مظلوم انسانوں کی عالمی طاقتوں پر فتح
www.facebook.com/shah Naqvi
ان کے نزدیک دنیا کا فیصلہ صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ کس کے پاس کتنی دولت ہے اور کس کے ہاتھ میں کیسی تلوار ہے۔ یہ تو بالکل ویسی ہی سوچ ہے جسے ہم آج کے دور میں بھی دیکھتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ گفتگو براہ راست ہماری آج کی دنیا سے جڑتی ہے۔ ماخذ واضح طور پر ساتویں صدی کے عالمی نقشے کو آج کی ماڈرن جیو پالیٹکس سے ملاتا ہے اور ڈاکٹر شریعتی کے مضمون کا شاید یہ سب سے طاقتور حصہ ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ روم اور فارس صرف آپس میں نہیں لڑ رہے تھے بلکہ وہ اس خطے کو اپنے مقصد کے لیے استعمال بھی کر رہے تھے۔ آرمینیا اور جارجیا جیسے علاقوں پر ان کے تنازعات تھے۔
انھوں نے عجیب و غریب سمجھوتے کیے ہوئے تھے۔ کس قسم کے ؟ یعنی جارجیا کا گورنر فارس مقرر کریگا۔ لیکن اصول بازنطینیوں کے مانے گا۔ اور سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ عرب قبائل ان دونوں عالمی طاقتوں کی پراکسی وار یعنی بالواسطہ جنگوں کا ایندھن بن رہے تھے۔ اگر ہم اس پراکسی وارز اور اس نظریہ کو اور ذرا کھل کر بیان کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سپر پاورز خود سامنے آ کر اپنا خون بہانے کے بجائے مقامی لوگوں کو خرید کر ان سے اپنی جنگیں لڑوا رہی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج کے دور میں بڑی طاقتیں غریب ملکوں میں باغی گروہوں کی فنڈنگ کرتی ہیں تاکہ اپنے دشمنوں کو کمزور کر سکیں۔ یہ بالکل صحیح مثال ہے۔ شمال میں غسانت قبائل تھے جو بازنطینیوں کے پے رول پر تھے۔ وہ ان کے وفادار تھے اور بازنطینی انھیں استعمال کرتے تھے۔ وسطی عرب کے قبائل کوفارس کی پشت پناہی حاصل تھی انھیں دور بیٹھے بادشاہ اپنی مرضی سے چلا رہے تھے۔
تو اس سب کا مطلب کیا ہے۔ ڈاکٹر شریعتی یہ ساری تاریخ ہمیں کیوں سنا رہے ہیں۔ کیا وہ یہ نہیں کہنا چاہ رہے ہیں کہ آج کی دنیا بھی دراصل اسی ساتویں صدی کی نفسیات میں قید ہیں۔ آج بھی تو دو یا تین بڑی سپر پاورز جو مشرق ، مغرب کو کنٹرول کر رہی ہیں۔ اور باقی تمام کمزور اقوام کو تھرڈ ورلڈ سمجھا جاتا ہے۔ بالکل شریعتی ہمیں ایک آئینہ دکھا رہے ہیں۔ وہ بتا رہے ہیں کہ آج کے ہمارے دانشور اور جو نام نہاد مفکرین ہیں۔ وہ بھی تو بالکل ان قدیم تاجروں کی طرح سوچتے ہیں۔ وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ہماری بقاء ہماری ترقی کسی نہ کسی سپر پاور کے ساتھ الحاق کر لینے میں ہی ہے۔ وہ مادی طاقت سے مرعوب ہو جاتے ہیں۔
جی ہاں۔ وہ مادی طاقت اور ٹیکنالوجی کو دیکھ کر مرعوب ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو مالی طور پر کمزور ہیں وہ کبھی تاریخ بدل ہی نہیں سکتے۔ لیکن تاریخ نے اس بات کو غلط ثابت کیا۔ سچی طاقت کا سرچشمہ سپر پاورز کی غلامی یا ان کے ہتھیاروں پر انحصار کرنے میں نہیں ہے۔
سچی طاقت اس نظریاتی پختگی میں ہے جو عمار ؓ نے صحرا میں سیکھی جو بلالؓ کی زبان سے احد کی صورت میں نکلا اور جو پیغمبرؐ نے اپنے پیروکاروں کے دلوں میں راسخ کیا۔ جب جب وہ مظلوم گروہ اس یقین پر پہنچ گیا کہ حتمی طاقت صرف اللہ کی ہے اور کسی روم یا فارس کی نہیں تو مادی وسائل کی کمی ان کا راستہ نہیں روک سکی۔ انھوں نے لاکھوں کے لشکروں کو ایسے بکھیر دیا جیسے آندھی ریت کے ٹیلوں کو بکھیر دیتی ہے۔ اور یہی وہ سبق ہے جو آج بھی اتنا ہی سچ ہے جتنا چودہ سو سال پہلے تھا۔ کہ جب کوئی گروہ مادی خوف سے آزاد ہو کر ایک سچے نظریے پر اکٹھا ہو جاتا ہے تو وہ دنیا کے طاقتور ترین محلات کی بنیادیں ہلا سکتا ہے۔
شریعتی کی نظر میں طاقت کبھی صرف ہتھیاروں کا نام نہیں رہی۔ یہ ہمیشہ سے ارادے اور یقین کا کھیل رہا ہے۔ہم نے آج کے اس علمی سفر میں واقعی ایک بہت طویل فاصلہ طے کیا ہے۔ ہم نے اس دور کے عالمی نقشے کو سمجھا جہاں مغرور دانشور محض رستم کی کہانیاں سنا کر اس نظریاتی طوفان کو روکنا چاہتے تھے۔ اور اس پورے مطالعے کا نچوڑ دیکھا جائے یہی ہے کہ انسانی روح کی طاقت کے سامنے بڑی سے بڑی مادی طاقت بھی گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔ جب کوئی مقصد زندگی سے بڑا ہو جائے تو موت کا خوف ختم ہو جاتا ہے۔ اور جس انسان یا گروہ سے موت کا خوف ختم ہو جائے تو اسے کوئی سپر پاور کنٹرول نہیں کر سکتی۔
کیا کمال کی بات ہے۔ اس گہری اور معلوماتی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے سننے والوں کے سامنے ایک ایسا سوال شریعتی رکھنا چاہتے ہیں جس میں ماخذ پر براہ راست بات نہیں ہوئی۔ لیکن یہ سوال ان تمام واقعات کے بین السطور میں چھپا ہوا ہے۔ وہ کیا سوال ہے؟ ہم نے اکثر سنا ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتور فاتحین کے قلم سے لکھی جاتی ہے تو ذرا تنہائی میں اس بات پر غور کیا جائے کہ تاریخ کے تاریک اور گمشدہ صفحات میں ایسی کتنی ہی چھوٹی اور بظاہر کمزور تحریکیں ہوں گی جو ہمیشہ کے لیے مٹا دی گئیں۔
وہ تحریکیں جو شاید بظاہر مکمل سچائی پر مبنی تھیں جن کا پیغام حق تھا لیکن انھیں اپنا درد اور پیغام اپنی اگلی نسل تک پہنچانے کے لیے کوئی نہیں مل سکا۔ یہ تو بہت گہرا خیال ہے۔ وہ محض اس لیے زندہ ہیں کہ کچھ گمنام لوگوں نے تاریک کے کسی بنجر صحرا میں اسے بچانے کے لیے اپنے جسم اور روح کی ہر اذیت برداشت کر لی۔ اور اگر ایسا ہے تو آج کے اس دور میں کیا انسان اس سچائی کی حفاظت کرنے کا اہل ہے۔ اس خیال پر اس سوال پر ہمیں ضرور غور کرنا چاہیے۔