کوچۂ سخن
فوٹو: فائل
غزل
میلہ لگا تھا مصر کے بازار کی طرح
میں بک رہا تھا یوسفِ لا چار کی طرح
گرچہ دیارِ غیر میں ہوں ابتلا میں ہوں
پھر بھی لگا ہے اپنے ہی گھر بار کی طرح
گردش میں ہیں مسرتیں اِک فاصلے کے ساتھ
میں بِیچ میں ہوں نقطۂ پرکار کی طرح
اس دورِ بد حواس میں تیرا حسین خیال
آتا ہے روز صبح کے اخبار کی طرح
یادیں اترتی جاتی ہیں دل کی زمین پر
ہلکی، مدھر سی، ریشمی جھنکار کی طرح
اِک عمر کا تو ساتھ ہے پر آج کیوں مجھے
لگتا ہے ایک خواہشِ بے کار کی طرح
یہ عشق ان کو باعثِ تسکین و صد خروش
یہ عشق مجھ کو جان کے آزار کی طرح
اُس کی طلب ہے اُس کی شرائط پہ امن ہو
ہے تصفیے کی بات بھی پیکار کی طرح
جس کے لئے میں جان بھی قربان کرتا تھا
ساجدؔملا ہے آج وہ اغیار کی طرح
(شیخ محمد ساجد۔ لاہور)
غزل
آپ کے بن مرے حضور نہیں
زندگی میں کوئی سرور نہیں
بخت کی بات ہے فقط، لوگو!
رائگانی مرا قصور نہیں
دوست جس کو پری سمجھتے ہیں
ایک انساں ہے، کوئی حور نہیں
ظاہری بات اور ہے پیارے
کون زخموں سے چور چور نہیں
ساری دنیا کو میں کھٹکتا ہوں
’’تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں‘‘
میری نس نس میں کوئی بستا ہے
ایک پل کے لیے جو دور نہیں
جو ہوں، جیسا ہوں، اپنے بل پر ہوں
مجھ کو شوبیؔ کوئی غرور نہیں
(ابراہیم شوبی۔ کراچی)
غزل
جنوں کی آگ میں جل کر بلند نام ہوئے
اسی سفر میں کئی راستے تمام ہوئے
ستم اٹھائے مگر لب پہ حرفِ شکوہ نہ تھا
ہم اپنے عہدِ محبت میں خوش خرام ہوئے
جو حق کی راہ میں نکلے تو پھر نہیں پلٹے
وہی زمانے میں تاریخ کے امام ہوئے
چراغِ عشق جلایا تھا جس کی خاطر پھر
اسی کی بزم میں آخر کو ہم غلام ہوئے
زمانہ لاکھ ہماری وفا کو رد کر دے
ہم اپنے عہد پہ قائم رہے، تمام ہوئے
سہیل ؔمیں نے محبت کا حق ادا تو کیا
مگر نصیب میں الزام میرے نام ہوئے
(سہیل احمد سہیل۔ راولپنڈی )
غزل
رات اوڑھے ہوئے ہے زمیں دوستا
چاند کھویا ہوا ہے کہیں دوستا
ایک تنہائی دل میں اترتی رہی
ایک موسم رہا دل نشیں دوستا
تیری باتوں میں پہلے سا جادو نہیں
کون رہتا ہے تیرے قریں دوستا
ایک مدت سے روشن دریچہ مرا
تو جو ٹھہرا ہوا ہے یہیں دوستا
جس جگہ چھوڑ کر تو جدا ہو گیا
تجھ کو طارقؔ ملے گا وہیں دوستا
(طارق جاوید۔کبیرولا)
غزل
گھر میں رحمت ہیں مری بیٹیاں، راحت بیٹا
میں نے مالک سے یہ ہی مانگی تھی دولت بیٹا
اپنے کردار کی چادر کو بچا کر رکھنا
تُو نے رکھنی ہے مرے پُرکھوں کی عظمت بیٹا
میں نے اس واسطے روکا نہ سفر سے تجھ کو
میرے اپنوں کی روایت ہے یہ ہجرت بیٹا
جب مقدر کے تھپیڑوں سے ہے پالا پڑتا
کام آتی نہیں کوئی بھی ذہانت بیٹا
جا کے پردیس میں احساس ہوا ہے تجھ کو
میں تو کہتا تھا بہت ہو گی مشقت بیٹا
دانہ پانی تو مقدر کا ملا کرتا ہے
ایک جیسی تو نہیں ہوتی ہے قسمت بیٹا
میں جو حالات سے ہارا نہیں اب تک ارشدؔ
ٹوٹنے دیتا نہیں ہے مری ہمت بیٹا
(ارشد محمود ارشد ۔سرگودھا)
غزل
سانسوں کو تیری زلف کی بھینی گھٹا ملی
یادوں کی فصل کو نئی آب و ہوا ملی
کل اس کے پہلو میں رہا پہروں مرا وجود
کل پہلی مرتبہ مجھے میری جگہ ملی
میں نے بھی اپنی آنکھ پہ رکھا حیا کا قفل
اس کو بھی اپنی ماں سے حیا کی دعا ملی
حیران رہ گئے تھے یہ سب دیکھ کر طبیب
کیسے تمہارے چھونے سے مجھ کو شفا ملی
چارہ گروں کی چارہ گری رائیگاں گئی
کیونکر مجھے دعا کی جگہ سے دوا ملی
سلمان ؔزندگی کا ستایا ہوا تھا میں
پھر ایک دن مجھے وہ حسیں دلربا ملی
(سلمان منیر خاور۔ فیصل آباد)
غزل
جیتے جی اس عذاب میں رہنا
یہ حساب و کتاب میں رہنا
جاگتے وقت خواب میں رہنا
لمحۂ اضطراب میں رہنا
تجھ تجلی کے بعد ممکن ہے؟
پھر کسی کا بھی تاب میں رہنا
اس مقدر پہ دل توراضی نئیں
خانۂ صد خراب میں رہنا
کب نکل پائیں گے یہاں سے ہم
کیا گناہ و ثواب میں رہنا
ہوش اڑانے کو میرے کافی ہے
ان کا اکثر نقاب میں رہنا
آپ کو جب کبھی ضرورت ہو
آ کے میرے چناب میں رہنا
زندگی کیا ہے؟یہ فقط تعجیلؔ
دیر تک اک سراب میں رہنا
(سید محمد تعجیل مہدی ۔سیوا سادات، جھنگ)
غزل
خواب کی مانند بکھرے، سب نظارے ہر طرف
آسماں سے گر رہے ہیں، چاند تارے ہر طرف
پھول کھلنے کی وجہ بھی، فصلِ گل ہرگز نہیں
یار نے ہی رنگ ایسے ہیں نکھارے ہر طرف
دشتِ تنہائی میں مجھ کو، کون یہ آواز دے
کر رہی ہے خامشی اب، کچھ اشارے ہر طرف
ہم سفینے لے کے نکلے، بحرِ غم کی موج میں
ڈھونڈتی ہیں اب نگاہیں، بس کنارے ہر طرف
عشق کے بازار میں ہم، لُٹ گئے ہیں اِس طرح
فائدہ اس میں ترا تھا، اور خسارے ہر طرف
اب مرے اندر لگی ہے، عشق کی ایسی لگن
اڑ رہے ہیں دل کی وحشت کے شرارے ہر طرف
عشق کے رستے میں ساگرؔ تو اکیلا ہی چلا
ڈھونڈتا پھرتا ہے کیوں، جھوٹے سہارے ہر طرف
(رجب علی ساگر ۔پہاڑ پور،ڈیرہ اسماعیل خان)
غزل
دل میں عجب طلاطم،طوفاں اٹھا دیے ہیں
اے عشق تو نے ہم کو تحفے بھی کیا دیے ہیں
اک ڈھیر راکھ کا بس، یوں ہی پڑا ہوا تھا
مدت کے بعد اس میں شعلے جلا دیے ہیں
صد شکر اے محبت! تو نے یہ کر دکھایا
جینے کے گر تھے جتنے ہم کو سکھا دیے ہیں
منصب،حسب،نسب سب جوتی کی نوک پر ہیں
سارے ہی بت انا کے پل میں گرا دیے ہیں
یہ جس کی بزمِ عشرت سے تم مکر رہے ہو
احسان تھے جو اس کے کیوں کر بھلا دیے ہیں
مردوں کا کام باہر عورت ہے گھر کی زینت
دونوں کو تو نے مولا شعبے جدا دیے ہیں
دائمؔ میں اس نگاہ پر قربان ہوں کہ جس نے
دنیا کے سب خزینے مجھ پر لٹا دیے ہیں
(ندیم دائم۔ ہری پور)
غزل
غم اگر کوہسار ہے اپنا
تو سفر یادگار ہے اپنا
غرق ہیں تیری چشمِ دریا میں
اب سفینہ تو پار ہے اپنا
ہم نے ظاہر نہیں کیا ہرگز
دل مگر بے قرار ہے اپنا
ہجر بگڑی ہواؤں کی صورت
دل سلگتا سگار ہے اپنا
بعطائے خدائے رنگ و سخن
سازِ نو تار تار ہے اپنا
(انس امان۔ کراچی)
غزل
شعر کہہ کر، تُو خفا ہو تو منائوں تجھ کو
مان جائے تو پھر ایک نوحہ سناؤں تجھ کو
ہاتھ کے میل کی کیا فکر، اترجائے گا
پاس آ ،داغ ہیں دل میں جو، دکھاؤں تجھ کو
حوصلہ کرکے قدم میں نے اٹھایا تھا مگر
کیا ہوا ساتھ مرے کیسے بتاؤں تجھ کو
نہ رکھا مجھ کو کہیں کا تری تصویر نے دوست
سوچتا تھا کہ زمانے سے چھپاؤں تجھ کو
خواہش وصل بڑی ہے مگر اتنا سن لے
مر نہ جاؤں میں اگر ہاتھ لگاؤں تجھ کو
کسی ویرانے میں جا پڑتے ہیں گر تُو مانے
آرزو یہ ہے کہ لوگوں سے بچاؤں تجھ کو
سب تعلق، سبھی رشتے تو گنوا بیٹھا ہوں
ایک بس تُو ہے بھلا کیسے گنواؤں تجھ کو
صاف کہتا ہوں کہ دشوار ہوا ہے طاہرؔ
عشق سے پوچھ کہ کس طور نبھاؤں تجھ کو
(طاہر علی طاہر۔ کراچی)
غزل
گر تم منا سکے مجھے میں مان جائوں گی
آتا ہے تم کو یہ بھی ہنر جان جائوں گی
پوچھوں گی میں کسی سے نہیں تم گئے کدھر
نقشِ قدم سے راستہ پہچان جائوں گی
تصویریں کیا میں یادیں بھی چھوڑوں گی نہ یہاں
لے کر میں گھر سے سارا ہی سامان جائوں گی
سنگدل نہیں ہوں، مجھ پہ مگر وقت جب پڑا
مسلوں گی پھول ،توڑ کے گلدان جائوں گی
گھوموں گی وادی وادی میں وطن ِعزیز کی
لوٹوں گی جب بھی وادیٔ مہران جائوں گی
مہرو ؔتجھے گناہ مبارک مگر یہ سن
دنیا سے میں گئی تو مسلمان جائوں گی
(مہرو سلطان۔ میرپور خاص ،سندھ)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی