ہر خطرے کا مقابلہ کریں گے، مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں، تہران کا دوٹوک پیغام

ایران بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر مختلف امکانات کے لیے تیار ہے، ترجمان وزارت خارجہ

تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران ہر ممکن صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے تاہم وہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتا۔ انہوں نے امریکا اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ وہ پورے خطے کو فوجی جارحیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر مختلف امکانات کے لیے تیار ہے، لیکن سفارتی حل کے لیے بھی اس کے دروازے کھلے ہیں۔

بقائی نے امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ دونوں ممالک خطے کے مختلف حصوں کو فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایرانی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں فوجی کارروائیوں کے خدشات پر توجہ مرکوز ہے۔

ایران کی جانب سے سفارت کاری کے لیے آمادگی کا اظہار ایسے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ تہران ایک طرف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کی تیاری کر رہا ہے، تو دوسری طرف مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کا امکان بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص مذاکراتی عمل، مجوزہ معاہدے یا آئندہ سفارتی رابطوں کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔

Load Next Story