اسلام آباد کا انتظامی مستقبل

ملکی سیاسی اور عوامی صورتحال حکومت کے حق میں نہیں ہے

m_saeedarain@hotmail.com

ماضی کی چار حکومتوں کے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں رضامندی نہ ملنے کے بعد الیکشن کمیشن نے گیارہ سال بعد بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری کر دیا ہے جس کے تحت رواں سال 20 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات منعقد ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے ضلعی حکومتوں کے نظام میں بھی ملک میں دو بار مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوئے تھے مگر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو محروم رکھا گیا تھا جہاں کوئی سٹی یا ضلعی حکومت نہیں بن سکی تھی۔

2015 میں مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور اس کے ماتحت ملک کے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت تھی مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی 1988سے 1999تک گیارہ سالوں میں دو دو بار چار حکومتیں رہیں مگر ملک میں بلدیاتی انتخابات ان حکومتی پارٹیوں نے نہیں کرائے اور ملک میں جنرل ضیا الحق حکومت میں تیسری بار بلدیاتی انتخابات 1987 میں ہوئے تھے۔

2015 میں مسلم لیگ کی حکومت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے آرڈر پر پہلی بار جماعتی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے جن میں پنجاب اور اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھاری تعداد میں کامیاب ہوئے تھے اور اسلام آباد میں پہلی بار مسلم لیگ (ن) کا میئر منتخب ہوا تھا جبکہ لاہور ملک کا واحد شہر تھا جہاں کے (ن) لیگی میئر کو سرکاری طور پر لارڈ میئر کہا جاتا تھا۔ جنرل ضیا الحق نے 1979 کے بلدیاتی قانون کے تحت ملک میں تین بار اور جنرل پرویز مشرف نے 2001 کے بااختیار ضلعی نظام کے تحت دو بار بلدیاتی انتخابات کرائے تھے اور سیاسی حکومتوں میں صرف ایک بار بلدیاتی الیکشن ہوا تھا۔

2018 میں پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آ کر سب سے پہلے پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی ادارے توڑ دیے تھے جو مسلم لیگی میئروں اور چیئرمینوں کے تھے اور سیاسی طور پی ٹی آئی حکومت نے ان سب کی جگہ سرکاری ایڈمنسٹریٹر مقرر کیے تھے جن کی برطرفی پنجاب اور اسلام آباد کی ہائی کورٹوں میں چیلنج ہوئی تھی اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے میئر اسلام آباد کو بحال کر دیا تھا جنھیں کچھ دنوں بعد تحریک انصاف حکومت نے دوبارہ برطرف کر دیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت نے اقتدار میں آ کر پہلے پنجاب اور اسلام آباد کے بلدیاتی سربراہوں کے اختیارات محدود کر دیے تھے جہاں پی ٹی آئی کی وفاقی اور صوبائی حکومتیں تھیں۔ سندھ، کے پی اور بلوچستان کے بلدیاتی اداروں نے اپنی مدت مکمل کی تھی جہاں پی ٹی آئی کی کے پی میں صوبائی حکومت تھی مگر کے پی کے بلدیاتی ادارے پی ٹی آئی کے پاس اکثریت میں تھے اور پی ٹی آئی حکومت نے بلدیاتی مدت پوری ہونے پر کے پی میں دو مرحلوں میں بلدیاتی انتخابات کرائے جس کے پہلے مرحلے میں جے یو آئی نے حکومتی امیدواروں کو ہرایا تھا۔

اسلام آباد میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، پھر پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہوئیں جس کے بعد سولہ ماہ (ن) لیگ پھر چھ ماہ نگراں اور اب ڈھائی سال سے زیادہ عرصہ سے (ن) لیگ کی حکومت ہے۔ الیکشن کمیشن نے کئی بار اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے لیے وفاقی حکومتوں کو کہا مگر حلقہ بندیوں کے بہانے 6 بار بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دیے گئے اور آخری بار صدارتی آرڈیننس کے تحت اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات رکوائے گئے اور الیکشن کمیشن کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور صدارتی آرڈیننس کی مدت بھی کب کی ختم ہو چکی اور وفاقی حکومت نے مختلف جواز پیش کیے اور بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔ وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کے اسلام آباد کے تینوں حلقوں پر مشتمل ٹاؤن کونسل بنا کر میئر اسلام آباد پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کا بھی اعلان کیا تھا مگر بعد میں وہ بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔

دو ماہ قبل اگست میں وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا تھا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کی بجائے اسلام آباد کو صوبہ بنا کر 21 رکنی صوبائی اسمبلی بنائی جائے گی مگر بعد میں حکومت اسلام آباد کو نیا صوبہ نہیں بنا رہی ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے 20 دسمبر کو اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول وفاقی حکومت کی رضامندی کے بغیر جاری کر دیا ہے جس پر عمل کا کوئی امکان نہیں ہے۔

مختلف ملکوں کے وفاقی دارالحکومتوں میں صوبے بھی موجود ہیں۔ واشنگٹن، دہلی اور لندن اس کی واضح مثال ہیں کہ جہاں صوبائی حکومتوں کے علاوہ بااختیار مقامی حکومتیں اور بااختیار میئر بھی وہاں منتخب ہوتے آ رہے ہیں۔

 ترقی یافتہ ممالک کے بلدیاتی ادارے اور میئر مکمل بااختیار اور پاکستان میں برائے نام بااختیار بلدیاتی ادارے منتخب ہوتے رہے کیونکہ یہاں ارکان اسمبلی کو بے اختیار بلدیاتی ادارے پسند نہیں کیونکہ اس طرح ان ارکان اسمبلی کو غیر قانونی طور پر وہ ترقیاتی فنڈز ملتے آئے ہیں جو ان کا نہیں بلدیاتی اداروں کا حق ہے۔ ارکان اسمبلی کا اصل کام قانون سازی ہے ،نالیاں، سڑکیں بنوانا نہیں ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل حل کرانا صرف بلدیاتی اداروں کا کام ہے اور بلدیاتی ادارے ہی جمہوریت کی نرسری قرار دیے جاتے ہیں اور اسمبلیوں کی غیر موجودگی ہمیشہ بلدیاتی اداروں کے فروغ، مقامی ترقی اور کامیابی کا ذریعہ رہی ہے۔

 ملکی سیاسی اور عوامی صورتحالحکومت کے حق میں نہیں ہے۔ اسلام آباد کی صوبائی اسمبلی یا میونسپل کارپوریشن کے اگر انتخابات ہوئے اور ملک میں مہنگائی، بے روزگاری میں حکومت عوام کے غصے کی متحمل ہو ہی نہیں سکتی ۔ دنیا کے دارالحکومتوں میں مختلف پارٹیوں کی حکومتیں رہی ہیں۔ دیکھئے اسلام آباد کا انتقامی مستقبل کیا ہوتا ہے؟

Load Next Story