستگی کا آئینہ دار ہے ۔ اتنا وقیع مقدمہ اس کتاب کی علمی قدر و قیمت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

بلاشبہ یہ مقدمہ محض چند ابتدائی صفحات نہیں ، بلکہ مطالعہ سیرت صحابہ کرام کے ذوق کو جلا بخشنے ، علمی نکات کواجاگر کرنے اور قارئین کواس عظیم علمی ذخیرے سے بھر پور استفادے کی طرف راغب کرنے کی ایک قابل قدر کاوش ہے ۔ محدث دوراں جیسی علمی شخصیت کے اس مقدمہ نے کتاب کی علمی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔ 760صفحات مشتمل ضخیم اور عظیم کتاب کی قیمت 3500روپے ہے ۔ یہ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے یا کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

سعادتوں کا سفر

خطبا ء اساتذہ ، طلبہ اور باذوق عوام کے لیے انمول تحفہ

اسلامی تعلیمات کا اصل محور اور بنیاد "عقیدہ توحید" ہے ۔ توحید محض ایک نظریاتی بحث نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام اعمال، عبادات، اور رویوں کی روح ہے۔دارالسلام انٹرنیشنل کی شائع کردہ زیرِ تبصرہ کتاب "سعادتوں کا سفر" (عربی نام: بلوغ السعاد ۃ من ادلۃ توحید العبادۃ عقیدہ توحید اور ایمانیات کے انتہائی اہم و حساس موضوع پر لکھی گئی ایک معرکہ الآرا، جامع اور مستند ترین علمی تصنیف ہے۔ یہ کتاب خطبا، اساتذہ، طلبہ، اور عام فہم علمی ذوق رکھنے والے ہر مسلمان کے لیے ایک انمول علمی تحفہ ہے۔

اس کتاب کے مولف فضیلۃ الشیخ صلاح بن محمد البدیر ہیں جو کہ مسجدِ نبوی الشریف کے ممتاز امام و خطیب ہیں۔ الشیخ صلاح البدیر کی علمی جلالت، کتاب و سنت پر گہری نظر اور اصلاحِ امت کے لیے ان کا ولولہ عالمِ اسلام میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔وہ سعودی عرب کے معروف قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے مصلے پر کھڑے ہوکر جب وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں تو سننے والوں پر وجد طاری ہوجاتا ہے ۔ آپ کی علمی باریک بینی اور آسان اسلوبِ تحریر نے اس کتاب کو خاص و عام دونوں کے لیے یکساں مفید بنا دیا ہے۔

کتاب کی تالیف میں انھوں نے کڑی محنت کی ہے ۔ وہ فجر کی نماز کے بعد بیٹھتے تو کئی کئی گھنٹے مسلسل کام کرتے پھر رات گئے تک کام کرتے ۔ تحقیق ومحنت کا یہ سلسلہ کئی سال پر محیط ہے ۔ فضیلۃ الشیخ صلاح البدیر نے احادیث کا انتخاب انتہائی عرق ریزی اور جانفشانی سے کیا ہے ۔ انھوں نے ان احادیث کو جمع کرنے کے لیے لگ بھگ پورے ذخیرہ احادیث کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیا ۔ ایک ماہر جوہری کی طرح امام صاحب نے کسی عنوان کی وضاحت کے لیے صرف اس حدیث کا انتخاب کیا جس کی تعبیر سب سے اعلیٰ درجے کی تھی ۔ کتاب کو عالمی شہرت یافتہ معروف اشاعتی ادارے "دارالسلام" نے نہایت عمدہ اور معیاری انداز میں شائع کیا ہے۔

دارالسلام نے ہمیشہ کی طرح اعلی درجے کی طباعت، خوبصورت ٹائٹل اور واضح و جلی حرف کاری کے ساتھ اس کتاب کو شائقینِ علم تک پہنچانے کا حق ادا کیا ہے۔ کتاب کی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ 1200 صحیح احادیث پر مشتمل ہے۔ فاضل مولف نے عقیدہ و ایمانیات کے باب میں محض دلائلِ عقلی کے بجائے، قرآنی آیات اور صحیح احادیثِ نبویہ کو بنیادی مشعلِ راہ بنایا ہے۔ 753صفحات پر مشتمل کتاب میں عقیدہ اور توحید کے تمام بنیادی و فرعی پہلوؤ ں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔

توحید کا عینِ فطرت ہونا، بعثتِ رسل کا مقصد اور تمام عبادات کا صرف اللہ تعالی کے لیے خاص ہونا۔ یہ بات واضح کی گئی ہے کہ آخرت میں کامیابی اور اعمال کی قبولیت کے لیے توحید بنیادی شرط ہے اور اسی کی بنیاد پر شفاعت اور جنت کا حصول ممکن ہے۔ کتاب میں شرک اکبر و اصغر، تعویذ گنڈے، جادو و کہانت، غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز، قبر پرستی، ریا کاری ، علم نجوم ، بدشگونی ، جیسی مہلک بیماریوں سے بچنے کے راستے بیان کیے گئے ہیں۔کتاب میں بتایا گیا ہے کہ توحید کی دعوت کا آغاز کیسے کیا جائے، نرمی اور حکمت کے اصول اور اہل کتاب و مشرکین کے ساتھ شرعی رویے اور حدود و قیود۔ اللہ تعالی کے اسما و صفات کے احکام، غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہونا اور بدعات و خرافات سے بچ کر صرف کتاب و سنت کی اتباع کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

’’ سعادتوں کا سفر" محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایمانی بیداری کا ایک مکمل نصاب ہے۔ یہ قاری کو شرک و بدعت کی تاریکیوں سے نکال کر توحید کی روشن شاہراہ پر گامزن کرتی ہے۔ ہر باب میں پیش کردہ احادیث انسان کے دل میں خوفِ الہی، اخلاص، توکل اور محبتِ رسول ﷺ کا جذبہ پیدا کرتی ہیں۔ مجموعی طور پر "سعادتوں کا سفر" عقیدہ توحید کے موضوع پر دورِ حاضر کی بہترین اور جامع ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔

امام مسجدِ نبوی الشریف الشیخ صلاح البدیر کی یہ کاوش اور دارالسلام کی یہ پیشکش ہر مسلمان کے گھر کے لائبریری اور ڈیسک پر موجود ہونی چاہیے تاکہ ایمانی بنیادیں مضبوط ہوں اور واقعی دنیا و آخرت میں "سعادتوں کا سفر" میسر آ سکے۔ 759صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 2700روپے ۔ یہ کتاب دارالسلام انٹرنیشنل کے مرکزی شوروم نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور پر دستیاب ہے ۔ یہ کتاب براہ راست حاصل کرنے کے لیے درج ذیل نمبر 042-37324034پر رابطہ کریں ۔ 

۔۔۔

 خواب گزیدہ

مصنف: عامر رفیق۔ ناشر: لٹ لیب، بحریہ آرچرڈ، ایسٹرن ونگ، لاہور

واٹس ایپ نمبر: 03117857328۔قیمت: ایک ہزار روپے

فرانسیسی افسانہ نگار، موپساں کو افسانے کا موجد سمجھا جاتا ہے۔ اْس کا قول ہے:’’ افسانہ نگار کا مقصد کوئی قطعی اور معروضی حقیقت ریکارڈ کرنا نہیں بلکہ اْس شاعرانہ یا داخلی خیال کو وفاداری کے ساتھ پیش کرنا ہے جو ہر انسانی ذہن اپنے منفرد حواس اور خیالات کے ذریعے پیدا کرتا ہے۔‘‘جبکہ روسی ادیب، پُشکن کہتا ہے ’’جب آپ کوئی مختصر کہانی پڑھیں، تو اردگرد کی دنیا سے تھوڑا مزید باخبر اور اُس سے تھوڑی اور زیادہ محبت محسوس کرتے باہر نکلتے ہیں۔‘‘

اِس تعریف پر عامر رفیق کے افسانے ٹھوک بجا کر پورا اترتے ہیں۔زندہ دلوں اور بہترین میزبانوں کے شہر، گوجرانوالہ سے عامر صاحب کا تعلق ہے۔ بحیثیتِ پیشہ انکم ٹیکس وکیل ہیں۔ اور مقصدِ زیست یہ کہ اپنے افسانوں کی وساطت سے انسان و معاشرے کی اچھائی و برائی بیان کر دی جائے۔ ارشد میر معروف مزاح نگار گزرے ہیں۔ گوجرانوالہ کے ہی تھے اور میرے والد کے گہرے دوست۔ میں نے بھی 1990 ء میں تین دن اْن کی زندہ دلی، ذہنی کشادگی ، کْھلی ڈْلی محبت اور بلند آہنگ قہقہوں کا جو لطف اٹھایا، اْس کی مہک آج بھی تر و تازہ ہے۔ ارشد صاحب معیاری مزاحیہ مضامین لکھتے جن میں حکومتِ وقت سے لے کر عام انسان تک، ہر کسی پر طنز و مزاح کے تیر چلاتے اور اُس کی خرابیاں اجاگر کر اُسے اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کر دیتے۔

نوجوان عامر رفیق نے اپنے افسانوں میں یہی رویّہ اپنایا ہے۔ وہ الفاظ کی جادوگری سے قاری کے سامنے زندگی کے تلخ حقائق سامنے لا کر اُسے گویا بجلی کے جھٹکے دیتے ہیں۔ عام قاری جانے انجانے میں روزمرہ زندگی میں جو تلخ یا شیریںسچائیاں سن یا دیکھ نہیں پاتا، وہ ہمیں اِن کے افسانوں میں جا بجا دکھائی دیتی ہیں۔

دورِ حاضر میں دنیا بھر کی حکومتیں راہِ آمریت اپنا کر تنقید کے دروازے بند کر رہی ہیں۔ وہ صرف تعریف و خوشامد سننا چاہتی ہیں، تنقید بقول اُن کے جوش و ولولہ ماند کر دیتی ہے۔ حالانکہ مثبت تنقید ہی حکومت پر ہو یا کسی انسان پہ ، سبھی کو درست راستہ اختیار کرنے میں مدد دیتی اور اُسے عقل ِ کْل و مغرور بننے سے روکتی ہے جو آخرکار تباہی کا راستہ ہے۔ شاعری اور مزاح کی طرح افسانہ یا کہانی بھی انسان پر مثبت تنقید کرنے کا موثر و نادر طریقہ ہے اور عامر رفیق نے اِس وصف کو اپنے افسانوں میں بخوبی برتا ہے۔ انسان یا معاشرے کا نیک و بد بتاتے وہ اکثر جگہ تلخ ہو جاتے ہیں۔ شاید اِس تلخی کا سبب یہ کہ وہ ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جس میں پہلے ادوار کی نسبت روحانی و اخلاقی اقدار کمزور ہوئی ہیں اور مادی زندگی انسان کا مرکز ومحور بن چکی ۔ عامر بڑی بے رحمی سے اسی مادیت پسندی کی پرتیں اتارتے اور انسانی ضمیر پر کچوکے لگا لگا کر اُسے بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’خواب گزیدہ‘‘ ہمارے ممدوح کا دوسرا باقاعدہ افسانوی مجموعہ ہے۔ اس سے قبل پہلا مجموعہ ’ دوسرے رخ کی تصویر‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ زیر نظر کتاب میں دو طویل اور تیرہ مختصر افسانے شامل ہیں۔ طویل افسانے’’تذبذب‘‘کی بْنت انہوں نے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی مدد سے کی، گویا افسانوی روایت میں ایک نیا تجربہ کیا۔ ہر ننھی کہانی منفرد ہے، مگر اپنے موضوع سے جڑی ہوئی اور جو زندگی کا کوئی نہ کوئی اچھا یا بُرا پہلو سامنے لاتی ہے۔ ’’تذبذب‘‘ گویا انسانی حیات کا ایک وسیع کینوس ہے جس میں چھوٹے چھوٹے واقعات کردار کی پوری تصویر بنا ڈالتے ہیں۔

’’واپسی‘‘ کا ہیرو ایک نوجوان محبِ ِوطن ہے جو اپنے دیس میں رہ کر زندگی بیتانا چاہتا ہے۔ مگر حکومتوں کی بدانتظامی، کرپشن اور نا موافقت اُسے دیارِ غیر جانے پر مجبور کر دیتی ہے۔ بالکل سچ کہ اللہ تعالیٰ نے ارضِ پاک کو ان گنت نعمتوں سے نوازا ہے مگر افسوس کہ اُسے اہل، قابل اور ایمان دار حکمران نہ مل سکے۔ عامر رفیق کی بیشتر تخلیقات اردو افسانے کی دو روؤں، حقیقت نگاری اور تجریدیت سے عبارت ہیں۔ کبھی وہ تجریدی اسلوب میں اپنے جذبات و احساسات بیان کرتے ہیں اور کبھی ایسے جارحانہ حقیقت نگار لگتے ہیں جس کے جملے قاری کو چونکا دیتے ہیں۔ اسی باعث عامر کے افسانے منفرد اور نئے زمانے کی نئی آواز ہیں۔

پاکستانی افسانہ نگاروں نے مارشل لا کی خامیاں اجاگر کرنے کی خاطر بھی تجریدی اسلوب اپنایا۔ مثلاً زاہدہ حنا، رشید امجد، احمد داؤد، اعجاز راہی وغیرہ نے 1977ء کا مارشل لا لگنے کے بعد تجریدی افسانے لکھے اور الفاظ کے پردے کے پیچھے رہتے مگر دلیری سے آمرانہ نظریات کی دھجیاں بکھیر دیں۔ عامر انسانی زندگی کے پیچ و خم واضح کرتے ہوئے اُس کے سیاہ و سفید رخ تجریدی انداز میں بھی بیان کرتے ہیں۔ معاشی، معاشرتی اور نفسیاتی بحران افسانوں کا موضوع ہیں۔انھوں نے دکھایا ہے، گھٹن کس طرح انسان کی انفرادی آزادی، سماجی اقدار اور انسانی رشتے روند دیتی ہے۔

عامر رفیق کے فن کی سبق آموز اور روح پرور جھلکیاں افسانوں کے درج ذیل جملوں میں بخوبی نظر آتی ہیں:

وہ عورت جو ایک ماں تھی، ایک بے بس غریب ماں جب چیخنے کے بعد چنگھاڑتی ہوئی دھاڑنے لگی کہ یہ انسان نے کیسی ترقی کی ہے جس میں محروم پہلے سے بھی زیادہ محروم ہو چکا ؟ اور یہ نظام بھی کیسا ہے جس میں ایک جج کا بچہ جج، ڈاکٹر کا بچہ ڈاکٹر، کاروباری کا بچہ کاروباری، جرنیل کا بچہ تو جرنیل بن جائے لیکن مزدور کا بچہ بس مزدور ہی بنے؟ یہاں آکر اس کی آواز رندھ گئی تھی جس پر ہال میں موجود ہر آواز یکجا ہو کر نعروں کی گونج میں بدل گئی۔(سرخ)

کہا جاتا ہے اس شہر پر ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب لوگوں کے گھر سونے سے بھرے تھے لیکن چراغوں میں تیل نہ تھا۔ بازاروں میں چمک بہت تھی لیکن روشنی کسی کے چہرے پر نہ تھی۔ ہر شخص کہتا تھا کہ اس کا کاروبار خسارے میں ہے، مگر گلیوں میں نئی عمارتیں آسمان کی روشنی روک رہی تھیں۔ کہانی میں ایک شخص بھی تھا جو حساب کتاب رکھتا تھا۔ اعداد کا، لوگوں کے وعدوں اور اپنے ضمیر کی خاموشی کا۔ وہ دن بھر سنتا رہتا کہ سب کے دن بُرے ہیں، مگر ہر رات شہر کے کنارے نئے شہر آباد ہو جاتے جو پہلے سے آباد ہوئے شہروں سے بھی زیادہ روشن اور چکا چوند سے بھرپور ہوتے۔ لیکن ان شہروں کی پشت میں اندھیرے کی بستیاں بھی چار گنا پھیل چکی تھیں۔ اس شہر کی ایک دن کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے۔(روشنی کے اندھیرے)

میں ہجوم میں سے بچتا بچاتا نکلنے کے لیے بڑھتا ہوں تو دیکھتا ہوں لوگوں نے بجلی اور گیس کے بل پکڑے ہوئے ہیں اور انہیں نذرِ آتش کر رہے ہیں۔ تھوڑا اور بڑھتا ہوں تو حکمرانوں کے پتلوں کو جلتے دیکھتا ہوں ۔ مجھے جیسے چکر سا آجاتا ہے، میرے کانوں میں کچھ ایسی آوازیں پڑتی ہیں:’’بجلی و گیس کی چوری اور ملی بھگت سے خسارے کا بوجھ ہم سب پر، جو اکثریت میں ہیں، ڈال دیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے حرام خور ہیں جو ہمارے ٹکڑوں پر پلتے ہیں، پل پل کر اتنے بڑے اور ہیبت ناک ہو چکے کہ الٹا ہمیں ہی ان کے سامنے ہاتھ باندھے، جھک کر اور دم دبا کر بیٹھنا پڑتا ہے۔‘‘میں کچھ سنبھلتااور پھر چکرا جاتا ہوں اور اب کے سنتا ہوں:’’مظلوموں کے لیے کہیں انصاف نہیں، محض خود ساختہ باریکیاں اور الجھاؤہیں۔ کوئی بھی ترازو ہمارے لیے ناپ تول کرنے کا اہل ہے نہ ہی خواہاں…‘‘

اب منظر اوجھل ہو جاتا ہے اور میں خود کو دوستوں کے پاس ٹھنڈی، خوشبو میں رچی فضا اور لذیذ کھانوں کی ڈشوں کے پاس پاتا اور انہیں ہجوم پر دھتکارتے سنتا ہوں:’’کیا تماشا لگا رکھا ہے ان لوگوں نے؟ کام کاج کریں جا کر۔ سڑکیں اور پل بننے لگے ہیں، سٹاک ایکسچینج اپنی ریکارڈ سطح عبور کرنے لگی ہے، جی ڈی پی بہتر ہوا ہے، غیر ملکی امداد ملنی شروع ہو گئی ہے۔ سب کچھ ایک ہی رات میں تو ٹھیک نہیں ہو سکتا، حکومتیں مسائل میں گھری ہوتی ہیں، انہیں اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے۔ پر ان باریکیوں کو یہ ان پڑھ اور جاہل طبقہ کیسے سمجھ سکتا ہے بھلا؟‘‘(خواب گزیدہ)

یہ اقتباسات عیاں کرتے ہیں، عامر رفیق کے افسانے گزرتے زمانے کا آئینہ ہیں۔ مگر وہ زمانے کو بُرا نہیں کہتے بلکہ اِس دور میں رہتے بستے طاقتور اور کمزورانسان اپنی تمام تر اچھائیوں اور برائیوں کے ساتھ افسانوں میں زندگی گزارتے دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کبھی معاشرے میں موجود ناانصافی، مادہ پرستی اور منافقت انھیں تلخ بلکہ منفی بنا دیتی ہے، لیکن آخرکار وہ اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ انسان کا ظاہر و باطن سامنے لا کر اُسے راہِ حق پر چلنے کی راہ دکھلاتے ہیں۔

ادب کی تمام اصناف کے ساتھ ساتھ اردو افسانے نے بھی معاشرے کو بدلنے کی خاطر اہم کردار ادا کیا ہے۔ جو معاشرہ سدھار قلمی سفر پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم سے شروع ہوا تھا، وہ آج بھی آب وتاب سے جاری و ساری ہے۔ اِس سفر میں عامر رفیق کی صورت اردو افسانے کو ایک توانا و جاندار ہمراہی مل گیا ہے۔ یقین ہے، جیسے جیسے انہیں ارتقا پاتے شعور اور حاصل ہوتے تجربے و مشاہدے کی دولت ملے گی، عامر کے افسانوں میں مزید نکھار آئے گا اور ان کی معنویت میں زیادہ جان پڑے گی۔

ناشر نے کتاب بڑے خوبصورت انداز میں شائع کی ہے۔ عمدہ کاغذ اور بہترین چھپائی۔ ظاہری لحاظ سے بھی یہ افسانوی مجموعہ من کو بھاتا اور دل شادکام کرتا ہے۔ اِس شاندار کتاب کو اپنی لائبریری کی زینت نہ بنانے پر بس یہ سمجھیے کہ اپنے زمانے کے اْس سچ وجھوٹ سے ناآشنا رہ جائیں گے جو شاید تصّورات میں دھند بن کر تو آتا ہو مگر کبھی ٹھوس و عملی شکل نہیں اختیار کر پاتا اور جس کا جاننا گویا اپنے آپ سے آشنا ہونا ہے۔

Load Next Story