اردن: یونانی آرتھوڈوکس چرچ فائرنگ کیس میں 3 مشتبہ افراد گرفتار
اردن میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ پر فائرنگ کے المناک واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
یہ گرفتاری جنوبی اردن کے کرک گورنریٹ کے علاقے حمود میں ایک خالی مکان پر چھاپے کے دوران عمل میں آئی۔
حکام کے مطابق تینوں افراد نے سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور فائرنگ کردی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں تینوں زخمی ہوئے اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
کارروائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں میں سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ مشتبہ افراد کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
یہ حملہ 23 اکتوبر کو سینٹ جارج یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں ایک جنازے کے دوران ہوا تھا۔ مسلح افراد نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور تقریباً 40 زخمی ہوئے۔ واقعے نے اردن میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کردی ہے۔
اردنی حکام نے حملے کو انتہاپسند دہشت گردی قرار دیا ہے، تاہم ابھی تک کسی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ گرفتار افراد کے کسی مسلح گروہ سے تعلق کے بارے میں بھی حکام نے حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔
وزیر داخلہ مازن الفرايہ کے مطابق حکومت اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ نوجوانوں کو انتہاپسندی کی جانب لے جانے والے عوامل کیا ہیں اور حملے میں ملوث ہر شخص کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے گا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے حملے کے بعد سکیورٹی اداروں کو ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اس نوعیت کا فرقہ وارانہ تشدد انتہائی غیر معمولی ہے۔