تعلیمی مساوات، روشن مستقبل کی جدوجہد
کسی قوم کے مستقبل کا فیصلہ اس کے ایوانوں میں ہونے والی تقریروں سے نہیں، ان مواقع سے ہوتا ہے جو وہ اپنے محروم ترین بچے کو فراہم کرتی ہے، اگر ایک غریب گھرانے کا ذہین طالب علم جدید علوم تک رسائی حاصل کرلے تو اس کی کامیابی صرف اس خاندان کی تقدیر نہیں بدلتی، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھول دیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر قابلیت وسائل کی قلت، فرسودہ تعلیمی نظام اور حکومتی غفلت کی نذر ہوجائے تو قومیں اپنے ہی ہاتھوں اپنے مستقبل کی بنیادیں کمزور کردیتی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے سرکاری اسکولوں اور مدارس کے پانچ لاکھ ہونہار طلبہ و طالبات کو کروم بکس اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ ڈیجیٹل وسائل کی یہ فراہمی قومی نظامِ تعلیم کی وسیع تر اصلاحات سے کس حد تک منسلک کی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ دو برس میں پانچ لاکھ مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے، تاکہ وہ گھر بیٹھے برقی کتب خانوں سے استفادہ کرسکیں، دنیا بھر کے علمی ذخیرے تک رسائی حاصل کریں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں۔ اس منصوبے میں مدارس کے طلبہ کو شامل کرنا بھی قابلِ توجہ ہے، کیونکہ جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کسی مخصوص طبقے یا تعلیمی ادارے کی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے۔ قابلیت نہ مذہبی اور عصری تعلیم کی تقسیم کی پابند ہے، نہ شہری اور دیہی حدود کی۔ ایک دور افتادہ بستی میں بیٹھا ذہین طالب علم بھی وہی علمی امکانات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے جو بڑے شہر کے کسی خوش حال گھرانے کے بچے کو میسر ہیں۔
اس منصوبے کے لیے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کی معاونت، انٹرنیٹ کی سہولت اور ضروری تعلیمی سامان کی فراہمی امید افزا پیش رفت ہے۔ ماضی میں دس برس کے دوران چھ لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے مقابلے میں دو برس میں پانچ لاکھ کروم بکس فراہم کرنے کا ہدف حکومتی ترجیحات میں تیزی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم محض آلات کی تعداد کو کامیابی کا حتمی پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان آلات سے کتنے طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوگا، کتنے نوجوان ڈیجیٹل مہارتیں سیکھیں گے اور کتنے افراد ان صلاحیتوں کو باعزت روزگار میں تبدیل کرسکیں گے۔ کمپیوٹر علم تک رسائی کا وسیلہ ہے، علم کا متبادل نہیں، اس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، موزوں نصاب، مستحکم انٹرنیٹ اور رہنمائی کا موثر نظام بھی درکار ہے۔اگر کسی طالب علم کو کروم بک تو مل جائے لیکن اس کے اسکول میں بجلی، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل تدریس کی سہولت موجود نہ ہو تو یہ قومی سرمایہ اپنی پوری افادیت حاصل نہیں کرسکے گا۔ اسی طرح آلات کی تقسیم میں شفافیت، مستحق طلبہ کی درست نشاندہی، ان کی حفاظت، مرمت اور تکنیکی معاونت کے مستقل انتظامات بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ منصوبے کے نتائج باقاعدگی سے شائع کرے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کتنے طلبہ مستفید ہوئے، ان کی تعلیمی کارکردگی میں کیا تبدیلی آئی اور اس سرمایہ کاری نے عملی زندگی کے لیے کون سی نئی استعداد پیدا کی۔ اس طرح ایک خوش آئند اعلان قابلِ پیمائش قومی منصوبے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
اسی کے ساتھ دانش اسکولوں کا منصوبہ بھی اہم ہے۔ وزیراعظم کے مطابق ملک بھر میں ستائیس دانش اسکول زیر ِ تعمیر ہیں، جہاں مستحق بچوں کو مفت تعلیم اور سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ ایسے ادارے اس تصور کو تقویت دے سکتے ہیں کہ غربت کسی بچے کی ذہانت اور مستقبل پر فیصلہ کن مہر نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم دانش اسکولوں کی کامیابی اسی وقت وسیع قومی تبدیلی کا ذریعہ بنے گی جب معیاری تعلیم چند مخصوص اداروں تک محدود رہنے کے بجائے عام سرکاری اسکولوں تک بھی پہنچے۔ چند مثالی درس گاہیں قومی تعلیمی نظام کی عمومی کمزوری کا مکمل متبادل نہیں بن سکتیں۔ ریاست کی اصل آزمائش یہ ہے کہ وہ لاکھوں عام بچوں کے لیے بھی معیاری تعلیم کے امکانات پیدا کرے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتِ حال اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد جیسے بڑے شہری مراکز میں سرکاری جامعات مختلف علمی اور فنی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی، داخلوں کی طلب، تحقیقی ضروریات اور جدید پیشہ ورانہ تعلیم کے تقاضوں کے مقابلے میں ان کی گنجائش اور وسائل کا جامع جائزہ ناگزیر ہے۔ ملک بھر میں موجود یونیورسٹیاں اور دیگر سرکاری ادارے اعلیٰ تعلیم کے اہم مراکز ہیں جو اہم کردار ادا کررہی ہیں۔
ان اداروں کا وجود یقیناً قومی اثاثہ ہے، لیکن محض جامعات کے نام اور تعداد گننے سے تعلیمی ضرورت پوری ہونے کا ثبوت نہیں ملتا۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ ہر سال کتنے طلبہ داخلے سے محروم رہتے ہیں، تدریسی عملے کی کتنی آسامیاں خالی ہیں، تجربہ گاہوں اور کتب خانوں کی حالت کیا ہے، تحقیق کے لیے کتنے وسائل دستیاب ہیں اور فارغ التحصیل نوجوانوں کو روزگار کی منڈی میں کس نوعیت کے مواقعے ملتے ہیں۔ اسی طرح مختلف شہروں میں سرکاری جامعات کی تعداد بیان کرتے ہوئے مرکزی جامعات، ذیلی کیمپسوں اور تخصصی اداروں کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے، تاکہ اعدادوشمار محض تاثر پیدا کرنے کے بجائے درست منصوبہ بندی کی بنیاد بن سکیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کے بیشتر انتظامی اور پالیسی معاملات میں صوبائی ذمے داریوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ صوبائی حکومتیں وفاق سے مالی وسائل کی تقسیم اور آئینی اختیارات کے معاملات پر اپنا مؤقف اختیار کرنے میں حق بجانب ہوسکتی ہیں، لیکن انھیں اپنے صوبوں کے تعلیمی نتائج کا جواب بھی دینا ہوگا۔ ہر صوبائی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کے بجٹ میں تعلیم کے لیے کتنی رقم مختص کی گئی، اس میں سے کتنی حقیقتاً خرچ ہوئی، کتنے نئے اسکول اور کالج قائم کیے گئے، کتنی جامعات کا اضافہ ہوا اور موجودہ اداروں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے۔ خودمختاری کا حقیقی مفہوم اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ہے، اگر وسائل اور اختیارات موجود ہوں لیکن تعلیمی نتائج میں بہتری نہ آئے تو محض وفاق سے اختلافات کو ناکامی کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔
صوبائی حکومتوں کو تعلیم کے بجٹ میں اضافے کے ساتھ اس کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی، عمارتوں کی حفاظت، صاف پانی، بجلی، بیت الخلا اور جدید تدریسی وسائل بنیادی ضروریات ہیں۔ کالجوں میں سائنسی اور فنی تعلیم کی سہولتیں بڑھانا، جامعات میں تحقیقی ماحول پیدا کرنا اور اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی تعلیمی اصلاحات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ نئی جامعہ قائم کرنا ہر مسئلے کا فوری حل نہیں، بعض علاقوں میں موجودہ کالجوں کو مضبوط بنانا، علاقائی کیمپس قائم کرنا یا فاصلاتی تعلیم کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کرنا زیادہ موثر اور کم خرچ راستہ ثابت ہوسکتا ہے۔ فیصلے سیاسی تشہیر کے بجائے مقامی ضرورت، طلبہ کی تعداد اور دستیاب وسائل کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔
تعلیمی اصلاحات کے ضمن میں ایک اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ حکومتیں ہر سال تعلیمی کارکردگی کی مفصل رپورٹ عوام کے سامنے پیش کریں، جس میں بجٹ کے استعمال، طلبہ کے داخلوں، تعلیمی نتائج، اساتذہ کی حاضری اور اداروں میں دستیاب سہولتوں کی حقیقی صورتِ حال واضح ہو۔ پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی ان نتائج پر باقاعدہ بحث ہونی چاہیے، تاکہ تعلیم سیاسی وعدوں کے بجائے قومی ترجیحات کا مستقل حصہ بنے۔ جب تک ناقص کارکردگی پر بازپرس اور بہتر نتائج کی حوصلہ افزائی کا نظام قائم نہیں ہوگا، وسائل کی فراہمی مطلوبہ تبدیلی پیدا نہیں کرسکے گی۔
پاکستان کو ایک ایسی مربوط تعلیمی حکمت عملی درکار ہے جو اسکول سے جامعہ اور جامعہ سے روزگار تک ہر مرحلے کو باہم مربوط کرے۔ ڈیجیٹل آلات کی فراہمی، دانش اسکولوں کی تعمیر، سرکاری جامعات کی مالی معاونت، نجی اداروں کے معیار کی نگرانی اور مستحق طلبہ کے لیے وظائف ایک ہی قومی مقصد کے مختلف پہلو ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کو قابلِ پیمائش اہداف، مشترکہ منصوبہ بندی اور شفاف احتساب کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔
قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتی ہے جب حکومتی اعلانات عام شہری کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ پانچ لاکھ طلبہ کو جدید آلات کی فراہمی ایک قابلِ قدر قدم ہے، مگر اس کی تکمیل اسی وقت ہوگی جب ہر بچے کو معیاری تعلیم، ہر نوجوان کو اعلیٰ تعلیم تک منصفانہ رسائی اور ہر محنتی طالب علم کو اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع میسر آئے۔ پاکستان کا مستقبل ان لاکھوں نوجوانوں کی اجتماعی صلاحیت میں پوشیدہ ہے جنھیں درست رہنمائی، مناسب وسائل اور مساوی مواقع فراہم کرکے قومی ترقی کا مؤثر حصہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ تعلیم پر خرچ ہونے والا سرمایہ محض بجٹ کا بوجھ نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی خودمختاری، خوش حالی اور قومی وقار کی بنیاد ہے۔