ایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمنامے کیخلاف اپیل
فوٹو: فائل
ایمان مزاری اور ہادی علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکمنامے کیخلاف اپیل دائر کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر کیخلاف رکاوٹیں ہٹانے کے کیس میں دونوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ یہ اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ کے 10 ستمبر کے حکمنامے کیخلاف دائر کی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے ذریعے دائر اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جرح کا موقع دیے بغیر ہی استغاثہ کے دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر کے حکمنامے میں ٹرائل کیخلاف عبوری ریلیف نہیں دیا۔
اپیل میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ ہائی کورٹ کے 19 اکتوبر کے حکمنامے کو کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیرئیر ہٹانے کے خلاف کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جیل ٹرائل اور اسٹیٹ کونسل تعیناتی کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی۔
دوران سماعت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جیل ٹرائل کو عدالت کے سامنے چیلنج کر رکھا ہے ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ اس میں ایشو کیا تھا ؟ کس کا اختیار ہے ؟ کیا ملزم کہہ سکتا ہے کہ اس کا ٹرائل کہاں ہو گا ؟
وکیل نے کہا کہ ملزم کو جیل ٹرائل کا فیصلہ کرنے سے پہلے سننا ضروری ہے ۔ ہمارا جیل ٹرائل ایک پنجرے میں، جیل سے عدالت میں لائے جاتے ہیں ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ وجہ کیا ہے وہ بتائیں ، جس پر وکیل ریاست علی آزاد نے کہا کہ سمری ایس پی اسلام آباد پولیس کی جانب سے شروع ہوئی حتمی منظوری چیف کمشنر نے دی ہے ۔ سمری شروع کرنے کا اختیار ایس پی کے پاس نہیں، وفاقی حکومت کو اختیار ہے ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ جیل والی سمری کیا کابینہ میں جائے گی ؟ اوپن کورٹ کا تصور کیا ہے ؟
وکیل نے جواب دیا کہ مجھے سنا نہیں گیا مجھے سنا جانا ضروری تھا ۔