امریکا: دو یہودی مردوں پر حملہ، مسلمان کو معذرت کرکے جانے دیا، خاتون گرفتار
امریکی شہر نیویارک میں دو یہودی مردوں پر الگ الگ حملوں کے الزام میں 32 سالہ خاتون اینا موچالوا کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے تحت مقدمہ درج کردیا گیا ہے۔
دونوں واقعات مین ہٹن کے ڈائمنڈ ڈسٹرکٹ میں تقریباً پانچ منٹ کے وقفے سے پیش آئے۔ پولیس کے مطابق پہلے واقعے میں ملزمہ نے مبینہ طور پر روایتی حسیدک یہودی لباس پہنے 26 سالہ شخص کا پیچھا کیا اور اسے ایک گاڑی کے قریب گھیرنے کے بعد کمر پر کسی نوکیلی چیز سے زخمی کیا۔
تقریباً پانچ منٹ بعد ایک دوسرے 37 سالہ یہودی شخص کو مبینہ طور پر پیچھے سے دھکا دیا گیا اور اس کے بازو پر زخم آیا۔ شکایت کے مطابق خاتون نے روسی زبان میں اسے دھمکی دی کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے، ورنہ اسے گولی مار دی جائے گی، اور جیکٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر پستول ہونے کا تاثر بھی دیا۔
تحقیقات میں ایک اہم بات یہ بھی سامنے آئی کہ ملزمہ نے ایک تیسرے شخص سے مبینہ طور پر پوچھا کہ کیا وہ یہودی ہے۔ جب اس شخص نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے تو خاتون نے معذرت کی اور وہاں سے چلی گئی۔
استغاثہ کے مطابق یہ واقعہ اس شبہے کو مضبوط کرتا ہے کہ متاثرین کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
موچالوا کو گرفتار کرکے اس پر نفرت انگیز جرم کے طور پر حملے، دھمکی، غیرقانونی طور پر ہتھیار رکھنے اور مذہب کی بنیاد پر ہراساں کرنے سمیت متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے ضمانت 50 ہزار ڈالر نقد یا 150 ہزار ڈالر کے بانڈ پر مقرر کی ہے، جبکہ اسے 29 اکتوبر کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونا ہے۔